بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بڑھتی آبادی کی ضروریات؟

بڑھتی آبادی کی ضروریات؟


وطن عزیز میں طویل وقفے کے بعد ہونے والی مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار ملکی آبادی 21 کروڑ90 لاکھ تک بتاتے ہیں خیبر پختونخوا میں3 کروڑ 10 لاکھ افراد گنے گئے ہیں ‘ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بھی آبادی میں اضافہ نوٹ ہوا ہے مردم شماری ایک جانب آبادی سے متعلق حقائق واضح کرتی ہے تو دوسری طرف ان اعداد و شمار کی روشنی میں حال اور مستقبل کیلئے ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی حکمت عملی ترتیب دینے کا تقاضا بھی کرتی ہے ہمارے ہاں آج انفراسٹرکچر کا ناکافی ہونا بنیادی شہری سہولیات کا فقدان اور دیگر مسائل اسی حکمت عملی سے روگردانی کا نتیجہ ہیں ہمارے ہاں پالیسیاں وقتی ضروریات کیلئے ترتیب دی جاتی ہیں ہم اکثر سکول اور ہسپتال طلباء اور مریضوں کی ضرورت کی بجائے بااثر لوگوں کو ان کے علاقوں میں بنا کر دیتے رہے ہیں جس کے باعث طلباء کی ضرورت پوری ہو سکی نہ ہی مریضوں کی یہی حال دوسرے ترقیاتی منصوبوں کا بھی ہے ۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک بار پھر نواز شریف کی پالیسیوں کو لے کر آگے بڑھنے کا عندیہ دے رہے ہیں وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ مضبوط معیشت کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت اور تاجر برادری معیشت کے استحکام کیلئے کوششیں کررہی ہے حکومت کے پالیسی سازوں کو یہ ارضی حقیقت مد نظر رکھنا ہو گی کہ اقتصادی اعشاریوں سے متعلق رپورٹس جاری کرنا اور ان کی روشنی میں اپنی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرنا قطعاً ناکافی ہے، معیشت کے استحکام کا تقاضا بیرونی قرضوں سے نجات اور عوام کی ریلیف سے جڑا ہے، جب تک آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی اور ترقیاتی حکمت عملی ترتیب نہ دی جائے گی اس وقت تک ثمر آور نتائج کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی‘اگر ہماری معاشی اور ترقیاتی حکمت عملی نئے سرے سے استوار نہ ہو تو مردم شماری کی ساری ایکسرسائز وسائل کا ضیاع ہی رہے گی۔

اصلاحات نتائج سے مشروط

محکمہ بلدیات میں شفاف آڈٹ اور شکایات سیل کا قیام قابل اطمینان ہے، سینئر وزیر بلدیات کا کہنا ہے کہ نقشہ جات، بلڈنگ کنٹرول اور اثاثہ جات سے متعلق تفصیل کمپیوٹرائزڈ کردی گئی ہے جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی خوبصورتی پر توجہ بھی دی جارہی ہے، وزیربلدیات کے اقدامات میونسپل سروسز اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے متعلق ان کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، اب اگلے مرحلے میں انہیں اپنے اقدامات کو عملی شکل دینے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، ہمارے ہاں درجنوں ایسے اعلانات اور اقدامات ریکارڈ پر موجود ہیں جن کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیاگیا تاہم یہ ا علانات عملی صورت اختیار نہ کرپائے جس سے لوگوں کو مایوسی ہوئی، صوبائی دارالحکومت پشاور میں صفائی اور خوبصورتی کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے، یہ بھی درست ہے کہ چند ایک سڑکوں پر ان کے نتائج بھی نظر آتے ہیں تاہم اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیاجاسکتا کہ اندرون شہر صورتحال جوں کی توں ہے، یہی حال ٹریفک کے نظام میں بہتری کا ہے، آج بھی شہری ٹریفک کے مسائل کا شکار ہیں، یہی حال دیگر شعبوں میں بھی ہے، جہاں اصلاحات اور ان کے نتائج کے درمیان وسیع فاصلہ دیکھاجاسکتا ہے، حکومت کو اپنے اعلانات اور اقدامات پر عمل درآمد کیلئے موثر نظام دینا ہوگا۔