بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان بلین ٹری سونامی ‘ 350,000ہیکٹرز کے جنگلات آباد کرنے کا دعویٰ

پاکستان بلین ٹری سونامی ‘ 350,000ہیکٹرز کے جنگلات آباد کرنے کا دعویٰ

پشاور۔پاکستان بلین ٹری سونامی نے350,000ہیکٹرز کے جنگلات اورغیر آباد زمین کو بحال کر کے بون چیلنج کا وعدہ پورا کردیا۔بین الاقومی یونین برائے تحفظ ماحولیات(آئی یو سی این) کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی نے350,000ہیکٹرز کے جنگلات اورغیر آباد زمین کو بحال کر کے بون چیلنج کا وعدہ پورا کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2015 میں بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا تھاجس کا مقصد صوبے میں ہندوکش پہارٹی علاقوں میں زمین کی تبائی اور نقصان سے بچانا تھا۔مہم کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا صوبے میں بون چیلنج کے 348,400ہیکٹر کا وعدہ پورا کرنے میں مدد ملی ہے جو 2020تک 150ملین ہیکٹرز اور2030تک 350ملین ہیکٹرز خراب زمین کو بحال کرنے کی عالمی کوشش کا حصہ ہے ۔

یہ اقدام پہلے بون چیلنج کے تحت بحالی کے مقاصد کی طرف پہلاقدم ہے ۔بلین ٹری سونامی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طہماسپ کا کہنا ہے کہ بنجر اور غیر آباد زمین کو آباد کرنے کا یہ منصوبہ نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ہو گا بلکہ مستقبل میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے وقوع پذیر ہونے والے حالات سے نمٹنے میں مددگار ہو گا۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت ساٹھ فیصد قدرتی تخلیق نو اور چالیس فیصد منصوبہ بندی کے ذریعے اپنا بحالی کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ منصوبے کے تحت 13000نرسریوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے نہ صرف مقامی سطح پر آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے بلکہ صوبائی سطح پر ہزاروں نوجوانوں اور خواتین کو ملازمت کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی یو سی این اینگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اس انتہائی اہمیت کے حامل سنگ میل کے حصول پر خیبرپختونخواہ مبارکباد کا مستحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ جنگلات کی بحالی اور بنجر زمین کی آبادکاری میں پاکستانی قیادت کی کاوشیں بین الاقوامی سطح پر بحالی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا بھی مظہر ہے۔

دریائے سندھ ‘ سوات اور دریائے کنہار کے کنارے لگائے والے درختوں سے نہ صرف زمین کے کٹاؤ کو روکنے میں مدد ملی بلکہ زرعی زمین کو محفوظ بنانے ‘ شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے ، جنگلی حیات کی بحالی اور فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار کو کنٹرول کرنے اور حیاتی ماحول تنوع کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملی ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خیبرپختونخواہ حکومت کی طرف سے 123ملین ڈالر کے فنڈز جاری کیے گئے جب کہ منصوبے کو جون 2020ء تک جاری رکھنے کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے مزید 100ملین ڈالر جاری کیے جائیں گے۔

ان فنڈز کے اجراء کے بعد یہ منصوبہ ملک کا سب سے بڑا ماحولیاتی سرمایہ کاری کا منصوبہ بن جائے گا۔بحالی کے اس منصوبے میں قدرتی ماحول میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ سال 2016ء میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے گرین پاکستان پروگرام کے تحت ملک کے طول و عرض میں100ملین درخت لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی طرف سے سماٹرا میں مئی 2017 میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بون چیلنج کے تحت قومی سطح پر 100,000ہیکٹر غیر آباد اور بنجر زمین کو شجرکاری کے ذریعے آباد کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔