بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / توہین کا ذمہ دار کون!؟

توہین کا ذمہ دار کون!؟

آٹھ ماہ تک قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنیوالے نوازشریف کی نہ صرف یاداشت واپس آ گئی ہے بلکہ انہیں پارلیمنٹ کی اہمیت کا احساس بھی شدت سے ستا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عدالت عظمیٰ سے نااہل قرار پانے کے بعد انہوں نے راولپنڈی میں کارکنوں سے عہد لیا ہے کہ وہ مینڈیٹ کی توہین نہیں ہونے دیں گے! لمحۂ فکریہ ہے کہ جنہوں نے مینڈیٹ دیا‘ اب یہ ذمہ داری بھی اُنہی کی ٹھہری کہ وہ مینڈیٹ کی حفاظت بھی کریں! کیا یہ مینڈیٹ کی توہین نہیں کہ وزیراعظم کے صاحبزادے اپنی جان ومال کو پاکستان میں محفوظ نہیں سمجھتے؟ کیا یہ اَمر بھی مینڈیٹ کی توہین کے زمرے میں نہیں آتا کہ بچے کھرب پتی بن گئے؟ قوم کو آج تک یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جس اعلیٰ تعلیم کیلئے وزیراعظم کے صاحبزادے بیرون ملک گئے تھے کیا وہ تعلیم مکمل ہو گئی ہے تو اس سند کا نام کیا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کون کر رہا ہے؟ریاست کے سبھی ادارے ریاست کے سب سے معزز ادارے کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں تو کیا یہ (سیاسی) مینڈیٹ کی توہین نہیں؟ پارلیمنٹ میں تقریر کرنے کے بعد عدالت میں اسے سیاسی بیان قرار دینا مینڈیٹ کی توہین نہیں؟ چار سال میں انگلیوں پر شمار ہونے کی تعداد میں پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت مینڈیٹ کی توہین نہیں؟حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف کی تاحیات نااہلی کا اطلاق صرف حکومتی عہدے سے علیحدگی کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لے سکتے اور دانستہ طور پر خود اور دیگر رہنماؤں کی زبانی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے عدلیہ اشتعال کا مظاہرہ کرے! تیس برس سے زائد ملکی و عالمی سیاست کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے نوازشریف کا انجام یقیناًبہتر ہونا چاہئے تھا اور ایسا ہوتا اگر وہ بروقت احساس کر لیتے۔ پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے۔ جمہوری اداروں کو مضبوط کرتے اور طاقت کے سرچشمے عوام میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرتے!

ہر حکمران کی طرح افسرشاہی نے نوازشریف کو بھی ’آخری وقت تک دھوکے میں رکھا اور اُنہیں یہ بھی بتایا جاتا رہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار اور طلب میں اٹھارہ سو سے دوہزار میگاواٹ کمی ہے یہی گمراہ کن اعدادوشمار پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی بیان کئے جاتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ توانائی بحران سے نمٹنے کی خاطرخواہ منصوبہ بندی نہ ہو سکی اس منظرنامے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی غیرمتوقع طور پر مختلف ثابت ہوئے ہیں اور اُنہوں نے اپنی وزارت عظمی کے پہلے تین روز مسلسل ’بجلی کی پیداوار‘ کے حوالے سے پے درپے اجلاسوں کی صدارت کی اور ماضی کی پالیسیوں پرنظرثانی کا حکم دیا ہے۔ ان کے اس اقدام کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ ماضی میں خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہے اور موقع ملتے ہیں توانائی بحران کے حل کے لئے فعال ہو گئے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔ چار سال ایک ماہ سے زائد عرصہ حکومت کرنے کے بعد نوازشریف نے پاکستان کو ’پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کا شارٹ فال‘ دیا۔ بجلی کے پیداواری اداروں کا گردشی قرضہ 800 ارب روپے تک جا پہنچا اور یہی وجہ ہے کہ اگر شاہد خاقان زمینی حقائق کا ادراک کرنے میں کوتاہی کرتے تو ملک ’پاور سیکٹر‘ کے بدترین بحران کے کنارے تو پہلے ہی کھڑا ہے اور اس موقع پر معمولی سا عدم توازن بھی نقصان کو مزید بڑھا دے گا۔شاہد خاقان پوری طرح ان ایکشن نظر آتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے چین کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ لاہور کے قریب ایک عدد آئل ریفائنری قائم کرے۔ کیا صرف چین ہی دنیا کا ایسا ملک رہ گیا ہے جسے آئل ریفائنری کے لئے مدعو کیا جائے؟ اگر یورپی اور امریکی کمپنیاں جو کہ معیار کے لحاظ سے چین کے مقابلے بہتر ہیں پاکستان میں کام نہیں کرنا چاہتیں تو اس کی وجہ ترقیاتی منصوبوں کے کمیشن کا تقاضا ہے۔

یورپی کمپنیاں کمیشن دینے اور معیار پر سمجھوتہ کرنے سے بہتر اس بات کو سمجھتی ہیں کہ وہ کاروبار ہی نہ کریں! پاکستان کے محکموں میں مالی بدعنوانیاں اس انتہاء کی ہیں کہ سوائے کوریا اور چین ہمارے ہاں کوئی بھی تشریف لانا پسند نہیں کرتا‘ یقیناًشاہد خاقان توانائی بحران کی طرح ملک کی اِس ساکھ کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور ترقیاتی کاموں میں ہونے والی بدعنوانی کا نوٹس لیں گے۔ پاکستان کی اضافی یومیہ ضرورت 2 لاکھ 50ہزار بیرل ہے‘ جس کے لئے نئی ریفائنری اپنی جگہ ایک ضرورت لیکن اس سے خام تیل کی درآمد بڑھ جائیگی جو پہلے ہی 65فیصد کو چھو رہی ہے۔ کراچی سے لاہور تک ایل این جی پائپ لائن منصوبہ بھی ناگزیر ضرورت ہے تاکہ آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کی آئے روز ہڑتالوں سے رسد کا نظام متاثر نہ ہو۔ اپنے وسائل کو ترقی دینے اور خودانحصاری کی طرف قدم قدم بڑھنے کے لئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ذریعے غذائی خودکفالت اور توانائی میں خود انحصاری جیسے اہداف کو حاصل کرنا ہوگا۔’آئل ریفائنری‘ کے قیام کی طرح ضرورت اپنی جگہ اہم لیکن ملک میں تیل وگیس کے نئے ذخائر کی تلاش کا ملتوی عمل بھی زیادہ بڑے اور وسیع پیمانے پر شروع ہونا چاہئے۔