بریکنگ نیوز
Home / کالم / یوم آزادی اور امید

یوم آزادی اور امید


آج بفضل خدا یہ ملک 70 برس کاہو گیا ہے اگرہم بینکاری کی زبان میں بات کریں تو اس کی بیلنس شیٹ کے کریڈٹ او رڈیبٹ دونوں خانوں میں کافی اندراج ہے یہ ایک قدرتی امر ہے کہ سوچنے والے اور شعور رکھنے والے لوگ یوم آزادی کے دن خواہ مخواہ ہر سال اس بات کا احاطہ کرتے ہیں کہ ان کے ملک نے کیا کھویا اور کیا پایا‘ لا محالا ان کی نظر اپنے قریبی او ر ہمسایہ ممالک پر پڑتی ہے اور وہ وہاں کے حالات اور اپنے ملک کے حالات کا موزانہ کرنے سے باز نہیں رہ سکتے بھارت اور ہم ایک ہی دن فرنگی تسلط سے آزاد ہوئے تھے اور چین میں ماوزئے تنگ اور انکے کامریڈوں نے 1949 میں اپنے ملک کو سرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد کرایا تھا یعنی ہماری آزادی کے ٹھیک دو برس بعد‘ ہمیں وہ کام آزادی کے فوراً بعد کر لینے چاہئے تھے کہ جو بھارت نے1947 کے فوراً بعد کر لئے مثلاً جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ‘ آئین کا نفاذ اور سیاسی اداروں کی آبیاری‘ اس بات کا کریڈٹ بھارت کو ضرور دیجئے گا کہ وہاں باوجود سیاسی اختلافات کے ان کے سیاسی اداروں میں اتنی جان ضرور ہے کہ وہاں کسی فوجی جرنیل کی یہ جرات نہ ہو سکی کہ وہ شب خون ما ر کر وہاں مارشل لاء لگا سکے مودی کے برسر اقتدار آنے سے پہلے تک بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی ایسی رکھی کہ دونوں سپر پاورز یعنی ماسکو اور واشنگٹن سے بنا کر رکھی او ر دونوں سے فوائد حاصل کئے ہماری طرح وہ صرف ماسکو یا واشنگٹن کی گود میں نہ بیٹھا اس کے علی الرغم ہم نے اب تک اپنے تمام انڈے امریکہ کی ٹوکری میں ہی رکھے ہوئے ہیں روس کا آج تک ہم سے دل میلا ہے اپنے اس ہمسایہ ملک سے امریکہ کی خاطر دشمنی مول لینے میں بھلا کونسی دانشمندی تھی ہمارے ہر حکمران نے 14 اگست کے دن11 ستمبر اور25 دسمبر کے روز ہر برس بانی پاکستان کے یوم وفات اور یو م پیدائش کے دن اپنی تقاریر میں قائداعظم کے گن گائے۔

لیکن عملاً ان کے ہر فرمان کی نفی کی اور ان کے فرمودات اور ہدایات کے بالکل برعکس کام کیا آج کے دن ان کی روح یقیناًیہ دیکھ کر ضرور تڑپتی ہو گی کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے اور ہم نے اسے کیا بنا دیا ہے 1973ء تک تو ہم ملک کیلئے آئین بنانے میں ناکام رہے اور سیاسی انتشار کی وجہ سے ہم نے اپنا آدھا ملک گنوا دیا چین پر ہی ذرا ایک طائرانہ نظرڈال لیجئے گا ہم سے کئی گنا وہ بڑا ملک ہے جب 1949میں ماؤزئے تنگ اور ان کے کامریڈ وہاں اقتدار میں آئے تو ان کو لاتعداد مسائل کا سامنا تھا آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی تھی کہ اس کو تھامنابڑا مشکل کام تھا تعلیمی ‘ معاشی ‘ مالی اور عسکری لحاظ سے وہ کافی خستہ حال تھا ہر تیسرا چینی افیون کھانے کی لت میں مبتلا تھا لیکن چونکہ اللہ پاک نے چین کو آزادی کے بعد ایک غریب پرور ‘ عوام دوست اور دیانتدار قیادت سے نواز تھا اس نے آزادی کے بعد تقریباً بیس برس تک چین کو ایسی بنیادیں فراہم کیں کہ آج جو ان پر چین کی عظیم الشان عمارت ایستادہ ہے وہ انہی مضبوط بنیادوں کی مرہون منت ہے یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمیں آج تک ایسی قیادت میسر نہ آ سکی کہ جس نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا ہو کہ اس ملک میں امیر اور غریب کے درمیان دن بہ دن بڑھتی ہوئی خلیج کو کیسے کم کرنا ہے زمینداروں سے زمینیں چھین کر قانونی طور پر انہیں قومیانے کے بعد بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں کیسے تقسیم کرنی ہیں اشرافیہ کو کیسے ٹیکس نیٹ کے اندرلانا ہے ملک میں ہر خاص و عام کو تعلیمی وطبی سہولیات کیسے فراہم کرنی ہیں وی وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کیسے کرنا ہے افسوس ہے کہ جو بھی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھا اس نے اپنی تجوری بھرنے کا اہتمام کیا 14 اگست خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ اس ملک کا عا م آدمی اپنے ملک کے حالات سے سخت دل برداشت ہے وہ تاریک سرنگ میں سے گزر رہا ہے اور سرنگ کے آخر میں اسے روشنی کی کوئی لو نظر نہیں آ رہی۔