بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکمرانی کی باریاں

حکمرانی کی باریاں

میاں محمدنواز شریف نے اپنی ضد پوری کرنی تھی سو انہوں نے وہ پوری کر لی ملک کے تقریباً تمام خفیہ اداروں نے انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ جی ٹی روڈ پر لاہور نہ جائیں کیونکہ دہشت گردی کا خدشہ ہے صرف خفیہ ایجنسیوں نے ہی نہیں (ن)لیگ میں ان کے رفقائے کار کا بھی ان کو یہی مشورہ تھا ان کا اگر یہ خیال تھا کہ سڑک پر وہ طاقت کا مظاہرہ کرکے عدالت عظمیٰ یا کسی اور ریاستی ادارے پراپنی قوت کا رعب جھاڑ سکیں گے تو یہ ان کی غالباً خام خیالی تھی عدالتوں اور وہ بھی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تمسخر اڑانا اور وہ بھی سر عام ایک نہایت ہی خطرناک روش ہے اور اس روش کا پر چار اگر ملک کاسابق وزیراعظم کرے تو اس سے عام آدمی کو بڑا خطرناک سگنل جاتاہے عام آدمی کے دل سے اگر پولیس کا خوف اور عدالت کا احترام نکال دیا جائے تو ملک میں طوائف الملوکی پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اگر کوئی مجرم عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دے اور اپنے ہم خیال لوگوں کا جمگھٹا سڑکوں پر نکال کر میں نہ مانوں ‘ کی رٹ لگانا شروع کر دے تو پھر تو ملک میں جنگل کا قانون پھیل جاتا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات ہو جاتی ہے پارلیمنٹ کی برتری کی جو لوگ آج بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگرپارلیمنٹ میں اچھے لوگ بیٹھے ہوتے توآج اس ملک کا یہ حال نہ ہوتا اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ کے راستے بادشاہوں کی سواری کی طرح جانے پر جو خرچہ ہوا کیا اس کا اس ملک کے غریب ٹیکس دہندہ کو اندازہ ہے؟ اس کی اگر ذرا تحقیقات کرلی جائیں کہ کتنی رقم اس پر خرچ ہوئی اور یہ خرچہ کس نے برداشت کیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے ہزاروں پولیس والے صرف پروٹوکول کی ڈیوٹی پر تین دن متعین رہے انہوں نے کتنا ٹی اے ڈی اے وصول کیا ہو گا ؟

یہ جو درجنوں قافلوں نے خیبر پختونخوا سے لیکر پنجاب کے مختلف اضلاع سے اس جلوس میں شرکت کی انکے سفر ‘ پٹرول کھانے پینے کا بندوبست کس نے کیا اور اس پر کتنا خرچہ اٹھا یہ جو پشاور سے لیکر لاہور تک اشتہار بازی اور بل بورڈز اور بینرز کی پبلسٹی مہم چلائی گئی اس کیلئے پیسے کہاں سے آئے کیا اس جلوس پر ڈسٹرکٹ کونسلوں اور میونسپل کارپوریشنوں کے بجٹ سے پیسے نہیں لگائے گئے اگر اس ملک میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ادارہ متحرک ہوتا اور سیاسی مداخلت سے پاک ہوتا تو اس جلوس کے تمام منتظمین آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑے ہوتے سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس پوری مشق کی بھلا ضرورت ہی کیا تھی؟ قوم اور ملک کو اس سے کیا فائدہ ہوا؟ اگر آپ نے اپنے سیاسی منشور کا ہی ذکر کرنا تھا اور عوام کے سامنے اپنے کردہ یا ناکردہ جرائم پر سزا ملنے پر رونا دھونا ہی تھا تومارکیٹ میں درجنوں کے حساب سے ٹیلی ویژن چینلز موجود ہیں آپ بھی الطاف حسین کی طرح (ائیر ٹائم )خرید لیتے اور ٹیلی ویژن سکرین کے ذریعے جو کچھ بھی آپ نے قوم سے کہنا تھا کہہ دیتے اس سے آپ کا خرچہ بھی نسبتاً کم ہوتا اور ملک کے گوشے گوشے میں آپ اپنا پیغام پہنچا سکتے اور خلقت خدا بھی تنگ نہ ہوتی دو دن عام آدمی جس کا آنا جانا جی ٹی روڈ پر ہوتا ہے۔

اس قدر خجل خوار ہوا کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا شاہدخاقان عباسی کا بطور عبوری وزیراعظم انتخاب میاں نواز شریف کا اس لئے صحیح فیصلہ تھا کہ ان سے بہترین (ہزماسٹر وائس) انہیں مل ہی نہیں سکتی تھی شہباز شریف کو وہ اس منصب پر بٹھانا نہیں چاہتے تھے اور واقفان حال کے مطابق اس کی وجہ خاندانی رنجش تھی ان کے اپنے بال بچے پانامہ لیکس کیس کی زد میں آ چکے تھے لہٰذا ان کی نظر انتخاب خاقان عباسی پر ہی پڑنی تھی شاہد خاقان عباسی ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اب بھی ملک کا اصلی وزیراعظم تو میاں نواز شریف ہی ہے ایک منچلے نے کیا خواب کہا ہے کہ منافقت کی کوئی ضرورت نہیں زرداری صاحب اور میاں نواز شریف آپس میں سر جوڑ کر پارلیمنٹ سے ایک بل پاس کرا کراس ملک میں بادشاہت کا اعلان کر دیں اور اپنے اپنے خاندان کے افراد کیلئے ملک پر حکمرانی کیلئے باریاں مقرر کر لیں ۔