بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا ٗمحکمہ انسداد دہشتگردی کی جائزہ رپورٹ جاری

خیبر پختونخوا ٗمحکمہ انسداد دہشتگردی کی جائزہ رپورٹ جاری

پشاور۔محکمہ انسداد دہشتگردی خیبر پختونخوا نے رواں سال کے دوران دہشتگردی کے واقعات کی رپورٹ جاری کردی اعداد وشمار کے مطابق سال 2017 میں دہشتگردی کی شرح میں گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے میں انتہائی کم رہی سال 2009 میں دہشتگردی کے سب سے زیادہ واقعات رونماہوئے جن کی تعداد 927رہی سال 2016 اب تک پرامن سال رہا جس میں دہشتگردی کے کل 274 واقعات رونما ہوئے۔

رواں سال اب تک دہشتگردی کے 70 واقعات رونما ہوئے ترجمان کے مطابق اغوا برائے تاوان کے واقعات کے حوالے سے سال 2017 میں اغوا برائے تاوان کی شرح پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں سب سے کم شرح رہی سال 2009 میں اغوا برائے تاوان کے سب سے زیادہ واقعات رونماہوئے اور کل178 کیسز رجسٹر ڈہوئے 2016 میں اب تک پرامن سال رہا جس میں اغوا برائے تاوان کے کل 16واقعات رونما ہوئے سال 2017 میں اب تک اغوا برائے تاوان کے 06 واقعات رونما ہوئے جو2009 کے مقابلے میں 7 9فیصد کم ہے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے حوالے سے سال 2017 میں ٹارگٹ کلنگ کی شرح بھی پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں سب سے کم شرح رہی سال 2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے سب سے زیادہ واقعات رونماہوئے اور کل643 کیسز رجسٹر ڈہوئے۔

2016 میں اب تک پرامن سال رہا جس میں ٹارگٹ کلنگ کے کل72واقعات رونما ہوئے سال 2017 میں اب تک ٹارگٹ کلنگ کے21 واقعات رونما ہوئے جو نہ صرف سب سے کم ہے بلکہ2013 کے مقابلے میں 7 9فیصد کمی واقع ہوئی ہے بھتہ خوری کے واقعات کے حوالے سے سال 2017 میں بھتہ خوری کی شرح پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں سب سے کم شرح رہی سال 2014 میں بھتہ خوری کے سب سے زیادہ واقعات رونماہوئے اور کل344 کیسز رجسٹر ڈہوئے سال 2016 میں اب تک پر امن سال رہا جس میں بھتہ خوری کے کل44واقعات رونما ہوئے ۔

سال 2017 میں اب تک بھتہ خوری کے16 واقعات رونما ہوئے جوکہ نہ صرف سب سے کم ہے بلکہ 2014 کے مقابلے میں5 9فیصد کمی واقع ہوئی ہے سال 2017 میں دہشتگردی او ر اغوابرائے تاوان کے علاوہ دیگر جرائم میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے دیگر جرائم کے وقعات کے حوالے سے سال 2017میں تمام جرائم کی شرح پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں سب سے کم رہی سال 2016 میں تمام جرائم کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے سال 2016 کے گزشتہ سات ماہ میں کل 10005 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جبکہ سال 2017 میں اب تک سات ماہ میں تمام جرائم کے کل 9310 واقعات رونما ہوئے جوکہ نہ صرف سب سے کم ہے بلکہ 2016 کے مقابلے میں سا ت فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں سال 2017 میں صوبہ خیبر پختونحوا دہشتگردی ، بھتہ خوری ، اغوابرائے تاون اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے لحاظ سے پُرامن رہاموجودہ حالت میں جرائم ، سیکورٹی اور دہشتگردی کے لحاظ سے صوبہ خیبر پختونحوا تمام صوبوں سے زیادہ محفوظ صوبہ ہے۔