بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارتی یوم آزادی، مقبوضہ کشمیر فوجی چھاؤنی میں تبدیل

بھارتی یوم آزادی، مقبوضہ کشمیر فوجی چھاؤنی میں تبدیل

سری نگر۔مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے 15اگست کو بھارتی یوم آزادی کے پیش نظر پوری مقبوضہ وادی خاص طور پر سرینگر میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دئیے ہیں۔سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبارکی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے پوری مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ سری نگر میں بخشی اسٹیڈیم جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد سرکاری تقریب کا انعقاد ہوگا کے اطرا ف میں بڑی تعداد میں قابض اہلکار تعینات کر کے انھیں انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جگہ جگہ شہریوں سے شناختی کارڑ طلب کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ہی قابض بھارتی فورسزکے جبر واستبداد کے باعث انتہائی مشکلات سے دوچار کشمیری عوام کیلئے بھارتی یوم آزادی مزید مشکلات لے آیا ہے۔دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اوریاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے پوری مقبوضہ وادی خاص طور پر جنوبی اضلاع میں نہتے کشمیریوں کیخلاف ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے کی منسوخی کے بھارت کے منصوبوں کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ مظاہرین نے آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کیے۔مشترکہ قیادت نے سرینگر میں جاری بیان میں ترال کے علاقے گلاب باغ میں پر امن مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں سولہ سالہ طالب علم محمد یونس شیخ کے قتل اور کئی دیگر افراد کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے علاقے کو بھارتی فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی پولیس نے حریت رہنما اور جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین مختار احمد وازہ کو کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد قصبے کے علاقے کاڈی پورہ میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کرلیا ہے۔