بریکنگ نیوز
Home / کالم / جمہوری حق اورمزاحمتی سیاست

جمہوری حق اورمزاحمتی سیاست

ریاست عدالت اور عدالت انصاف پر قائم ہوتی ہے۔ نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے پر بات ہو سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس فیصلے کو پہلے تسلیم کیا جائے اور بعد میں بحث کی جائے جیسا کہ نواز شریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے اٹھائیس جولائی کو وزارت عظمی سے علیحدگی کے حکم کو تسلیم کیا اور شاہد خاقان عباسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ کوئی اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وزارت عظمیٰ شریف خاندان سے باہر جائیگی بہرحال وزیر اعظم کی رخصتی کے بعد اقتدار کی منتقلی کا عمل خوش اسلوبی سے طے پا گیا اور ملک میں جمہوریت کا تسلسل بھی برقرار رہا مگر کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونی چاہئیں پاکستان اپنے قیام کے ستر برس مکمل کر چکا ہے لیکن اس دوران بدقسمتی سے کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدتِ حکمرانی مکمل نہیں کر سکا۔ پاناما لیکس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آچکا ہے۔ فیصلے کے بعد سیاست کا میدان پھر گرم ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے رہنما ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں۔ کوئی نواز شریف کی رخصتی کو قانون کی حکمرانی تو کوئی اسے جمہوریت کیخلاف سازش سے تعبیر کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ تاریخ ہی بہتر انداز میں کر سکے گی کہ حقیقت کیا ہے۔ نواز شریف نے عدالت عظمیٰ سے نااہلی کی سزا کے بعد آخرکار عوام کا رخ کیا ہے جو کہ ان کا سیاسی حق ہے گو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت اب وہ کوئی سیاسی عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گے۔ ایسے میں سیاسی تلاطم بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب وہ مزاحمتی طرز سیاست اختیار کر سکتے ہیں جس سے سیاسی انتشار کے علاوہ اداروں کے درمیان تصادم بھی پیدا ہو سکتا ہے‘ جس سے پاکستان کا جمہوری نظام براہ راست متاثر ہوگا۔

صورتحال جو بھی ہو‘ اصل فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے۔ میاں صاحب فیصلہ کر لیں کہ آپکو تاریخ میں زندہ رہنا ہے یا ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کی خاطر پورا نظام داؤ پر لگانا ہے۔ بصد احترام رائے یہ ہے کہ سول بالادستی ایسے قائم نہیں ہو گی بلکہ کمزور بنیادوں پر کھڑا یہ نظام دھڑام سے نیچے گر جائے گا اور سب خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ میاں صاحب پھر سوچ لیں‘ تصادم میں کمزور فریق ہمیشہ گھاٹے میں رہتا ہے اور پاکستان کا جمہوری نظام ابھی استحکام کی اس نہج پر نہیں پہنچا جہاں تصادم کے لئے آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے اگر آپ جمہوری مزاج کے حامل اور جمہوریت کے حامی ہیں تو اپنی ذات کے خول سے نکل کر سوچیں جمہوریت قائم ہے‘ آپکی جماعت برسر اقتدار ہے اور وزیراعظم آپ کا اپنا پسندیدہ ہے تو پھر احتجاج کس بات کا اور کس بات پر؟ کیا جمہوریت اور سول بالادستی کی تعریف صرف اور صرف میاں نواز شریف کا وزیراعظم ہونا ہے؟ سول بالادستی کا نعرہ بہت متاثر کن ہے لیکن آپ کو سول بالادستی اپنی نااہلی کے بعد ہی کیوں یاد آئی؟ جب آپ وزیر اعظم تھے تو جس پارلیمنٹ نے آپ کو اس منصب پر فائز کیا تھا‘ بدقسمتی سے آپ وہاں جانا وقت کا ضیاع سمجھتے تھے۔ سول بالادستی بذریعہ جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) اسلام آباد سے لاہور تک مارچ سے قائم نہیں ہوگی۔

جس پارلیمنٹ کو مضبوط کر کے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا تھا‘ وہ موقع گنوا دیا گیا ہے۔ سول بالادستی کا مطلب ہوتا ہے عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کی بالادستی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ووٹ لینے والوں نے ووٹ کا تقدس قائم کیا؟کیا ووٹ کا تقدس ایک مخصوص دن پر حق رائے دہی کے استعمال‘ اس کے بعد اسمبلیوں کے قیام اور وزیرِ اعظم کے انتخاب تک محدود ہے؟ نواز لیگ خاندانی سیاست کرتی ہے جسکے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ اس جماعت کی قیادت منتخب ارکان اسمبلی سے ملنا گوارا نہیں کرتی کیونکہ وہ اپنے حلقوں سے متعلق گزارشات پیش کرتے ہیں۔ کوئی کہے گا کہ یہ سب مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ چلئے مان لیتے ہیں لیکن انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے آج تک نواز لیگ یا اِس کی حکومت نے جو کچھ بھی کیا ہے اُن میں عملی اقدامات شامل نہیں! نواز لیگ حکومت کو ماضی میں تاریخ کے طویل ترین احتجاجی دھرنے کا سامنا کرنا پڑا لیکن چار سال گزر جانے کے باوجود انتخابی اصلاحات نہیں لائی جا سکیں‘ کیا یہی سول بالادستی قائم کرنے کا جذبہ اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کا طریقہ ہے؟ سول بالادستی قائم کرنیکا طویل سفر سیاسی جماعتوں سے شروع ہوگا جب ان کو خاندانی اجارہ داری کا ذریعہ بنانے کے بجائے حقیقی جمہورریت کی حامل جماعتیں بنا دیا جائیگاسیاسی جماعتیں کسی مخصوص شخصیت کی محتاج ہونے کے بجائے خاص نظریئے کی ترجمان ہونگی جس کے بعد صاف اور شفاف انتخابی عمل کا قیام ہوگا۔ بہتر طرز حکمرانی‘ شفافیت‘ قانون کی حکمرانی و بالادستی‘ قانون کا یکساں نفاذ‘ بہتر معاشی پالیسیاں‘ جمہوری نظام میں عوام کی براہ راست شمولیت اور نظامِ عدل میں اصلاحات کے بغیر سول بالادستی کا قیام ممکن نہیں۔ طویل اور صبر آزما سفر طے کرنے کیلئے سیاسی بصیرت کے ساتھ تحمل بھی درکار ہے ورنہ یہ پہیہ الٹا بھی گھوم سکتا ہے اور نواز لیگ کو سمجھنا چاہئے کہ اُس کا ماضی اُس کا مستقل پیچھا کر رہا ہے۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عمردراز خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)