بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا تجاویز کو فی الفور رد یا قبول نہیں کیا جا سکتا ٗ فضل الرحمان

فاٹا تجاویز کو فی الفور رد یا قبول نہیں کیا جا سکتا ٗ فضل الرحمان

پشاور۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فاٹا سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر رد یا قبول نہیں کیا جا سکتا ‘ قبائل کی خانہ شماری کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے ‘ جغرافیہ میں تبدیلی کا مینڈیٹ عوامی نمائندوں کو نہیں ‘ اسکاٹ لینڈ کو ریفرنڈم کا حق مل سکتا ہے تو فاٹا کو کیوں نہیں ‘ قبائلی عوام کا جرگہ یہی کہتا ہے عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔ ہفتہ کو پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ وہاں معمولات کی زندگی بحال ہونے تک نہ کیا جائے۔ فاٹا کے لوگ 125 سال تک ایک خاص نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ فاٹا سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر رد یا قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قبائل ہمارے ساتھ ہیں۔ فاٹا کا انضمام وفاقی کابینہ کا فیصلہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ قبائل کی خانہ شماری کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کیا کوئی حکمران ملکی جغرافیہ میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے۔ جغرافیہ میں تبدیلی کا مینڈیٹ عوامی نمائندے کو نہیں۔ اسکاٹ لینڈ کو ریفرنڈم کا حق مل سکتا ہے تو فاٹا کو کیوں نہیں۔ عوام آپ کے ساتھ ہیں تو ریفرنڈم سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔ قبائلی عوام کا جرگہ یہی کہتا ہے عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔

ٹرمپ کے نئے صدارتی حکم کو پہلا دھچکا
واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ سفری پابندیوں کے نئے حکم نامے کو پہلا قانونی دھچکہ لگ گیا۔امریکی وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے حکم نامے کا اس شامی شخص کے بیوی اور بچے پر اطلاق نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے جسے پہلے ہی امریکا میں پناہ دی جاچکی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست وسکونسن کے ڈسٹرکٹ جج ولیم کونلی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری کردہ نئے حکم نامے سے اس شامی شخص کے بیوی اور بچے کی امریکا آمد متاثر ہوسکتی ہے جسے پہلے ہی امریکا میں پناہ دی جاچکی ہے۔جج نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ اگر ٹرمپ کے اس حکم نامے کا اطلاق شامی شہری کے بیوی اور بچے پر بھی ہوگیا تو اس سے انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔جج نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے حکم نامے کا اطلاق امریکا میں پناہ حاصل کیے ہوئے شامی شہری کے بیوی اور بچے پر نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ اس شامی شہری نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی تھی کیوں کہ اس کی بیوی اور بچہ اب بھی شامل کے شہر حلب میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ 6 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ترمیم شدہ انتظامی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس کا اطلاق 16 مارچ سے ہونا ہے۔وائٹ ہاس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ نئے صدارتی حکم نامے کے مطابق عراق کے شہریوں پر امریکا کا سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی جبکہ امریکا کے مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈرز) اور پہلے سے قانونی ویزہ رکھنے والے بھی اس پابندی سے مستثنی ہوں گے۔وائٹ ہاس کا مزید کہنا تھا کہ نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر 90 دن کی پابندی برقرار رہے گی اور انہیں اس عرصے کے دوران امریکی ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکا کے مہاجرین کو پناہ دینے کے پروگرام کو بھی 120 روز کے لیے معطل کردیا گیا ہے البتہ وہ مہاجرین جنہیں پہلے ہی امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے امریکا آمد کی اجازت دی جاچکی ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے حکم نامے کو بھی وفاقی عدالت میں چیلنج کیا جاچکا ہے اور امریکی ریاست ہوائی نے نئے انتظامی حکم کو ہونولولو کی وفاقی عدالت میں چیلنج کررکھا ہے۔