بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسلا م آباد سے لاہور

اسلا م آباد سے لاہور


حکمران(ن)لیگ کے سیاسی حریف اب تک میاں محمد نواز شریف کے اسلام آباد سے لاہور تک کے سڑک کے ذریعے سفر اور راستے میں جگہ جگہ عوامی اجتماعات سے خطاب کو سائیڈ لائن پر بیٹھ کر بڑے غور سے دیکھ رہے تھے اب جبکہ یہ مرحلہ اختتام پذیر ہو نے جارہاہے تو وہ جواب آں غزل کے طور پر سابق وزیراعظم کی تقاریرکے مندرجات پر تبصرہ کریں گے یہ کھیل لگتا ہے اب آئندہ الیکشن تک جاری و ساری رہے گا اتنی مخلوق نواز شریف کے اس زمینی سفر کے دوران سڑکوں پر نہیں نکلی کہ جتنی سابق وزیراعظم اور ان کے حواری توقع کررہے تھے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اولاً تو یہ کہ اگست کا مہینہ اس ملک میں جلسوں اور جلوسوں کیلئے سخت ناموزوں ہے ثانیاً اقتدار میں ایک ہی چہرے کو بار بار دیکھ کر لوگ اکتا جاتے ہیں ثالثاً سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے کے بعد نواز شریف کا سیاسی گراف کافی گرا ہے (کیمرہ ٹرک) سے بھلے آپ جلسوں جلوسوں میں کیوں نہ لوگوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر ناظرین کو دکھائیں اس ملک کا عام آدمی اب اتنا شعور ضرور رکھتا ہے کہ وہ اس قسم کی شعبدہ بازی سے دھوکا نہیں کھاتا لاہور میں (ن) لیگ والوں نے بے تحاشا پیسہ میاں برادران کے انتخابی حلقے میں مختلف قسم کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا ہے لہٰذا اگر وہاں میاں صاحب کے جلسوں میں بڑی تعداد شرکت کرے تویہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

‘ ماضی میں اگر عدلیہ کا کوئی فیصلہ کسی سیاسی پارٹی کو برا لگا تو اس پر اتنی لعن طعن رنجیدہ سیاسی پارٹی نے کبھی بھی نہ کی کہ جتنی (ن)لیگ والوں نے پانامہ لیکس کے کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر کی ہے یا دبی زبان میں پھر اسٹیبلشمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ریاستی اداروں کی اس طرح تذلیل کرنا اور انہیں عوام کی نظر میں بے توقیر بناناکوئی اچھی سیاسی روایت نہیں پی پی پی والوں کیلئے میاں نوا زشریف کی نا اہلی خوشی اور غم دونوں کا مقام ہے خوش وہ اس لئے ہیں کہ ان کیخلاف بغض رکھنے والا یک بڑا ستون اوندھے منہ گرا ہے لیکن غم اس بات کا ہے کہ اگر اب سپریم کورٹ کی توجہ ان کی کارستانیوں کی طرف مبذول ہو گئی تو ان کا کیا بنے گا؟ ان کو بھی پسوپڑ چکے ہیں اور وہ بھی کھجلی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

عین ممکن ہے کہ وہ سیاسی مصلحت کے تحت قومی اسمبلی میں اس معاملے میں اپنی ہم خیال سیاسی پارٹیوں کیساتھ گٹھ جوڑ کرکے آئین سے وہ دفعات خارج کر ادیں کہ جن کے نتیجے میں کرپٹ حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘ پیسے اور اقتدار سے اس ملک میں سب کچھ چلتا ہے ایک منچلے نے بالکل درست کہا ہے کہ یہ جو میاں صاحب نے بار بار گزشتہ چنددنوں میں اپنے جلسوں کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں نازیبا ریمارکس پاس کئے ہیں آخر ان سے ان کی مراد کیا ہے ؟ کیا وہ پبلک کو اشتعال دلا رہے ہیں کہ وہ جائیں اور ان پر حملہ کرکے ان کو سبق سکھا دیں ؟ اس طرح تو حکومتیں نہیں چلا کرتیں ؟ ادھر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ایک مرتبہ پھر پاکستا ن آ چکے ہیں وہ آندھی کی طرح آتے ہیں اور پھر بگولے کی طرح واپس بھی چلے جاتے ہیں ان کی سیاست اور غصے سے بھری ہوئی تقاریر کو لوگ سوڈا واٹر کی گیس کے ساتھ مشابہت دیتے ہیں جو بہت جلد بیٹھ جاتی ہے عام آدمی کا اب ان کی تقاریر کے مندرجات پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے ان میں یکسوئی اور یکسانیت کا فقدان ہے اگر تو انہوں نے اس ملک کی سیاست میں کوئی مثبت اور ٹھوس کردا ر ادا کرنا ہے تو ان کو وطن عزیز میں مستقل بسیرا کرنا ہو گا ۔