بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امن کی خواہش

امن کی خواہش


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا بھر کے تمام ممالک اور خصوصاً اپنے ہمسایوں کیساتھ برابری کی بنیاد پر مثبت اور تعمیری تعلقات کی خواہش رکھتا ہے پاکستان نے بامقصد مذاکرات کے لئے ہمیشہ پیش رفت کی تاہم بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں دریں اثناء آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ پائیدار امن اور استحکام کے حصول تک جاری رہے گی آرمی چیف دہشت گردی کو مکمل طور پر شکست دینے کے لئے تمام ریاستی اداروں میں ہم آہنگی کو ضروری قرار دیتے ہیں وہ قیام پاکستان کے ساتھ درپیش مشکلات کا ذکر کرنے کیساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب پاکستان نے بہت ترقی کی ہے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اس دوران ہم سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں تاہم اب ہم آئین وقانون کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں پاکستان کا ہر ادارہ ایمانداری سے کام کررہا ہے صدر مملکت ممنون حسین نے یوم آزادی کی تقریب سے اپنے خطاب میں یہی کہاہے کہ قومی معاملات کو جوش کی بجائے دانشمندی سے حل کرنا ہوگا جس کے لئے سب کو متحد ہوجانا چاہئے خطے کے منظرنامے میں پاکستان کی امن کے لئے کاوشیں کسی سے چھپی نہیں ہیں۔

افغانستان میں امن عمل کے لئے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا جبکہ بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے امور نمٹانے کے لئے ہمیشہ پیش رفت کی اس کے جواب میں بھارت نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا خود ملک کے اندر بھی امن واستحکام کی منزل پانے کے لئے اداروں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے جس کی ضرورت پر آرمی چیف بھی زور دے رہے ہیں اس تعاون کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو موثر حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگاتاکہ امن کے ساتھ معاشی استحکام ممکن ہوسکے یہ بات ہر سطح پرمدنظر رکھنا ہوگی کہ اسی امن اور معاشی استحکام سے عوام کی خوشحالی بھی وابستہ ہے جس کے لئے سیاسی قیادت کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

نکاسی آب کانظام کب درست ہوگا؟

صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز کی بارش نے ایک بار پھر پورے شہر کو چھوٹے بڑے جوہڑوں میں تبدیل کردیاجگہ جگہ پانی چڑھ آنے پر ٹریفک کا پہلے سے بدحال بہاؤ بری طرح متاثر ہوا کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی حسب سابق معطل رہی جس کے نتیجے میں ٹیوب ویل بھی بند ہوئے یہ صورتحال ہر بارش میں سامنے آتی ہے اور ہر مرتبہ یہ امید کی جاتی ہے کہ اب کی بار مشکلات کا احساس ہونے پر آئندہ کے لئے موثر انتظامات کرلئے جائیں گے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ اداروں کی جانب سے بارش اور موسمی تغیرات سے متعلق ہر الرٹ بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے الرٹ کا مقصد تو پیشگی انتظامات ہوتا ہے جبکہ یہاں شہر کے گلی محلوں سے لیکر سڑکوں پر نکاسی آب کے انفراسٹرکچر کی صفائی تک نہیں کی جاتی ہر بارش اور سیوریج سسٹم کی بلاکیج پلاسٹک شاپنگ بیگز پر عملاً پابندی کا تقاضا کرتی ہے ہر بارش آبی گذر گاہوں کی صفائی کی جانب دھیان دلواتی ہے تاہم متعلقہ ادارے چاہے وہ وفاق کے ہوں یا صوبے کے زیر انتظام ایک چھت تلے جمع ہوکر مسئلے کے پائیدار حل کی جانب بڑھ نہیں پارہے جس کانوٹس لیاجانا ضروری ہے۔