بریکنگ نیوز
Home / کالم / مجھے کچھ یوں نظر آنے لگا

مجھے کچھ یوں نظر آنے لگا

ہمارے قانون شہادت کا محور یہ ہے کہ بیشک کوئی قباحت نہیں اگر دس میں سے نو ملزم سزا سے بچ نکلیں لیکن ایک بے گناہ کو پھانسی کا پھندا نہیں لگنا چاہئے جس طرح موت کے منہ میں جانے والے مریض کی جان بچاتے وقت کوئی فزیشن یا سرجن یہ نہیں دیکھتا کہ مریض چور ہے ‘ ڈاکو ہے خائن ہے کہ دیانتدار بالکل اسی طرح بعض وکلاء موٹی موٹی فیس کے عوض قانونی موشگافیوں سے ان ملزموں کو سزا سے بچا لیتے ہیں کہ جنہوں نے قومی خزانے کو بے دریغ لوٹا ہوا ہوتا ہے کیا آپ کے سامنے پی پی پی کے بعض سرکردہ رہنماؤں کی مالی بدعنوانیوں کے قصے موجود نہیں ؟ ان میں سے کتنے لوگوں کو سزا ملی ؟ سب مزے میں ہیں اور اس دولت سے اللے تللے کر رہے ہیں کہ جو انہوں نے بیرون ملک یا اندرون ملک کسی نہ کسی جگہ انویسٹ کی ہو ئی ہے لگتا نہیں کہ (ن)لیگ کے بعض کرپٹ حکمرانوں کا انجام پی پی پی کے ان رہنماؤں سے کوئی مختلف ہو گا جو حرام کی دولت بغیر ڈکار لئے کھا پی گئے ہیں یہ بھی انہی کی طرح صاف بچ نکلیں گے پتہ نہیں نیب والے یا استغاثے کے سرکاری محکمے کتنا مزیدوقت لیں ان کیخلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے اوران پر کاروائی شروع کرنے کے لئے‘ عین ممکن ہے کہ (ن)لیگ کے رہنماؤں کیخلاف نیب میں ریفرنسوں کا دورانیہ اتنا طولانی ہو جائے کہ اس دوران 2018ء کے الیکشن بھی منعقد ہو جائیں اب کون جانے کہ اس الیکشن کا نتیجہ کیا نکلے؟ خدا کرے کہ اب عوام میں اتنا شعور پیدا ہو چکا ہو کہ وہ گھوڑے اور گدھے میں تمیز کر سکیں وہ ذات برادری‘ لسانیت‘ مسالک وغیرہ کو بالائے طاق رکھ کر انہیں مکمل طور پر بھول کر صرف ان لوگوں کو اسمبلیوں کیلئے چنیں جو ان عیوب سے پاک صاف ہوں کہ جن کی وجہ سے ہمارے اکثر حکمران بدنام ہیں یہ تو خیر الیکشن کا رزلٹ ہی بتائے گا کہ کیا وہ واقعی اشرف المخلوقات ہیں یا پھر کالا نعام ہیں۔

چوپایوں کی مانند کہ جنہیں شاطر سیاستدان گڈریئے کی طرح جس طرف ہانک کر لے جانا چاہے لے جاتا ہے یہ بالکل نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ والے یا فوج والوں کے منہ میں زبان نہیں وہ بھی بھول سکتے ہیں لیکن ان کی سروس کا ضابطہ اخلاق انہیں بولنے کی اجازت نہیں دیتا سیاستدان کے تو منہ میں جو آئے وہ کہہ سکتا ہے لیکن ججوں اور سرکاری ملازمین پر قدغن ہے وہ بول نہیں سکتے اگر خدانخواستہ آئندہ الیکشن میں بھی عوام انہی لوگوں کو اپنے ہاتھ سے اپنے سر پر دوبارہ پانچ سال کیلئے مسلط کر دیتے ہیں کہ جو ماضی میں بھی ایوان اقتدار میں مختلف مناصب پر فائز رہے ہوں تو پھر ان سے گیا گلہ ؟عوام اگر خود اپنے ہاتھوں سے اپناگلا دبا کر خودکشی کرنا چاہتے ہیں تو پھر حکمرانوں کی کرپشن پرواویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہی لوگ یا ان کی قماش اور ذہن کے لوگ بھلے وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں کیوں نہ ہوں اگر برسراقتدار آگئے تو کرپٹ عناصر کیخلاف دائرکردہ تمام مقدمات ختم ہو جائیں گے یہ لوگ اتنے سیانے ہیں کہ یہ ایسے قوانین پاس کر دیں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے آئینی دفعات 62 اور63 کو منسوخ کرنے کی ضرورت پروہی لوگ زور دے رہے ہیں جو کرپشن کرنے کی کھلی چھٹی مانگتے ہیں ۔