بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک ضروری کام

ایک ضروری کام


فوڈ آئٹمز کی فروخت کو منافع بخش کاروبارکا درجہ حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ گلی محلوں ، بازاروں اور پلازوں میں ،سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کے آس پاس اورتفریحی مقامات پر یعنی ہر جگہ اس کاروبار سے وابستہ حضرات ہتھ ریڑھیاں، سٹالز،کھوکھے، دکانیں، موبائل یونٹس اور ریسٹورنٹس سجائے ملتے ہیں مزدور ہوں ، ملازم پیشہ خواتین وحضرات ہوں ،طلبا و طالبات ہوں یا تاجر و صنعتکار کون ہے جوبازاروں میں فروخت ہونے والے ان فوڈ آئٹمز کو استعمال میں نہیں لاتا یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی فروخت کے مراکز پر نظر رکھنے، ان مراکز کو رجسٹریشن و لائسنسنگ کے دائرے میں لانے اورانھیں حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کیلئے کل وقتی بنیادوں پر کام کیا جائے پشاور کی ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے وقتاً فوقتاً ایکشن لیتی نظر آتی ہے تاہم اس معاملے پر کل وقتی بنیادوں پر نگاہ رکھنے کیلئے ایک موثر نظام کا فعال حیثیت میں سامنے آنا ضروری ہے ۔خیبر پختونخوا اسمبلی مارچ2014ء میں ’کے پی کے فوڈ سیفٹی اتھارٹی ‘بل کی منظوری دے چکی ہے جس کے تحت ایک اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے لیکن یہ اتھارٹی انتظامی طور پر محکمہ صحت کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے جداگانہ حیثیت میں کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی ۔صوبائی دارلحکومت میں ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت اور صفائی کی ابتر صورتحال کی پاداش میں ریسٹورنٹس ، ہوٹلز، کیفیز اور فوڈ پارلرز وغیرہ کے خلاف وقفوں وقفوں سے جو کاروائیاں ہوتی نظر آئی ہیں وہ زیادہ ترضلعی انتظامیہ کے افسران کی نگرانی میں عمل میں آتی ہیں حالانکہ اس سلسلے میں’ فوڈ سیفٹی اتھارٹی‘ کو اسی طرح ایک مکمل خود مختار ادارے کی حیثیت سے متحرک نظر آنا چاہئے جسطرح’پنجاب فوڈ اتھارٹی‘ پچھلے دو سال میں نظر آئی ہے ’پنجاب فوڈ اتھارٹی‘ کا قیام ویسے تو 2011ء میں عمل میں آیا تھا۔

لیکن یہ ادارہ جتنا فعال پچھلے دو سال کے دوران نظر آیا ہے اس سے پہلے دکھائی نہیں دیاتھا ۔اتھارٹی نے لاہور اور کئی دیگر علاقوں میں اس قدر زور و شور سے ا پنا کام کیا کہ کھوکھے والے ہوں یا ریسٹورنٹس والے۔چھوٹے پیمانے پر فوڈ آئٹمز کا کاروبار کرنیوالے ہوں یا بڑے ہوٹلوں کے مالکان سب کو اپنا قبلہ درست کر لینے میں ہی عافیت نظر آئی۔ وجہ یہ ہے تھی ایک طرف تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے حوالے سے’ زیرو ٹالرینس‘ پالیسی اپنائی اور اشیاء خوردونوش کا بہتر معیار یقینی بنانے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فری ہینڈ دیا جبکہ دوسری طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسروں اور اہلکاروں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن سے فرائض کی ادائیگی کو اپنا شعار بنایا۔ اس عمل کے دوران کسی بھی دباؤیا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے غیر معیاری اشیاء خوردونوش فراہم کرنے والی ہتھ ریڑھیوں سے لے کر نامی گرامی ہوٹلوں تک کے خلاف قانونی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔

جبکہ ساتھ ساتھ تمام طعام گاہوں کی مجموعی صفائی اور ان میں لائی جانے والی اشیاء خوراک کا معیار جانچنے کیلئے باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا گیا یوں پنجاب کے مذکورہ اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنیوالوں پر مستقل بنیادوں پر نظر رکھی جارہی ہے ۔’پنجاب فوڈ اتھارٹی‘ جس قانون کے تحت عمل میں آئی ہے اس میں فوڈ آئٹمز کی فروخت کو باقاعدہ نظام کے تحت لانیکی گنجائش موجود ہے اس سلسلے میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی رجسٹریشن ، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کھولنے والوں کیلئے لائسنس کے حصول اور تجدید کی پابندی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیاری ہونے کی تصدیق کا عمل متعارف کرانے کیلئے لائحہ عمل کا تعین بھی کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس قانون میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے مناسب سزائیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔اب پنجاب حکومت اس قانون کو زیادہ موثر بنانے پر بھی سنجید گی سے غور کر رہی ہے۔خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرز پر فعال بنانا وقت کی ضرورت ہے اس سلسلے میں اتھارٹی کو انتظامی طور پر خود مختارو موثرادارہ بنانے کیلئے اس امر کا جائزہ لیا جا نا بھی ضروری ہے کہ یہ اتھارٹی جس قانون کے تحت قائم ہوئی ہے اس میں کہاں کہاں کمی رہ گئی ہے تاکہ متعلقہ قانون میں اصلاحات لائی جا سکیں ۔