بریکنگ نیوز
Home / کالم / خوش قسمت ’چائے والا‘

خوش قسمت ’چائے والا‘


ارشد خان اِس بات کو محسوس نہیں کرتا کہ اگر کوئی اُسے ’’چائے والا‘‘ کہہ کر پکارے کیونکہ آخر کار یہی تو اُس کا پیشہ ہے لیکن وہ اِس بات سے حیران ضرور ہوا ہے کہ جس قدر اُسے پذیرائی ملی ہے یہ خوبصورت‘ 18برس کا لڑکا‘ جو اسلام آباد کے ہفتہ وار ’اتوار بازار‘ میں کام کرتا ہے کی تصاویر سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس اور حتیٰ کہ ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی نشر ہوئیں‘ جس نے اُسے راتوں رات مقبول بنا دیا۔ ٹیلی ویژن کے رپورٹروں نے اُس کے انٹرویوز کئے اور خواتین سمیت نوجوانوں نے اُس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ ارشد خان کا تعلق خیبرپختونخواکے ضلع مردان سے ہے لیکن وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم ہے لیکن وہ دنیا کا واحد ایسا چائے والا نہیں جو پوری قوم اور دنیا کی نظروں میں مقبول ہوا ہو بلکہ پاکستان کا ایک ایسا ہمسایہ ملک بھی ہے جہاں کا ’چائے والا‘ وہاں کا وزیراعظم بنا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق بھارتی ضلع گجرات سے ہے جہاں کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے مودی نے اپنی پوری زندگی ہندو قوم پرست جماعت راشٹریا سوایم سیواک سنگ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لئے وقف کئے رکھی اور وہ چونکہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اِس لئے ابتدائے زندگی میں ’چائے والا‘ کے طور پر کام کرتے رہے۔

نریندر مودی نے عملی زندگی کا آغاز ’چائے والا‘ کے طور پر کیا اور انکے تجربے کا اندازہ اُس وقت دنیا بھر نے مشاہدہ کیا جب انہوں نے امریکہ کے صدر کے دورہ کے موقع پر اُن کیلئے چائے بنائی۔ جہاں تک ’اَرشد خان‘ کا تعلق ہے‘ تو وہ اسلام آباد کی ہفتہ وار مارکیٹ میں فروٹ اور چائے بیچتا ہے۔ اُس کے 16 بہن بھائی ہیں جس کی وجہ سے وہ خاطرخواہ تعلیم حاصل نہیں کرسکا اُسکے والدین نے اُسے کم عمری ہی میں کام پر لگا دیا اُس کا خاندان بہتر روزگار کی تلاش میں مردان سے اسلام آباد آیا ارشد خان کے بارے میں پتہ دنیا نے ’جیا علی‘ نامی ایک خاتون فوٹوگرافر کی تصویر سے لگایا جس نے اُس کی تصویر کو ’انسٹاگرام‘ کے ذریعے مشتہر کیا۔ ایک خوش شکل نوجوان لڑکا عام کپڑوں اور اردگرد کے عمومی ماحول میں بھی ابھر کر سامنے آیا عکاس’جیا علی‘کے دریافت کرنے والے اِس نیلی آنکھوں والے نوجوان کی طرح امریکہ کے ایک گلوکار بھی نہایت مقبول ہوئے جنہیں ’نیلی آنکھوں والے‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگاجیا علی کی تصویر انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت میں بھی ارشد (چائے والا) کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔اسلام آباد کے ایک فیشن برانڈ نے اَرشد علی کے ساتھ ماڈلنگ کا معاہدہ کیا ہے لیکن کیا وہ ایک ماڈل کے طور پر ایک ایسی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا پائے گا جہاں صرف خوبصورت نظر آنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ماڈلنگ تو ایک فن اور آرٹ ہے‘ جس میں کامیابی کے الگ تقاضے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ارشد خان کو فلم میں کام کرنے کی بھی پیشکش ہوئی جس کا اُس نے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُسکے اہل خانہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ماڈلنگ کی طرح فلم میں اداکاری کرنا آسان نہیں ہوتا بلکہ اس کے الگ تقاضے ہیں۔

ارشد خان کی مقبولیت ’انسٹاگرام‘ کے ذریعے ہوئی جو جدید دور کی ٹیکنالوجی ’انٹرنیٹ‘ پر منحصر ہے اور ابلاغ کے اِس جدید ٹیکنالوجی کی طاقت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ تصور کیجئے کہ ارشد خان کی طرح کتنے ہی ایسے خوبصورت نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوں گے‘جن کی خوبصورتی کھوج ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ امریکہ کے فوٹوگرافر سیٹو میک کری نے نیشنل جیوگرافک کیلئے ایک اسائمنٹ کرتے ہوئے ’جادوئی آنکھوں والی‘ افغان لڑکی شربت گلہ کو دریافت کیا۔ 1984ء کے دوران پشاور کے نواح میں سٹیو نے 12سالہ افغان مہاجر لڑکی شربت گلہ کی ناصر باغ کیمپ میں تصویر بنائی تھی جو دنیا بھر میں بے انتہاء مقبول ہوئی۔ بعدازاں سال 2002ء میں سٹیو شربت گلہ کی تلاش میں پشاور آیا اور اس نے 18سالہ لڑکی کو تلاش کر لیا جو شادی شدہ زندگی بسر کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی شربت گلہ کے بارے میں تازہ ترین خبر یہ آئی ہے کہ اُسے 26اکتوبر کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ اُس نے جعلسازی سے پاکستان کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کر رکھا تھا۔ ارشد خان کی زندگی میں ایسا کوئی بھی ناخوشگوار تجربہ نہیں وہ اپنی زندگی میں آنے والی مقبولیت سے محظوظ ہو رہا ہے بہت سے اَیسے ہوں گے جو اجنبیوں کیساتھ تصویر بنوانا پسند نہیں کریں گے لیکن اَرشد خان کو اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کہ کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی اُسکے ساتھ تصویر کی فرمائش کرے بلکہ وہ حیران ہوتا تھا کہ آخر اُسکے ساتھ تصاویر کیوں بنوائی جا رہی ہیں لیکن اب وہ وجہ جان چکا ہے وہ ایک تصویر جس نے ایک ’چائے والا‘ کو بدل کر رکھ دیا اُمید ہے کہ ارشد خان کی زندگی میں آنے والی یہ تبدیلی اُس کیلئے بہتر ثابت ہوگی۔