بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / غور طلب معاملات اور میڈیا

غور طلب معاملات اور میڈیا

مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کی مجموعی صورتحال‘ افغانستان کی سرزمین کا تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف استعمال ‘بھارت کا امریکہ کی آشیر باد سے خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ‘امریکہ کی ایران‘ چین اور روس کے خلاف نئی صف بندی اور اس تناظر میں ان ممالک کی جوابی حکمت عملی‘ پاک چین اقتصادی تعاون کی راہ میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں وغیرہ یہ سب معاملات ان بیرونی چیلنجز کے عکاس ہیں جن کا پاکستان کو بلواسطہ یا بلا واسطہ طور پر سامنا ہے اور جنھیں پاکستانی میڈیا پر زیر بحث لانا ضروری ہے۔ ملک کو اندرونی طور پر درپیش مصائب و آلام کی فہرست اس سے بھی طویل ہے خط غربت کے آس پاس اور اس سے نیچے زندگی گزارنے والی کثیر آبادی کو درپیش مشکلات اور انکا حل ‘نظام قانون و انصاف اور نظام تعلیم و صحت سمیت تمام شعبوں میں ناگزیر اصلاحات‘ درآمدات و برآمدات میں عدم توازن سمیت اقتصادی شعبے کو درپیش چیلنجز‘ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی صورتحال ‘ملکی اداروں کی باہمی غلط فہمیاں اور آپس کا ٹکراؤ ‘پارلیمنٹ کی ناقص کارکردگی اور ان جیسے متعدد دیگر مو ضوعات بھی میڈیا کی کل وقتی توجہ کے متقاضی ہیں سوچا تھا کہ پانامہ کیس فیصلے کے بعدپانامہ ہنگامہ تھمے گا تو پاکستانی میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا ملک و قوم کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز اجاگر کرنے اور ان سے مقابلے کیلئے تجاویزسامنے لانے کا فریضہ سرانجام دینے پر توجہ مرکوز کرے گا لیکن پانامہ کیس فیصلے کے نتیجے میں وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد میڈیا کو اس بحث نے لپیٹ میں لے لیا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط؟

فیصلے کے حوالے سے قانونی مضمرات ‘ عوامی رد عمل اور مستقبل پر اس کے اثرات موضوع سخن بن گئے ‘اس فیصلے میں میاں نواز شریف اورانکے اہل خانہ کیخلاف ریفرنسز کے حوالے سے نیب اور نیب کورٹ کو دی جانے والی ہدایات کے ممکنہ نتائج پر بھی بحث مباحثے ہونے لگے اسی دوران نئی کابینہ سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی ‘نئے وزیر اعظم اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بارے میں ٹاک شوز منعقد ہوئے‘ نئی کابینہ کے نام سامنے آنے کے بعد یہ بحث چل پڑی کہ نئی کابینہ میں شامل کون کون سے وزیر کا قلمدان اس کی صلاحیتوں سے مطابقت رکھتا ہے اور کون کون اپنے متعلقہ محکمے کی سربراہی کی اہلیت نہیں رکھتا،ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ نئی کابینہ کے اراکین کی نامزدگی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں محاذ آرائی کو جنم دے گی یا مفاہمت کی راہ ہموار کرے گی اور اس کابینہ کی تشکیل سے مسلم لیگ (ن) کون کون سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی جستجو میں ہے ؟ ادھر پانامہ کیس فیصلے کے بعد ایک طرف پی ٹی آئی کا آئندہ لائحہ عمل جومیاں نواز شریف اور انکے اہل خانہ کیخلاف نیب ریفرنسز کا مستعدی سے تعاقب کرتے رہنے ، شہباز شریف کیخلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کو اچھالنے اور نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف مبینہ بد عنوانی کے تازہ کیسز قائم کرنے جیسے اعلانات پر مبنی تھا میڈیا میں چھایا رہا تو دوسری طرف عمران خان کی نااہلی کیلئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن کے تناظر میں تجزیے و تبصرے سر چڑھ کر بولتے رہے۔

رہی سہی کثر عائشہ گلالئی کے الزامات اور ان الزامات کے جواب میں آنیوالے تند و تیز بیانات کی کوریج نے پوری کر دی دریں اثناء میاں نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور براستہ جی ٹی روڈ روانگی کا موضوع بھی الیکٹرانک میڈیا پر تختہ مشق بن گیا،سو پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد بھی الیکٹرانک میڈیا درست سمت کا تعین کرتا نظر نہیں آرہا،ایسا کیوں ہے ؟وہ کیا عوامل ہیں جو ملک و قوم کو درپیش اہم چیلنجز اور انکے حل سے متعلق اظہار خیال کا راستہ روک کر غیر اہم یا اہم قومی معاملات کے مقابلے میں انتہائی کم اہمیت کے حامل ایشوز کی وسیع کوریج کا باعث بن رہے ہیں ؟ ٹی وی چینلز پرمثبت‘ تعمیری اور مفاہمانہ افکار و خیالات رکھنے والی شخصیتوں کے مقابلے میں منفی‘ تخریبی اور مخاصمانہ نظریات کے حامل افرادکی پذیرائی کیوں؟ کیا یہ ناظرین کا دباؤ ہے کہ انھیں سیاسی ہنگامہ آرائی‘ ذاتی نوعیت کی الزام تراشی اورتو تو میں میں کے شور سے بھر پور ٹاک شوز دکھائے جائیں؟کیا میڈیا ہاؤسز کے مالکان ا ور وہ با اثر اینکرزجوواضح طور پر مختلف سیاسی گروہوں کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں اپنی اپنی پالیسیوں کے تحت کبھی نان ایشوز کو ایشوز اور کبھی ایشوز کو نان ایشوز کی حیثیت دیکر میڈیا کو اسکے حقیقی کردار سے دور لے جارہے ہیںیا پھر انھیں سیاسی محاذ آرائی کی بیٹھک جمانا اہم قومی ایشوز پر مباحثے کے اہتمام سے آسان لگتا ہے ؟

کیا نفع و نقصان اور سودوزیاں سے جڑی آلائشوں نے صحافت کے پیشے کو اس قدرآلودہ کر دیا ہے کہ یہ اپنا تشخص قائم رکھنے کے قابل نہیں رہا؟کیاکوئی اندرونی یا بیرونی سازش ملک میں صحافتی اقدارکا گلہ گھونٹنے کے درپے ہے؟ یہ اور ان جیسے کئی دیگر سوال جواب کے منتظر ہیں ایک انگریزی مقولہ ہے کہ ’’ پریس اینڈ دی نیشن رائز اینڈ فال ٹوگیدر‘‘ اس کہے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ مذکورہ سوالوں کے جوابات تک پہنچنا اور اصلاح احوال کی صورت نکالنا ملک و قوم کیلئے کس قدر ضروری ہے ۔