بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھوک

بھوک


اقتصادی امور کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کرنے والے عالمی تجزیاتی ادارے ’بلومبرگ‘ نے بیس اکتوبر کے روز پاکستان کی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ کے بارے میں کہا کہ یہ ایشیاء میں سب سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے18اکتوبر کو وزیراعظم نواز شریف نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت نے آلو کی قیمت 25روپے فی کلو کی حد تک کم کر دی ہے جبکہ یہی قیمت اُن کے حکومت میں آنے سے قبل سال 2013ء کے دوران 80روپے فی کلوگرام تھی۔پندرہ اکتوبرکو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم اور قوم کو مبارک دی کہ ملک میں غیرملکی کرنسی پر مشتمل زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 24.5ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔ 12 اکتوبر 2016ء کے روز دنیا بھر میں بھوکے افراد کا شمار کر کے ایک جدول جاری کی گی جو ’’فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ نے مرتب کی تھی۔ زرعی پیداوار سے متعلق اِس عالمی ادارے کی درجہ بندی کے مطابق سال 2016ء میں دنیا کے 118 ممالک میں پاکستان کا نمبر فہرست کے آخری ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں پائی جانے والی انتہائی بھوک کا موازنہ سنٹرل افریقن ری پبلک‘ چاڈ‘ زیمبیا‘ ہیٹی‘ مڈغاسکر‘ یمن‘ سیرا لیون‘ افغانستان‘ تیمور اور نائیجر سے کیا گیا ہے۔بھوک سے مراد اِس عالمی درجہ بندی میں خوراک کی کمی کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور اس میں چار پیمانوں کے تحت کسی ملک میں پائی جانے والی خوراک کی قلت کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ کم خوراک‘ بچوں کی جسمانی نشوونما‘ بچوں کی ناقدری اور اُن کی اموات سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی ملک میں خوراک کے وسائل آبادی کی ضروریات کے کس حد تک ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق پاکستان میں 22فیصد آبادی کو ملنے والی خوراک اُن کی یومیہ ضروریات کے لئے ناکافی ہے اس کا مطلب ہے کہ 4 کروڑ 30لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جنہیں یومیہ اُن کی جسمانی ضروریات کے مطابق کھانا پینا میسر نہیں۔ 45فیصد بچے جن کی عمریں 5سال ہیں اُن کی جسمانی نشوونما ناکافی خوراک کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں 98لاکھ بچوں کی جسمانی نشوونما خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہے۔ اِس قدر بڑی تعداد سے بھی زیادہ بچوں کی نشوونما متاثر ہونے والے دیگر دو ممالک بھارت اور نائیجر ہیں۔ بھارت میں 4 کروڑ 80لاکھ جبکہ نائیجر میں 1 کروڑ بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔تصور کیجئے کہ دنیا بھر کے بچوں میں خوراک کی کمی کا شکار ہونے والے 40فیصد بچے پاکستان میں پائے جاتے ہیں! اِسی طرح 10فیصد پاکستانی بچے ایسے ہیں کہ جن کا وزن اُن کی عمر کے لحاظ سے کم ہے۔

پاکستان میں بچوں کی حالت زار سے متعلق ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ہر 14میں سے 1 پاکستانی بچہ اپنی پہلی سالگرہ دیکھنے سے پہلے مر جاتا ہے! پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات ہر ایک ہزار میں 40 ہے۔بھوک و افلاس کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان میں پائی جانے والی بدعنوانی پر بھی ایک نظر کریں کیونکہ کسی ملک کے مالی امور میں بدعنوانی اور وہاں خوراک کی کمی کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔