بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جی ٹی روڈ پر سیاسی سفر تاریخ کے آئینے میں

جی ٹی روڈ پر سیاسی سفر تاریخ کے آئینے میں


اسلام آباد۔جی ٹی روڈ پر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ خوب سیاسی ہلہ گلہ ہونے والا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب جی ٹی روڈ پر سیاسی چہل پہل ہو رہی ہے۔ ماضی میں کیا ہوتا رہا؟ ۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق برصغیر کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو جی ٹی روڈ پر سیاسی سفر کا آغاز 1940 سے ہوا۔ تاریخ میں پہلی بار قائد اعظم محمد علی جناح کا لاہور ریلوے سٹیشن پر والہانہ استقبال کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ قیوم کے سربراہ قیوم خان نے جی ٹی روڈ پر بڑے جلوس کی قیادت کی۔ ایوب خان دور میں محترمہ فاطمہ جناح نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں ٹرین مارچ کیا اور صدارتی مہم چلائی۔ معاہدہ تاشقند کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ٹرین مارچ کو تاریخی قرار دیا جاتا رہا۔ 10 اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

1992 میں بے نظیر بھٹو نے نواز حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا، اس دوران مظاہرین اور پولیس میں تصادم بھی ہوا۔اس کے بعد مسلم لیگ نواز نے عدلیہ بحالی کیلئے 2009 میں لانگ مارچ کیا، تاہم گوجرانوالہ تک پہنچنے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ بحالی کا اعلان کر دیا۔ 2014 میں انتخابی دھاندلی کے الزامات پر عمران خان نے لاہور سے راولپنڈی کی طرف مارچ شروع کیا جو دو دن میں مکمل ہوا۔