بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد

سترسال گزر گئے‘ستر سال پہلے ایک خواب کی تعبیر ملی۔دوسرے سال ہی قائد ہم سے جدا ہو گئے۔ قومیں جب بنتی ہیں کہ قائد اُن کے سر پر بہت عرصہ تک رہیں۔ چین میں انقلاب آیا۔ جن لوگوں نے اس انقلاب کا جھنڈا تھاما تھا وہ آزادی ملنے کے بعد ایک بڑی مدت تک چین کی سرپرستی کرتے رہے۔ماؤزے تنگ ہو یا چو این لائی اس جدو جہد کے سرخیل تھے۔ جب آزادی ملی تو وہ مشن جس کو لے کر وہ جدوجہد کر رہے تھے اور جس کے لئے انہوں نے تاریخی لانگ مارچ کیا تھا وہ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے بڑی مدت تک اپنے عوام کے سروں پر قائم رہے ۔اسی لئے یہ جھگڑا نہ پڑا کہ انہوں نے کس مقصد کے لئے چین کو جاپان کے تسلط سے نکالا تھا۔اک خوابیدہ قوم۔جس کا کام افیون کھانااور سو رہنا تھا اسکو سکھایا کہ سونے والے آزادی نہیں لیا کرتے اور جب آزادی لے لی ہے تو اب سونا حرام ہو گیا ہے۔وہی چینی جو افیون کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر تے تھے ان کی زندگیوں سے افیون کو ایسے نکالا کہ اب چین میں نام کا بھی کوئی افیونچی نہیں ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے لیڈ کیا تھا وہ مقصد کے حصول تک آزاد قوم کے سروں پر قائم رہے اور اسکو اپنے مقصد سے بھٹکنے نہیں دیا پاکستان کیساتھ بد قستی یہ ہوئی کہ اس کے رہبر جنہوں نے ایک مقصد کے تحت آزادی حاصل کی تھی وہ چار سال کے اندر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور یہ چار سال جو بڑے لیڈروں نے گزارے اس میں بھی سوائے مہاجرین کی آباد کاری اور ان کے آنسو پونچھنے کے کچھ نہ کر سکے۔ان کو اتنا موقع ہی نہ مل سکا کہ وہ اس مقصد کو لاگو کر سکتے کہ جس کے لئے انہوں نے جدوجہد کی تھی اور جس کے لئے انہوں نے دوہری جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی۔

ان کے جانے کے بعد ان کے مقصد کو ہزار معنی پہنانے والے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ گئے اور جس مقصد کے لئے وطن حاصل کی گیا تھا اس کو ایسا پھیرا گیا کہ آج نئی پود ڈھونڈ رہی ہے کہ ہمارے لئے کیوں ایک علیحدہ وطن لیا گیا تھا۔ہندوستان کی بھی یہ خوش قسمتی رہی کہ اس کے لیڈران تا دیر اس ملک کے سر پر رہے اور جس خاطر انہوں نے آزادی حاصل کی تھی اس کو پوری طرح لاگو کیا۔ انہوں نے جمہوریت کو اپنا مقصد بنایااور اسی کو لے کر چلتے رہے اور اسے اتنا مضبوط کر دیا کہ آج کوئی دوسری طرز حکومت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اتنے بڑے ملک میں کمیاں بیشیاں بھی آتی رہی ہیں مگر جو بنیاد بڑوں نے رکھی اور اسے پروان چڑھایا وہ اتنی مضبوط ہے کہ کوئی طالع آزما اس کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے مقابلے میں ہمیں آزادی افکار کی دولت ملی اور ہم نے پاکستان کو اپنے اپنے افکار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور نہ ہم تین میں رہے اور نہ تیرہ میں۔ ہم نے اپنے قائد کے افکار کو اپنے اپنے معنی پہنائے او رچونکہ قائد تو اس دنیا میں نہیں تھے اس لئے افکا رپریشاں ہو گئے۔ ستر سال میں ہم نے اپنا ایک بڑا حصہ اس لئے کھو دیا کہ ہم نے جمہوریت کی عزت نہیں کی اسلئے کہ جمہوریت میں تو حکومت اس پارٹی کی ہوتی ہے جسکو عوام اکثریت سے چُنتے ہیں مگر ہماری بد قسمتی یہیں سے شروع ہو گئی کہ ہم نے اکثریت کو ماننے سے انکار کر دیا اور اقلیتی پارٹی کو حکومت دینے پر اصرار کیا جسکا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ اکثریت والے ایک طرف ہو جائیں تاکہ اقلیت والے حق حکمرانی حاصل کر سکیں۔جمہور کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ ہی تھی کہ پاکستان کے دو حصے ہو گئے جس حصے میں اقلیتی حکومت قائم ہوئی وہ پاکستان کے ا صل نظریئے سے منحرف ہو گئی اور سوشل ازم کو طرز حکومت بنانے کا اعلان کر دیا اور نہ سوشل ازم ہو سکا اور نہ اسلام۔اور طا لع آزماؤں کو موقع دیا گیا کہ وہ حکمرانی کا تاج اپنے سر پر پہنیں جس کے وہ کسی بھی طرح حقدار نہیں تھے۔

اسی لالچ نے ہمیں بہت زیادہ دکھ بھی دیئے اور آج تک ہمیں دکھ ہی مل رہے ہیں کہ آج تک ہمار ے ہاں جمہوریت کی رو سے آنے والا کوئی بھی حکمران اپنی مدت پوری نہیں کر سکا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک آئین کا احترام نہیں سیکھاپہلاآئین جب لاگو کرنے کا وقت آیا تو وقت کے صدر نے حکومت فوج کے حوالے کر دی اس کے بعد جو آئین جمہور نے بنایا اس کو بھی ایک فوجی آمر نے، جسے سیاسی لیڈروں نے خط لکھ لکھ کر بلایا تھا ،اپنے بوٹوں تلے روند دیا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا کہ جمہور کے چیدہ شخص کو کبھی صدر نکال باہر کرتا ہے تو کبھی سپریم کورٹ پکڑ کے باہر کر دیتی ہے۔خدا جانے کب ہمارے ہاں جمہوریت آئے اور اسے چلنے دیا جائے اور سیاسی پارٹیوں کو صبرو شکر کا درس ملے۔