بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم مسائل اوجھل کیوں؟

اہم مسائل اوجھل کیوں؟


وطن عزیز میں سیاسی گرما گرمی جاری ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ تاریخ ثابت کرے گی کہ ہمارے خلاف فیصلہ غلط تھا اپنا مشن مکمل کرکے رہوں گا ان کا کہنا ہے کروڑوں لوگ وزیراعظم منتخب کرتے ہیں جبکہ چند لوگ عوامی مینڈیٹ کوختم کردیتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ70برسوں سے کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی تحریک انصاف کہہ رہی ہے کہ ن لیگ کی ریلی میں سرکاری وسائل استعمال کئے گئے ہیں پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ کنٹینر کے خلاف تقریریں کرنے والے خود کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں پورے ملک میں جاری سیاسی گرما گرمی کے ساتھ خیبر پختونخوا میں بھی نمبر گیمز کی باتیں ہورہی ہیں اس سارے منظرنامے میں اہم معاملات نگاہوں سے اوجھل ہوکر رہ گئے ہیں ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق پن بجلی کے بقایا جات ‘این ایف سی ایوارڈ‘منڈا ڈیم کی تعمیر اور فاٹا انضمام پر پیش رفت مطلوبہ رفتار سے نظر نہیں آرہی دوسری جانب عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کنکریٹ اقدامات کا ہنوز انتظار کیا جارہا ہے وطن عزیز کی معیشت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لئے اقدامات کی متقاضی ہے ان اقدامات میں مرکز اور صوبوں کو مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

ایک ایسے وقت میں جب چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ گیم چینجر کی حیثیت اختیار کررہا ہے سرمایہ کاری کیلئے مناسب ماحول پیدا کرنا ضروری ہے اس وقت ایک جانب سیاسی محاذ پر گرما گرمی دیکھی جارہی ہے تو دوسری طرف عام شہری مہنگائی کے ہاتھوں نالاں ہے لوگ بنیادی شہری سہولیات کا تقاضہ کررہے ہیں نوجوانوں کو تلاش روزگار پریشان کئے ہوئے ہے مرکز اور صوبوں کی سطح پر درجنوں ایسے منصوبے ہیں جو فوری توجہ ‘فنڈز کی ریلیز اور تیزی سے کام کے متقاضی ہیں حکومتوں کے متعدد اعلانات عملی صورت اختیار کرنے کے منتظر ہیں ایسے میں سیاسی قیادت کو پوری گرما گرمی کیساتھ اہم معاملات سلجھانے اور عوامی مسائل کے حل پر بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی جو اسکی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

طلب سے زیادہ بجلی کا عندیہ

قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار رواں سال دسمبر کے آخر میں20 ہزار 988 میگا واٹ ہوجائے گی جو طلب سے 4200 میگاواٹ اضافی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی کی ترسیل میں ضیاع کی روک تھام کا قابل عمل حل پیش کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی سے متعلق ہدایات بھی دے رہے ہیں۔ ایوان میں بتائے گئے اعداد وشمار بھی قابل اطمینان ہیں اور وزیراعظم کا احساس و ادراک بھی تاہم اس سب کیساتھ حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا جو یہ ہے کہ اس وقت گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ لوگوں کو بجلی کی بندش، کم وولٹیج، ترسیل کے نظام میں خرابی پرانے ٹپکتے ٹرانسفارمرز اور سروں کو چھونے والی تاروں کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ آنکھیں اس حقیقت سے بھی بند نہیں کی جاسکتیں کہ ترسیل کے نظام میں کسی بھی خرابی پر مرمت کا کام صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے صارفین کو بلوں کی درستگی کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں‘ حکومت کو جہاں ضرورت بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنانے کی ہے وہیں خدمات میں بہتری کیلئے متعلقہ دفاتر کو وسائل فراہم کرنے اور بدانتظامی دور کرنے کی بھی ہے جس میں کمیونٹی کو بھی شریک کیاجانا ضروری ہے۔