بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اُلٹی تدبیریں!

اُلٹی تدبیریں!

گھر کا بیدی لنکا ڈھائے۔ تاحیات سیاسی نااہلی کی سزا جھیلنے والے نواز شریف کی بھابھی محترمہ تہمینہ درانی نے ایک مرتبہ پھر ملک کے سیاسی حالات پر نہایت ہی صاف گوئی سے تبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جو شریف خاندان کم سے کم اِس موقع پر تو بالکل بھی سننا پسند نہیں کرے گا یا کم سے کم نہیں چاہے گا کہ ان کے اپنے ہی خاندان کا کوئی فرد ایسی بات کہے‘ جس سے نئی بحث کا آغاز ہو جائے! ٹوئٹر کے ذریعے ’خاندان کی سوچ بصورت پیغام‘ میں نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اپنے بھائی کو امتحان میں ڈالنے اور ملک کے حالات خراب کرنے کی بجائے (سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کر لیا جائے۔‘ اس سے قبل محترمہ تہمینہ کے ٹوئٹر پیغامات پانامہ لیکس کے موقع پر سامنے آئے تھے جن میں نواز شریف کو محاذ آرائی اور جھوٹ بولنے کی بجائے اپنے غلط فیصلوں اور بدعنوانیوں کو تسلیم کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن حاکمانہ سوچ تب بھی حاکم رہی کہ ’’وہ مرد ہی کیا جو کسی عورت سے مشورہ لے‘‘ اور تاریخ گواہ ہے کہ تب سے آج تک نوازلیگ کو ہر سیاسی فیصلے کی بھاری قیمت اَدا کرنا پڑی ہے اگر وہ ایسے کامیاب کاروباری انسان کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں کہ جنکی اولادیں بالغ ہونے سے قبل کھربوں روپے کے معلوم و نامعلوم اثاثوں کی مالک بن چکی تھیں تو سیاسی میدان میں ان کے نام ہر لکھی ہوئی کامیابی کا انجام تاریخی تو ہے لیکن مثالی نہیں اگر وہ سن لیتے تو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں چار نشستوں پر دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے سے پانامہ کیس معاملے تک سبھی امور قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہو جاتے تو آج نوازشریف یوں اپنی نااہلی کا مقدمہ مبینہ عوام کی عدالت میں لیجانا نہ پڑتا۔ جسے حزب اختلاف قومی اداروں کی توہین قرار دے رہے ہیں اور اس بارے میں 11 اگست کے روز تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں بھی خسارہ کم تھا کہ اگر خاندان کے مرد حضرات دانشور ثابت نہیں ہوئے تو بھابھی کی بات پر عمل کرلینے سے عافیت ممکن تھی لیکن ایک سنہرا موقع گنوا دیا گیا!بدقسمتی یہ ہے کہ نواز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ کی وہ مرکزی قیادت موجود نہیں‘ جو قبل ازیں انکے شانہ بشانہ دکھائی دیتا تھا۔ کیا موقع پرستوں نے راستے الگ کر لئے ہیں؟ اسلام آباد سے لاہور‘ جی روڈ مارچ میں بڑی تعداد غیرمعروف سیاسی کرداروں پر مشتمل ہے۔ اس نفسانفسی کے ماحول میں اگر کوئی ایک غیرمتعلقہ شخص نوازشریف کے شانہ بشانہ ہے تو وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم ’راجہ فاروق حیدر‘ ہیں‘ جنہوں نے 9 اگست کو کھل کر پاکستان کی اس سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیا جس سے آزاد کشمیر حکومت کا کوئی تعلق نہیں بنتا! ماضی میں کسی بھی آزاد کشمیر کے رہنماکا اس قسم کا کردار دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بہرحال راجہ صاحب کے اپنے محاذ ’کشمیر‘ پر بھارت کے مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پانامہ کیس فیصلے کے بعد سے تو کشمیر کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی آئی ہے جسکی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کے ذمہ دار دیگر مصروفیات میں اُلجھے دکھائی دیتے ہیں! حقیقت حال یہ ہے کہ ’اِسلام آباد سے لاہور‘ جی ٹی روڈ ریلی کے ذریعے عدالتوں کو مرعوب کرنے کی کوشش زیادہ پُراثر دکھائی نہیں دے رہی! کیونکہ قومی اِحتساب بیورو نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کی اُس 10ویں جلد کو بھی طلب کر لیا ہے‘ جسے خفیہ قرار دیا جا چکا ہے۔ سپریم کورٹ کا مؤقف ہے کہ 9 جلدوں میں دی گئیں تفصیلات شریف خاندان کے خلاف مالی و انتظامی بدعنوانیوں سے متعلق مقدمات تیار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ دوسری جانب نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو ریفرنس کے دوران ملوث ملزم یا ملزمان کو گرفتار کرے یا نہ کرے۔

ماضی میں ایسی کم سے کم ایک مثال موجود ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ سے قبل اَز گرفتاری ضمانت حاصل کرنے والے ملزم کو اِس ضرورت (دلیل) کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کہ نیب کو مزید پوچھ گچھ کرنی ہے۔ شریف خاندان کے سب سے زیادہ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد میں حسن نواز اور حسین نواز شامل ہیں۔ خدا کرے کہ یہ خبر جھوٹ ثابت ہو کہ ’’نیب راولپنڈی کی جانب سے شریف خاندان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ آخر نیب کی جانب سے یقین دہانی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا قومی ادارے آج بھی وفاقی حکمراں جماعت کے بانی اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردیاں رکھتے ہیں؟ نیب کی جانب سے گرفتاری نہ کرنے کا اشارہ اپنی جگہ لیکن قانونی تقاضوں کو پورا ہونا چاہئے اور شریف خاندان کو نیب کی ساکھ کے لئے رسمی طورپر ’ضمانت قبل اَزگرفتاری‘ کروا کر یہ تاثر دینا چاہئے کہ ان کے خلاف نیب بلاامتیاز کاروائی اور مقدمات قائم کرے گا۔ اگر ہر بات اُور ہر تدبیر اُلٹ ہو رہی ہے تو دیکھنا یہ چاہئے کہ اِس ’’بیمارئ دل‘‘ کے ہاتھوں کہیں باقی ماندہ کام بھی تمام ہی نہ ہو جائے تو پہلے ہی ’تاحیات نااہلی‘ کے باعث ’منطقی انجام‘ کو تو پہنچ ہی چکا ہے! بقول میر تقی میرؔ ’’اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔۔۔دیکھا اِس بیمارئ دل نے آخر کام تمام کیا!‘‘