بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امن وامان اور سیاسی گرماگرمی

امن وامان اور سیاسی گرماگرمی


بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے میں تادم تحریر شہید ہونے والوں کی تعداد15جبکہ زخمیوں کی 25 بتائی جا رہی ہے متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے جسکے نتیجے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے اس سے پہلے باجوڑ میں گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈیرہ میں ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا کراچی میں بھی پولیس کو نشانہ بنایا گیا امن وامان کی صورتحال میں بہتری سے انکارممکن نہیں تاہم اس طرح کے واقعات سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کیساتھ ان میں کمیونٹی کو بھی پولیس سٹیشنوں کی سطح پر شریک کرنے کے متقاضی ہیں دوسری جانب وطن عزیز میں سیاسی گرماگرمی بدستور جاری ہے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ لوگ انقلاب کیلئے تیار ہو جائیں وہ آئین اور نظام کو بدلنے کی ضرورت کا بھی کہہ رہے ہیں نوازشریف اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان آج یوم آزادی پر کرینگے وہ نئی قانون سازی میں چیئرمین سینٹ کا ساتھ دینے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری سوال کر رہے ہیں کہ میاں نوازشریف کس کو طاقت دکھا رہے ہیں عوامی تحریک کے طاہر القادری اور دوسری جماعتوں کی جانب سے بھی گرما گرم بیانات کا سلسلہ زور وشور سے جاری ہے ایک ایسے وقت میں جب امن وامان کی صورتحال بھی درپیش ہے امریکہ کی جانب سے نئی افغان حکمت عملی میں پاکستان پر پابندیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہاہے ملکی معیشت بھی استحکام کی متقاضی ہے عوامی مسائل فوری حل کے طالب ہیں ہماری سیاسی قیادت کو اہم معاملات سیاسی طورپر طے کرنے کا راستہ ہی اختیارکرنا ہوگا سیاسی و اصولی اختلافات اپنی جگہ اہم قومی امور پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی اسی سے عوام کی ریلیف بھی جڑی ہے اس وقت عام شہری توانائی بحران کیساتھ مہنگائی بیروزگاری اور بنیادی ضروریات کے فقدان پر گلہ مند ہے‘ اس شہری کے مسائل کا حل ناگزیر ہے جس کیلئے قومی قیادت کو سرجوڑنا ہوگا۔

سرکاری ہسپتالوں میں مشکلات

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بڑے تدریسی سرکاری شفاخانوں کے حوالے سے حکومتی کارگزاری کیساتھ اس تلخ حقیقت کا بھی کھلے دل سے اقرار کرتے ہیں کہ کمزوریاں دور کرنے کی گنجائش موجود ہے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے کے تدریسی ہسپتالوں سے متعلق رپورٹ میں سب اچھا ہے کے ساتھ یہ بھی شامل ہے کہ ایم ٹی آئیز میں سٹرکچر کے مسائل سمیت مریضوں اور وزٹرز کی آمد‘ عملے کی پیش وارانہ تربیت‘ تجربے اور پراسس کی کمزوریاں خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں صحت کے شعبے کو حکومت اپنی ترجیح قرار دیتی ہے اس سیکٹر کیلئے حکومتی اقدامات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں تاہم سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور انکے تیمارداروں کو درپیش مسائل میں کوئی کمی نہیں دیکھی جا رہی اصلاح احوال کیلئے اجلاسوں کا انعقاد اپنی جگہ ایک مثبت سعی سہی تاہم جب تک ہسپتال کے گیٹ پر مریض کو اندر لے جانے کیلئے ٹرالی اور وہیل چیئر کے حصول سے علاج کی تکمیل تک کے مراحل کو آن سپاٹ چیک نہ کیاجائے مریضوں سے انکی مشکلات نہ پوچھی جائیں اس وقت تک حقیقی اور خوشگوار تبدیلی کسی طور ممکن نہیں ثمر آور نتائج کیلئے حکومت کو اپنے اعلانات عملی شکل میں سامنے لانا ہوں گے۔