بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / میرے جسم سے ایک قطرہ بھی الکوحل برآمد کرلو تو پھانسی پر لٹکنے کیلئے تیارہوں ،علی امین گنڈاپور

میرے جسم سے ایک قطرہ بھی الکوحل برآمد کرلو تو پھانسی پر لٹکنے کیلئے تیارہوں ،علی امین گنڈاپور


اسلام آباد۔وفاقی پولیس ایک بار پھر سیاسی چیلنجز کے سامنے آ گئی ، صوبائی وزیر پر مے نوشی کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کی تو مبینہ مے نوش نے اپنا اور پولیس کے چند افسران کا ڈوپنگ ٹیسٹ کا مطالبہ کردیا ، الکوحل میرے جسم سے برآمد ہو جائے تو پھانسی پر لٹکا دیا جائے ، بصورت دیگر وفاقی پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز سمیت چند ایس پیز کا بھی ڈوپنگ ٹیسٹ کیا جائے گا اگر وہاں سے الکوحل مل جائے تو فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ کے ایمان و ضمیر پر چھوڑتا ہوں۔

صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کے دبنگ چیلنج نے پولیس کے افسران کو کالے چشمے پہننے پر مجبور کردیا ہے ۔بنی گالہ چوک پر ڈیوٹی کر نیوالے ایس ایچ اوز ، ایس پیز صوبائی وزیر کے چیلنج سے پریشان ہو گئے ۔وزارت داخلہ کی جانب سے علی امین گنڈا پور کے مطالبے پر غور شروع کردیا ہے ، وفاقی وزیر داخلہ کو ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا ہے کہ اگر ڈوپنگ ٹیسٹ کے معاملے پر لگ گئے تو ساری پولیس شرابی نکلے گی ۔

آن لائن کو پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی وزیر علی امین گنڈاپورکی جانب سے جو الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے از خود ان کی گاڑیوں میں شراب رکھ کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ، وہ اپنے بدن کی ہر رگ سے خون دینے کے لئے تیار ہیں ، اگر اس میں الکوحل یا دیگر نشہ آور اجزاء مل جائے تو انہیں بنی گالہ چوک پر سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے ، بصورت دیگر میں وزیرداخلہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے ایس پیز اور ایس ایچ اوز اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران کی ڈوپنگ ٹیسٹ کروا لیں اگر وہ الکوحل میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشے میں دھت لٹکتے پاؤں ، بہکی باتیں کرنیوالے پولیس افسران عوام کی کیا خدمت کریں گے؟ علی امین گنڈاپور کے اس جذباتی اور تہلکہ خیز وزارت داخلہ کو دھمکی نہ صرف بری لگی بلکہ ایک لمحہ کے لئے وفاقی وزیر داخلہ اس کش مکش میں بھی مبتلاء ہو گئے کہ چند افسران کا ڈوپنگ ٹیسٹ کروا ہی لیتے ہیں بعدازاں وزیرداخلہ کو ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا کہ اگر یہ سلسلہ چل نکالا تو وفاق کو نئی پولیس بھرتی کرنی پڑے گی جس پر اربوں روپے ٹریننگ پر خرچ ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے قریبی دوست کی بات مانتے ہوئے خفیہ طور پر چرسی موالی اور شرابی پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے جو کہ ان کا سراغ لگا کر اپنی رپورٹ ارسال کرے گی ۔