بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کیلئے مراعات کی منظوری

خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کیلئے مراعات کی منظوری


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے خیبر پختونخوا ریونیواتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے اور اتھارٹی کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیلئے کارکردگی کی بنیاد پرمراعات کیلئے ریوارڈ ریگولیشن 2017 کی اُصولی منظوری دی ہے اور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بین الاقوامی ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی فنی معاونت کے حصول کا باضابطہ اختیار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اتھارٹی کی ریونیو جنریشن پراگرس پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ اتھارٹی کو ہر سال ریونیو جنریشن کا ہدف پچھلے سال کی نسبت زیادہ دیا جاتا ہے۔اُس کے باوجود یہ متعین ہدف سے زیادہ ریونیوجنریٹ کرتی ہے جس کا ماضی کی حکومتوں سے موازنہ کیا جائے تو فرق نظر آتا ہے جو محکمے کی اعلیٰ کارکردگی کا عکا س ہے ۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی پالیسی کونسل کے پانچویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہدقریشی ، صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل، ایم پی اے خلیق الرحمن ، چیف سیکرٹری عابد سعید ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں کونسل کے چوتھے اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اورسابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بریف کیا گیا ۔

اجلاس کو بتا یا گیا کہ پالیسی کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں ایک جامع ریکروٹمنٹ پلان وضع کیا گیا جس کے تحت بھرتیوں کا عمل جاری ہے ۔ کیپر ایکٹ کا مسودہ تیا رہے جس کی اتھارٹی سے جلد منظوری لی جائے گی ۔ اس کے علاوہ کیپر ا کی نئی ویب سائٹ بھی 10 ستمبر تک تیار ہو گی جس پر تمام تفصیلات موجود ہوا کریں گی ۔ وزیراعلیٰ نے ٹیلی کام کی سپیشل آڈٹ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایف بی آر کے ساتھ اجلاس کے انعقاد کی ہدایت کی ۔

انہوں نے ٹیکس چوری کی گنجائش ختم کرنے کیلئے ٹیکس وصولی کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کرکے ٹیکس فکس کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہاکہ ٹیکس فکس کرنے کی وجہ سے چوری سے بچ جائیں گے کیونکہ اکثر اوقات سروسز کم ظاہر کی جاتی ہیں تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے ۔اجلاس کو اتھارٹی کے کام میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ڈبل ٹیکس ادائیگی کا معاملہ بھی اُٹھا یا گیا ۔ اس پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ محکمہ صنعت اور ایکسائز اس مسئلے کے حل کیلئے قابل عمل تجویز دیں ۔

اجلا س کو اتھارٹی کے عدالت میں مختلف کیسز کے سلسلے میں قانونی معاون کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا جس پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ حکام کی مشاور ت سے قانونی آپشن اختیار کیا جائے اور قابل عمل طریقہ کار نکالا جائے تاکہ ریونیو جنریشن میں رکاوٹ نہ آئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ریونیوجنریشن کے سلسلے میں اگر چہ اتھارٹی کی کارکردگی بہت اچھی ہے تاہم ہم نے اسے مزید بہتر بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر حکومت ہر بجٹ میں ریونیو جنریشن کا ٹارگٹ بڑھاتی ہے جب ہم اتھارٹی کو ٹارگٹ زیاد ہ دیتے ہیں مقر ر شدہ اُس ٹارگٹ کے حصول پر اُس کی کارکردگی کا اعتراف بھی ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقوں میں کم ریونیو جنریشن کی باتیں گردش کرتی ہیں اور اکثر اوقات میڈیا میں بھی یہی تاثر دیکھنے کو ملتا ہے جو اصل صورتحال کے بالکل برعکس ہے ۔

انہوں نے محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ میڈیا میں ریونیو جنریشن کی اصل صورتحال پیش کریں کیونکہ اس وقت یکطرفہ تصویر دکھائی جارہی ہے اور کارکردگی کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔منفی تصویر کشی حقائق کے برعکس ہے ۔ انہوں نے ریسورس جنریشن میں اپنی حکومت اور سابقہ حکومتوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کا ریونیو جنریشن سابقہ صوبائی حکومتوں سے بہتر ہے اور اس وقت دیگر صوبوں سے کسی صورت کم نہیں ۔ ہمیں اصل حقائق کو منظر عام پر لانا چاہیئے تاکہ لوگ ریونیو جنریشن کی حقیقی صورتحال سے آگاہ ہو سکیں ۔