بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / مٹی کی محبت!

مٹی کی محبت!

اِحتیاط کا وقت ہے جس طرح نوازشریف پاکستان میں انصاف کے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی دانست میں یقین کئے بیٹھے ہیں کہ ترکی کے صدر اردوان کی طرح پاکستانی قوم انہیں اقتدار میں دوبارہ لانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے گی تو یہ اُن کی خام خیالی اور ’جی ٹی روڈ ریلی‘ کی صورت نظر آنے والے اِجتماعات ’نظر کا دھوکہ‘ ہیں! ذرائع ابلاغ بھی شریف خاندان کی رہنمائی نہیں کر رہے کہ جناب‘ ترک رہنما عوام کو تلاش کرنے سڑکوں پر نہیں آئے تھے بلکہ ملک میں جمہوریت کے دفاع اور بحالی کے لئے عوام نے ضروری سمجھا تھا کہ وہ کسی حکومتی اِدارے کو یہ اختیار نہیں دیں گے کہ وہ منتخب صدر کو یوں معزول کردے۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ ترکی میں عوام نے معزول صدر کو تلاش کیا اور کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے لیکن پاکستان میں وزیراعظم اپنے حامیوں کو تلاش کرنے 300 کلومیٹر کا فاصلہ قریب ایک سو گھنٹے میں مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر لاہور پہنچا تب بھی تاحیات نااہلی کا فیصلہ بدستور موجود تھا۔ ترکیوں نے عوام کے ووٹ کا تقدس پامال نہیں ہونے دیا۔ پاکستان میں چونکہ ووٹ کیساتھ جڑی ذمہ داریوں کو عوام کے منتخب نمائندے خود پامال کرتے ہیں اس لئے ان کے اور عوام کے درمیان کوئی دلی رشتہ ایسا نہیں کہ وہ سیاسی حکمرانوں کے کسی دکھ اور پریشانی پر تڑپ اُٹھیں۔

شریف خاندان کو یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ’28 جولائی 2017ء‘ کا عدالتی فیصلہ ان کے احتساب کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے اور انہیں مستقبل قریب میں بدعنوانیوں کے مزید کئی ایک زیادہ خطرناک مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کی زد میں ’دیگر اہل خاندان‘ اور سیاسی ہم خیال بھی آ سکتے ہیں! گویا پانامہ پیپرز سے زیادہ خطرناک سر پر لٹکنے والی وہ تیزدھار تلوار ہے‘ جس کا خطرہ صرف شریف ہی نہیں دیگر سیاسی خاندانوں کی نیندیں بھی حرام کئے ہوئے ہے۔ شریف خاندان نے اپنی نااہلی کا فیصلہ عوام کی اس عدالت میں چیلنج کیا ہے‘ جو قومی اسمبلی کے صرف پندرہ حلقوں پر مشتمل ہے اور لاہور پہنچنے کے بعد واضح ہو جائے گا کہ ان حلقوں کی اکثریت 9 اگست سے 13 اگست تک جی ٹی روڈ سے دور رہی! نواز لیگ جس ممکنہ اور متوقع عوامی حمایت سے محروم ہوئی ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ تحریک انصاف ہے جس نے اگرچہ جماعت اسلامی کے بعد کرپشن سے پاک‘ سماجی و سیاسی انصاف اور بلاامتیاز احتساب کا نعرہ لگایا لیکن تحریک انصاف کی 21 سالہ جدوجہد عوامی شعور بیدار کرنے میں زیادہ فعال وکامیاب ثابت ہوئی کیونکہ اس پر کوئی چھاپ نہیں تھی نواز لیگ کی طرح پیپلزپارٹی بھی تحریک انصاف کی منصوبہ بندی آئینی محاذ پر جدوجہد‘ چند روز میں بڑے عوامی اجتماعات کرنے کی صلاحیت‘ خیبرپختونخوا میں حکومت کی وجہ سے حاصل حیثیت اور پاکستان کے تغیرپذیر سیاسی منظرنامے میں اس تحریک کی صورت جماعت کے کردار کوحقارت سے دیکھ رہی ہے‘ یہی غلطی شریف خاندان کی طرح بھٹو خاندان اور بالخصوص کاسمیٹکس سرجری کے بعدنئے نویلے زرداری کو بھی بھاری پڑے گی‘ جن کی تان خیبرپختونخوا حکومت کی ناقص کارکردگی پر ٹوٹتی ہے لیکن عوام کی نظر میں تحریک انصاف نے شریف خاندان کو انجام تک پہنچاکر اپنے حصے کے وہ سارے فرائض ادا کر دیئے ہیں‘ جو اس پر واجب بھی نہیں تھے۔ ’’مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے ۔۔۔ وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے!‘‘ (افتخار عارف۔)

مٹی کی محبت ا‘ور واجب الادا قرضہ جات پیش نظر رہنے چاہئیں جو حقیقت اور باقی سب سراب ہیں۔ اے کاش کہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو مخالطے کا شکار کرنا اس قدر آسان نہ ہوتا۔ اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ کے اطراف میں قومی اسمبلی کے کل پندرہ انتخابی حلقے ہیں۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ان پندرہ میں سے چودہ حلقوں پر مسلم لیگ نواز کے نامزد امیدوار کامیاب ہوئے اور یہی وجہ تھی کہ تاحیات نااہلی کے بعد وزیراعظم نے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جانیکا فیصلہ کیا انہیں باور کرایا گیا تھا کہ چونکہ جی ٹی روڈ سے متصل قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے نواز لیگ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اسلئے اُن کا والہانہ استقبال اور اپنے ہردلعزیز رہنما کا دیدار کرنے کے لئے ’جم غفیر‘ اُمڈ آئے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ نواز شریف کا غصے اور مایوسی بلاجواز نہیں لیکن اس صورتحال میں دوستوں اور سیاسی ساتھیوں کو امتحان میں ڈالنے کی بجائے اگر وہ ’بطور رہنما‘ ذمہ دار روئیوں کا عملی مظاہرہ کریں تو مزید مسائل اور الجھنوں کا شکار نہیں ہوں گے لیکن اگر لاہور کے بعد بھی سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ قومی اداروں سے تصادم چاہتے ہیں! کیونکہ احتجاج چاہے جس قدر بھی وسیع پیمانے پر ہو‘ لیکن موجودہ آئین کے مطابق اس سے تاحیات نااہلی کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا!