بریکنگ نیوز
Home / کالم / کوئی ایک خواب ادھورارہنے دو

کوئی ایک خواب ادھورارہنے دو

ایک سویر فون چیک کیا تو حیرت درحیرت‘ انڈیا سے گلزار صاحب کے دو پیغام درج تھے… بہت کوشش کی آپ کا فون نہیں لگ رہا…آپ کہاں ہیں؟ کچھ دیر بعد واٹس ایپ کے توسط سے فون کی سکرین پر گلزار صاحب کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہوگیا…ہاتھ میں پنسل تھامے وہ شاعری کی کوئی کتاب پڑھ رہے تھے‘ میں پہلے بھی کہیں تذکرہ کرچکا ہوں کہ میں جو ایک مدت سے انکی فلموں اور شاعری کا مداح تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک روز میری ڈاک میں ان کا ایک خط ہے‘ ہندوستان میں اردو افسانوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا جس میں میرا افسانہ ’’ بابا بگلوس‘‘ بھی شامل تھا گلزار صاحب نے اس سے متاثر ہو کر دو نظمیں لکھیں جو بعد میں انکے ایک شعری مجموعے میں شائع ہوئیں…
اور اس سلسلے میں مجھ سے اجازت کے طلبگار تھے۔ یعنی کنواں خود پیاسے کے پاس چل کر آگیا تھا پھر خطوط کا تبادلہ تو ہوتا رہا لیکن خواہش کے باوجود کبھی ملاقات نہ ہوسکی اور پھر میں نے اس خواہش کو ترک کردیا کہ کوئی ایک کھڑکی ان کھلی رہنے دو‘ کوئی خواب ادھورا رہنے دو اور کسی ایک خواہش کا دامن چھوڑ دو‘ البتہ انہوں نے میری پچہترویں سالگرہ کے موقع پر ایک طویل پیغام میرے نام روانہ کرکے مجھے تو خوش کردیا ایک اور پیغام اس موقع پر مہاتما گاندھی کے پوتے راجیو گاندھی کی جانب سے بھی موصول ہوا اور یہ بھی ایک اعزاز تھا۔ گلزار صاحب کیوں مجھ سے فون پر بات کرنے کی خاطر میری تلاش میں تھے۔ یہ ایک داستان شرمندگی ہے اور اس کے مجرم کا نام نصیر احمد ناصر ہے۔ اس نے اپنے پرچے ’’تسطیر‘‘ کے لئے مجھ سے رابطہ کیا اور کہنے لگا۔ آپکے ناول ’’اے غزال شب‘‘ میں جو خانہ بدوشوں کے گیت درج ہیں وہ کس نے لکھے ہیں۔ ناصر کا شمار اس عہد کے بڑے نظم نگاروں میں ہوتا ہے تو مجھے حیرت ہوئی کہ اس کو تو اندازہ ہوجانا چاہئے تھا۔ بہرحال میں نے کہا کہ ان میں سے ایک گیت تو ایک قدیم خانہ بدوش گیت سے مستعار شدہ ہے اور بقیہ سب کے سب میں نے خود ہی لکھ لئے ہیں۔ اس کی فرمائش پر میں نے اپنے ایک ذاتی تجربے پر مبنی ایک آزاد نظم اسے روانہ کردی لیکن یہ اشاعت کے لئے ہرگز نہ تھی۔

ناصر نے اسے ’’تسطیر‘‘ میں شائع کردیا۔ مجھے ابھی تک سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر گلزار ایسے کمال کے اور جمال کے اور بڑے شاعر کو یہ عام سی نظم کیوں اتنی پسند آگئی انہوں نے توصیف کی حد کردی اور خاص طور پر اس کے آخری حصے کو بہت سراہا۔ انہوں نے خواہش کی کہ میں مزید نظمیں لکھوں۔ میں نے یونہی کہہ دیا کہ ٹھیک ہے لیکن ایک شرط ہے کہ میری ہر نظم کی اشاعت پر آپ اسے پڑھ کر مجھے فون کریں گے۔ کہنے لگے۔ شرط کے بغیر بھی تو میں نے آپ کی نظم پڑھی اور فون کیا ہے۔ آپ مزید نظمیں ضرور لکھیں۔ گلزار صاحب کا کہنا تھا کہ اس بار پورے روزے نہیں رکھ سکا۔ چند ایک رکھے کیونکہ کچھ دوائیاں لینی ہوتی تھیں۔ کیا واقعی گلزار صاحب روزے رکھتے ہیں۔ ارہان پاموک کے ناول ’’میوزیم آف انونس‘‘ کی ہیروئن کا نام اداس کردیتا ہے اور نام ہے افسوں۔ جب کبھی یہ نام پڑھا تو اداسی اور افسوں کو میناکماری کی شکل میں دیکھا۔ روایت ہے کہ میناکماری باقاعدگی سے روزے رکھتی تھیں۔ جب بیماری کے باوجود انہوں نے روزے ترک نہ کئے تو گلزار صاحب نے دریافت کیا کہ اگر آپ روزے نہ رکھیں تو اس کا بدل اور کیا ہوسکتا ہے۔ میناکماری نے کہا کہ کوئی اور شخص آپ کی جگہ روزے رکھے ۔ گلزار صاحب افسوں میں ایسے بندھے ہوئے تھے کہ ان کی جگہ روزے رکھنے شروع کردئیے۔ گلزار نے بتایا کہ ان دنوں وہ میری ’’15 کہانیاں‘‘ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے سمیر سے بھی بات کی۔ اس کے بنائے ہوئے ایک پرانے سکیچ کو یاد کیا اور اس سے پھر فرمائش کی کہ بیٹا میراایک اور سکیچ بنا کر مجھے ضرور بھیجو۔ دراصل سمیر نے ایک بار ’’میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے’’ کے حوالے سے ایک سکیچ بنا کر انہیں بھیجا تو وہ اس کی ڈرائنگ کے قائل ہوگئے۔ میں نے ان کی بیٹی میگھنا جسے بوسکی کا نام بھی دیا گیا تھا کہ بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک نئی فلم کی کہانی پر کام کررہی ہے۔ میگھنا خانم ہندوستان کے نوجوان ہدایتکاروں میں بہت نمایاں ہے۔ کہنے لگے آپ آئرلینڈو میں کیا کررہے ہیں۔

تو میں نے کہا کہ میں اپنی بوسکی یعنی عینی کے ہاں عید منانے کے لئے آیا ہوں اور کچھ علاج معالجے کے بھی معاملے درپیش تھے۔ ہم نے بہت دیر تک گفتگو کی یہاں تک کہ بارش تھم گئی اور سامنے کے جنگل میں جھینگر بولنے لگے۔ بھیگے ہوئے پرندے اپنے پر جھاڑنے لگے اور پانی کی ہر جھٹکی ہوئی بوند میں شفق کی سرخی جھلملانے لگی۔ اگر آپ کے اردگرد گھنے جنگل ہوں جن کے اندر ہرن‘ خرگوش‘ سانپ اور عقاب رہتے ہوں۔ جھیلیں پھیلی ہوں جن کے کنارے مرغابیاں‘ کونجیں اور جنگلی مرغیاں اور اجنبی پرندوں کے غول ہوں آپ کے آس پاس آپ کے بچے پرُمسرت حالتوں میں ہوں اور ان کے بچے گھر میں مینڈکوں کی مانند کودتے ہوں اور گلزار کا فون آجائے تو ایک انسان کواور کیا چاہئے۔ شیراز کے انگوروں کا ایک خوشہ شاید۔