بریکنگ نیوز
Home / کالم / اندھیرے سے لڑائی

اندھیرے سے لڑائی

جب ذہن اندھیروں میں گم ہونے لگے تو سیانے کہتے ہیں کہ خود سے ہم کلام ہو جاؤ۔خود کلامی بھی اایک نعمت ہے۔ اس سے ذہن سے لپٹی کہر دور ہو جاتی ہے اور اگر دور نہ بھی ہو تو مایوسیوں کے بادل چھٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی خود کلامی بعض دفعہ کچھ ایسے راستے بتا دیتی ہے کہ جن پر چل کر خود کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔بہت سے نسخے ان اندھیروں کو دور کر نے کے ہمارے سیاسی لوگوں کے پاس بھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب آپ مایوس ہو جائیں تو کسی عدالت کی طرف رجوع کر لیں۔ جب سے ہمارے ڈاکٹر بابر اعوان نے پی ٹی آئی کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہے تب سے وہ نواز لیگ کو زچ کرنے کے نئے نئے ٹوٹکے سامنے لا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنما آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کر رہے ہیں اور اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر نواز شریف نے نا اہل ہو کر لاہور جانے کیلئے ہوائی جہاز کو سواری کے طو رپر استعمال کرنا اپنے لئے حرام کر لیا ہے تو پھر زمینی راستہ ہی رہ جاتا تھا کہ جس سے وہ لاہور پہنچ جائیں اس میں بھی انکے پاس تین راستے تھے وہ بذریعہ ریل وہ لاہور چل دیتے اس میں ایک قباحت یہ تھی کہ لوگوں کو نواز شریف کو الوداع کرنے کیلئے ریلوے سٹیشنوں تک آ ناپڑتا اور بہت سے ریلوے سٹیشن بہت ہی تنہا جگہوں پر واقع ہیں اور ان کے چاہنے والوں کو ان سٹیشنوں پر پہنچنے میں کافی تکلیف ہوتی اسلئے انہوں نے اس راہ کو چننے میں انکار کر دیا۔ دوسرا راستہ تھا کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے موٹر وے کے ذریعے لاہور پہنچ جاتے۔ اس میں ایک قباحت یہ تھی کہ انہوں نے خود ہی اس میں ایک غلطی کر دی تھی کہ انہوں نے موٹر وے کے آس پاس جنگلہ لگا دیا تھا ا گر وہ اس راستے سے جاتے تو ان کے چاہنے والے جنگلہ کراس نہیں کر سکتے تھے۔

تو یہ اُن کے چاہنے والوں کے لئے کوئی ا چھی بات نہیں تھی۔ چنانچہ فیصلہ یہی ہوا کہ راستہ ایسا ہو کہ جس کے آس پاس کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ تو وہ صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جی ٹی روڈ۔ اس لئے کہ ایک تو یہ کافی کھلا راستہ ہے اور اس کے آس پاس کوئی جنگلہ بھی نہیں ہے اسلئے نواز شریف کے چاہنے والے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے لیڈر کا دیدار کر سکتے ہیں اور ان کیلئے پورے جوش و خروش سے نعرے لگا سکتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کے مخالفین کیلئے یہ کچھ اچھا شگون نہیں ہے اس لئے پی ٹی آئی نے ہر طرح سے کوشش کی کہ نواز شریف جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور نہ جائیں۔اس کے لئے ان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ بھی داخل کی کہ نواز شریف کو یہ راستہ استعمال کرنے سے منع کیا جائے۔ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ آخر پی ٹی آئی کا کیا جاتا ہے کہ نواز شریف کون سا راستہ گھر جانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ شایداسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی سمجھ نہیں آئی کہ آخر وہ کس قانون کے تحت نواز شریف کو گھر جانے سے کسی راستے سے جانے سے منع کر سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پی ٹی آئی کی رٹ کو مسترد کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ معزز عدالت نے نواز شریف کو روکے جانے کی دو درخواستوں کو ناقابل سماعت بھی قرار دے دیا ہے اب انکی طرف سے ایک اور رٹ کا پتہ چلا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ چونکہ نواز شریف نا اہل ہو گئے ہیں اور مسلم لیگ ن کا تعلق نواز شریف سے ہے اس لئے کہ اس پارٹی کو بھی نا اہل قرار دیا جائے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم کی جگہ مسلم لیگ کو نیا صدر منتخب کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

اب خدا جانے ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کے پاس اس کے لئے جواز کیا ہے۔ اب دیکھیں کہ کب مسلم لیگ نواز بھی نااہل ہوتی ہے اور پھر گلیاں ہو جانڑ سنجھیاں تے بِچ مرزا یار پھرے۔ ویسے جب سے ڈاکٹر بابر اعوان صاحب پی ٹی آ ئی کے ممبر بنے ہیں پارٹی کو نئے سے نیا راستہ دکھا رہے ہیں اور عمران خان سے بھی حیرت کا اظہار کروا رہے ہیں۔عمران خان بھی نواز شریف کے گھر جانے کو سپریم کورٹ اور فوج کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں ۔ یہ سپریم کورٹ کی تو سمجھ آتی ہے کہ اُس نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور نواز شریف نے کورٹ کے فیصلے پر ایک لفظ کہے بغیر عمل درآمد کر دیا ہے کہ فوری طور پر وزیر اعظم ہاؤس کو خالی کر دیا ہے۔ اپنی جگہ نیا وزیر اعظم منتخب کروا لیا ہے ۔ اب اس کے گھر جانے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور یہ سپریم کورٹ کے خلاف کس طرح ایک سازش ہو سکتی ہے اور رہی بات فوج کی تو فوج کا نواز شریف کے خلاف کون سا اقدام ہے کہ جس کی وجہ سے وہ فوج کے خلا ف کوئی قدم اٹھانے کا سوچیں یہ تو ماروں گھٹناپھوٹے آنکھ والی بات ہوئی نا۔ کیا کسی معزول شخص کا گھر جانا کسی کے خلاف سازش ہو سکتا ہے؟ رہی بات لوگوں کی تو وہ تو جسکو چاہیں گے اُس کے ساتھ باہر نکلیں گے۔ اس پرکسی کوتکلیف نہیں ہونی چاہئے ہاں پٹواریوں والی بات پر ہمیں بہت ہنسی آئی۔ اس لئے کہ شہباز شریف اس معاملے میں زمینوں کے معاملات کو کمپیوٹرائز ڈکر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکے ہیں ۔