بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں آرڈی سنٹرز کے قیام کا معاہدہ 

خیبر پختونخوا میں آرڈی سنٹرز کے قیام کا معاہدہ 

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا اورHefei انسٹیٹیوٹ برائے پبلک سیفٹی ریسرچ سنگوا(Tsinghua)یونیورسٹی بیجنگ کے مابین خیبرپختونخوا میں مشترکہ طور پر پبلک سیفٹی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کے میدان میں سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریز / آر اینڈ ڈی سنٹرز کے قیام کیلئے معاہدے کا خیر مقد م کیا ہے ۔

انہوں نے سی پیک کے تناظر میں خیبرپختونخو ا میں سرمایہ کاری اور دو طرفہ مفادات کے تحت باہمی تعاون کیلئے سنگوایونیورسٹی اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کی مشترکہ کاوشوں کو سراہااور کہاکہ صوبائی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ کے تناظر میں صوبے میں وسیع سرمایہ کاری پلان کر چکی ہے۔مذکورہ معاہدے سے سی پیک فریم ورک سے ہم آہنگ دوطرفہ تعاون کو تقویت دینے میں مدد ملے گی ۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں انسٹیٹیوٹ برائے پبلک سیفٹی ریسرچ سنگوا یونیورسٹی بیجنگ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے مابین صوبے میں سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریز/ آرڈی سنٹرز کے قیام کیلئے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر سنگوایونیورسٹی کے جنوبی ایشیاء کیلئے نمائندے پنگ پو او رمحکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے نمائندہ نے معاہدے پر باضابطہ دستخط کئے ۔معاہدے کے تحت انسٹی ٹیوٹ فار پبلک سیفٹی ریسرچ سنگوا یونیورسٹی خیبر پختونخوا میں مجوزہ انٹرنیشنل ریسرچ سنٹرز/ لیبارٹریز کے قیام کیلئے ٹیکنالوجی کی ترسیل کا ذمہ دار ہوگا اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے چھ ماہ یا ایک سال کے دورانیہ کیلئے نامزد اُمیدواروں کو سنگوا فیکلٹی کی نگرانی میں مفت رہائش اور ریسرچ کی سہولیات فراہم کرے گا۔ اسی طرح سنگوا یونیورسٹی چین کی حکومت کے سکالرشپس پروگرام کے تحت گریجویشن اور انڈر گریجویٹ سٹڈی کیلئے خیبرپختونخوا سے 5 سے 10 طلباء کو سکالرشپس فراہم کرے گی ۔

معاہدے کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا بین الاقوامی ریسرچ سنٹرز / لیبارٹریز کے قیام کیلئے اراضی ، عمارت اور متعلقہ سکیورٹی سہولیات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوگااور مذکورہ مقاصد کے حصول کیلئے سنگوا یونیورسٹی کے شراکت دار کے طور پر یونیورسٹیز نامزد کرے گا۔محکمہ اعلیٰ تعلیم سرکاری یونیورسٹیوں میں سی پیک فریم ورک کے تحت سرمایہ کاری کیلئے وفاق اور صوبے کے قوانین کے مطابق ٹیکس چھوٹ کی فراہمی یقینی بنائے گااور درکار افرادی قوت فراہم کرے گا۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں میں اُردو زبان کے پروگرام کیلئے سنگوایونیورسٹی کے نامزد طلباء ، سٹاف ، پروفیشنلز اور سرکاری افسران و اہلکاروں کو 50 فیصد تک سکالرشپس فراہم کرے گا۔

فریقین کی جانب سے چھ ماہ یا ایک سال کی مدت کیلئے ہائی ٹیک ریسرچ کیلئے طلباء اور فیکلٹی کا تبادلہ ہو گا۔معاہدے کے تحت نامز د یونیورسٹیاں فراہم کئے گئے وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوں گی ۔قبل ازیں وفد نے سمارٹ اینڈ سیف سٹی سلوشن برائے پشاور کی بھی پیشکش کی ۔ تقریباً 80ملین ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت پشاور میں سیفٹی انسٹیٹیوٹ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے اورفیکلٹی کے تبادلے، صنعتکاری، آلات سازی ، پبلک ایجوکیشن اور ٹریننگ میں باہمی تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جے سیفٹی کمپنی اس پراجیکٹ کے تحت بنیادی طور پر پشاور میں ایک بین الاقوامی معیار کا سیفٹی انسٹیٹیوٹ قائم کرنا چاہتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف پشاور کے لئے ایک دیرپا سیف سٹی پروگرام بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملک کے دیگر شہروں تک بھی اس ادارے کی خدمات کو توسیع دی جا سکے گی جو صوبائی حکومت کی خاطر خواہ آمدنی کا ذریعہ ہو گا۔

سیف سٹی سلوشن پروگرام کاسٹرکچر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ،پبلک سیکیورٹی مینجمنٹ ، قدرتی آفات کی مانیٹرنگ اور وارننگ، پبلک ٹرانسپورٹ سیفٹی اور دیگر فیچرز پر مشتمل ہو گا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ایک مرکزی کمانڈنگ روم جبکہ چار ذیلی کمانڈنگ روم ہوں گے۔اس منصوبے کے لئے روڈ میپ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روڈ سیفٹی پراجیکٹ، آلات سازی، پبلک ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سمیت صنعتکاری کی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔

وزیر اعلیٰ نے مجوزہ منصوبے کو سراہا اور خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے لئے گہری دلچسپی لینے پر کمپنی کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت سیف سٹی پشاور منصوبے پر پہلے سے کام کر رہی ہے تاہم اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ، محکمہ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں سے مشاورت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو وفد کے محکمہ داخلہ کے ساتھ اجلاس کے انعقاد جبکہ دیگر محکموں کے ساتھ مشاورت کی ہدایت کی۔