بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / سکینڈلز کی سیاست

سکینڈلز کی سیاست

سیاستدان نواز شریف ہو عمران خان یا ڈونلڈ ٹرمپ اس پر بننے والا ہر مقدمہ ایک سکینڈل کی شکل اختیار کر لیگا اس مقدمے کی نوعیت جو بھی ہواسے سکینڈل بننے سے بچایا نہیں جاسکتا میاں نواز شریف کے خلاف قائم کیا جانے والا پاناما لیکس کا مقدمہ اتنا بڑا سکینڈل بن چکا ہے کہ اسکی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے عمران خان پر عائشہ گلالئی کے لگائے ہوئے الزامات سچ ہیں یا جھوٹ وہ بھی ایک سکینڈل کا روپ دھار چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دینے کیلئے روسی حکام سے مدد لی تھی یا نہیںیہ تفتیش و تحقیق بھی واٹر گیٹ سے بڑا سکینڈل بن چکی ہے سیاستدان اگرکرپٹ اور بد اعمال ہوں تو کیا انکا احتساب نہیں ہونا چاہئے ہونا تو چاہئے مگر اس طرح سے نہیں کہ پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہاتھ ڈوریاں ہلاتے ہوئے صاف نظرآرہے ہوں اگر قائداعظم اور ابراہام لنکن کے پیچھے بھی کیل کانٹے سے لیس ایک جے آئی ٹی بھوکے بھیڑیوں کی طرح چھوڑ دی جائے تو انکے خلاف بھی کچھ نہ کچھ نکل ہی آئیگا ۔

اس غضبناک اور بھپری ہوئی حکومتی مشینری نے اگر ہر پتھر اور ہر چٹان کے نیچے کھدائی کرکے تیس برسوں کے ریکارڈ جمع کر رکھے ہوں اور انصاف کرنے والے پہلے دن ہی سے گاڈ فادر اور سسلین مافیا کی قصے سنا رہے ہوں تو شکوک وشبہات کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جا سکتایہ وہ تمام پہلو اور وسعتیں ہیں جو کسی مقدمے کو سکینڈل بنا دیتی ہیں اب میاں نوازشریف اسے عوام کی عدالت میں لے آئے ہیں انہوں نے کھلم کھلا ریاستی اداروں پر تنقیدشروع کر دی ہے انکے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو اصل مقدمہ باقی ہے نیب نے جب کرپشن ‘ دروغ حلفی‘ کاغذات میں ردو بدل اور دیگر بے اعتدالیوں کے الزامات کو طشت ازبام کیا تو پھرانکے ہوش ٹھکانے لگیں گے میاں صاحب نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے داتا دربار تک کے سفر کے دوران جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تھانہ کچہری اور قیدو بند کے مقامات آہ و فغاں سے آگے نکل گئے ہیںآجکل کلیم عاجز کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہتا ہے
جو گذر جائے گذر جانے کو جی چاہتا ہے

جی ٹی روڈ انکے برسوں پرانے طرفداروں کا حلقہ ہے اس وکٹ پر کپتان کی گیندیں چوکوں چھکوں کی صورت میں گراؤنڈ سے باہر جاتی ہوئی نظرآرہی ہیں ناقدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وسطی پنجاب سے باہر میاں صاحب کے ہاتھ خالی ہیں تینوں چھوٹے صوبوں میں انکی جماعت ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی ہوئی ہے لوگ جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں فاتح جماعت کو ستر یا ساٹھ فیصد ووٹ بھی نہیں ملتے برطانیہ میں تھریسامے نے بمشکل تمام حکومت بنائی ہے فرانس میں امینول میکرون نے زبردست فتح حاصل کی مگر اسے بھی اقتدار حاصل کرنے کیلئے اتحادی جماعتوں کی ضرورت پڑ گئی امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن سے لگ بھگ تیس لاکھ کم ووٹ لئے مگر وہ الیکٹورل کالج میں زیادہ سیٹیں حاصل کر کے انتخاب جیت گئے اس میدان میں فتح پارلیمان میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والے کی ہوتی ہے وسطی پنجاب کا جی ٹی روڈ اگر یہ گوہرہائے تابدار مہیا کر سکتا ہے تو ان سے جھولی بھر لینے میں کیا حرج ہے۔ ایسے میں چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ ’’ سیاست اور پارلیمنٹ کو سازش کے تحت نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے‘ کھیل بہت کھیل لئے گئے اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے ملک اداروں کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا ہر ادارہ اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے‘‘ مذہبی سکالرمفتی منیب الرحمان نے بارہ اگست کے کالم میں لکھا ہے’’ سپریم کورٹ نے جس آئینی و قانونی سبب کی بنیاد پر جناب نواز شریف کو نا اہل قرار دیا ہے اسکی معقولیت کے بارے میںآئینی و قانونی ماہرین کی آراء منقسم ہے‘‘ صرف ماہرین کی آراء ہی منقسم نہیں پورا معاشرہ بھی منقسم ہے یہ تقسیم پیدا کرنیوالوں نے آخر یہ کیوں نہ سوچا کہ سیاستدانوں کا کیرئیر عدالتوں میں ختم نہیں کیا جا سکتا انکی فتح اور شکست کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوتا ہے پیپلز پارٹی اگر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی تو یہ عوامی عدالت کے حرف آخر ہونے کی گواہی تھی ریاستی اداروں نے اس شکست سے سبق کیوں نہ سیکھا اسکی کئی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ یہ غلطی بار بار کرنے کے باوجود انکے پلے سے کچھ نہیں جاتا لہٰذا اس کھیل کو جاری رکھنے میں کیا حرج ہے دوسری یہ کہ بازی مسلسل کوششوں کے باوجود اگر ہاتھ سے نکل رہی ہو تو پھرایک بڑا داؤ لگانا پڑ جاتا ہے مئی2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات‘ اسکے بعد دھرنے اور پھر ڈان لیکس بھی دشمن کو ناک آؤٹ نہ کر سکے تو پھر پاناما لیکس کو ہاتھ سے کیوں جانے دیا جاتاان بازی گروں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے توکیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

اس کھیل کے کھلاڑی جس حقیقت کو کبھی بھی تسلیم نہ کریں گے وہ یہ ہے کہ جمہوریت کی سیاست اور سکینڈل کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جمہوریت میں دوسرے فریق کی حیثیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے یہ ماننا پڑتا ہے کہ مخالفین کو دلیل سے قائل کرنا پڑیگا آگے بڑھنے کیلئے سمجھوتہ کرنا پڑیگا اسکے برعکس سکینڈل کی سیاست میں دشمن سے مکالمہ نہیں کیا جاتا بلکہ اسے نیست و نابود کرنے پر سارا زور صرف کیا جاتا ہے اسکے کردہ یا ناکردہ گناہوں کا سراغ لگا کر اسے بے توقیر کرنیکی کوشش کی جاتی ہے یہ سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں کہ تماشا کھڑا کر کے عدو کو ہمیشہ کیلئے رسوا کر دیا جائیگا سکینڈل کی سیاست میڈیا کیلئے بھی نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتی ہے ٹاک شوز پر اچھی ریٹنگ کا ہن برستا ہے ہر گھنٹے بریکنگ نیوز کا غلغلہ بلند ہوتا رہتا ہے جوشیلے اینکرز اور تیزو طرار وکیل اپنے اپنے میدانوں میں پھرتیاں دکھاتے پھولے نہیں سماتے یوں سکینڈل کی سیاست عوام اور انکے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں سے اختیار چھین کر ریاستی اداروں کے حوالے کر دیتی ہے اس ہیجان خیز سیاست کے بزرجمہروں کو الزام تراشیوں اور نعرے بازی کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا وہ ملکی مسائل کے بارے میں اپنی سوچ اور پالیسیاں بتانے کی بجائے ہنگامہ آرائی میں لگے رہتے ہیں یہ حکومت وقت کو اسکا کام نہیں کرنے دیتے معقول تنقید کرنیکی بجائے ہر کام میں روڑے اٹکاتے رہتے ہیں یہ نابغے اپنی شورہ پشتیوں کے ذریعے ایک ایسا سیاسی کلچر تخلیق کر دیتے ہیں جو سطحی‘ اتھلا اور گدلا ہوتا ہے یہ کلچرانکی بقا کاضامن ہوتا ہے سکینڈل کی سیاست کے اس تعفن میں یہ فسادی پھلتے پھولتے ہیں اور دشمن کو تباہ و برباد کر دینے کے سہانے خواب خود بھی دیکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی دکھاتے ہیں جب تک ان لوگوں کی سیاست ختم نہیں ہوتی جمہوریت کی سیاست شروع نہیں ہو سکتی۔