بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / غلطیوں کا اعتراف

غلطیوں کا اعتراف


یہ فیشن ہمارے ملک میں ہی ہے کہ انقلاب بھی نعروں کے ذریعے لانے کی کوشش کی جاتی ہے اس کاآغاز جنرل ایوب خان نے کیاتھاجنہوں نے اپنے مارشل لاء کو انقلاب کانام دے کرپھراس حوالہ سے خوب خوب ڈھنڈورا بھی پٹوایاتھا اس کے بعد سے انقلاب کے نعرے کے ساتھ وہ سیاس کھلواڑ ہوا کہ الامان والحفیظ ،کمیونسٹ انقلاب سے لے کر اسلامی انقلاب تک ایک عرصہ تک ایشیاء سرخ ہے اور ایشیا سبز ہے کے نعروں سے قوم کو بہلایاجاتارہا پھر جب بھٹو حکومت میں آئے توکارخانوں کی نیشنلائزیشن کو انقلاب قراردے دیاگیا ضیاء آئے تو اسلامی انقلاب لانے کے نعرے بلند کروائے گئے پھر تو انقلاب نہ ہوا سیاسی پٹاری سے نکالا جانے والا سانپ ہوگیا جو ہمیشہ کسی نہ کسی سیاسی رہنما کی بین پر ناچتارہا اب تازہ ترین نعرہ انقلاب سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے لگایاگیاہے انہوں نے یہ بھی پوچھاکہ آخر ڈیڑھ درجن وزرائے اعظم کو کیوں نکالاگیا ان کا قصورآخر کیاتھا اگر دیکھاجائے تو ان کاسوال یا اعتراض بے جا بالکل بھی نہیں اوراس حوالہ سے اب بحث کے دروازے کھولے جانے ضرور ی ہیں مگر اس سے پہلے ہماری سیاسی قیادت کو اپنی غلطیوں کا کھل کر اعتراف بھی کرکے قوم سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ ماضی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی روش کی بدولت ہی غیر جمہور ی قوتو ں کو کھل کرکھیلنے کاموقع ملاجنرل ایوب آئے تو سیاستدانوں کی اچھی خاصی کھیپ ان کے ساتھ مل گئی پھرجب ایوب نے اقتدار یحییٰ خان کے سپرد کیاتو ایوب خان سے نجات پانے کی خوشی منانے والے سیاستدانوں کویاد ہی نہیں رہا کہ ایک اور آمرمسلط ہو چکاہے جنرل ضیاء آئے تو تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے انکو خوش آمدید کہا بلکہ بعض سیاسی جماعتیں تو ابتداء میں مارشل لاء حکومت کاحصہ بھی بن گئیں ۔

اس زمانے کے اخبارات اٹھا کردیکھیں تو بڑے بڑے جمہوریت پسندوں کے چہرے کھل کر سامنے آ جائینگے پاکستان عوامی اتحاد کی تمام جماعتوں نے جنرل ضیاء کو ایک نجات دہندہ کے طورپر پیش کیا خود میاں نوازشریف کاخاندان بھی بھٹو کی چھٹی پر خوشی منانے والوں میں شامل تھا اورجب 29مئی 1988ء کو جنرل ضیاء نے وزیر اعظم محمدخان جونیجو کی حکومت کو رخصت کیا تو میاں نوازشریف اپنے قائد کیساتھ کھڑے ہونے کے بجائے جنرل ضیاء کی حکومت میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ بننے پر آمادہ ہوگئے پھر جب پی پی پی کاراستہ روکنے کے لئے آئی جے آئی بنائی گئی تو بھی نوازشریف اس کاحصہ تھے پھر جب بے نظیربھٹو کو پہلی بار حکومت سے نکالا گیا تو نوازشریف نے ہی سب سے زیادہ خیر مقدم کیاتھا پھر نوازشریف کیخلاف بے نظیر بھٹو نے کھچڑ ی بنائی اور انکی رخصتی کو نیک شگون قرار دیا نومبر 1996ء میں جب بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کی گئی تو اس میں میاں نوازشریف کی تحریک نجات کابھی اہم کردار تھا اور جب 1999ء میں جنرل مشرف نے اقتدارپر قبضہ کیا تو زیادہ نہیں صرف اکتوبر 1999ء کے اخبارات ملاحظہ کریں مسلم لیگ ن اکیلی تھی۔

دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بشمول پی پی پی ‘اے این پی‘ پی ٹی آئی ‘جماعت اسلامی ‘جے یو آئی نے کھل کر جنرل مشرف کو خوش آمدید کہا اور کہاکہ انہوں نے بروقت مداخلت کرکے ملک کو بچالیاہے دل میں آتاہے کہ کبھی اکتوبر 1958ء ‘مارچ 1969ء جولائی 1977ء اور اکتوبر 1999ء کے اخبارات کی پرانی فائلیں آرکائیوز جا کر ملاحظہ کرکے ایک پوری دستاویز مرتب کرکے مارشل لاؤں کی آمدپر بھنگڑے ڈالنے والو ں کے چہرے سامنے لائے جائیں تاکہ کل کو کوئی قوم کو جمہوریت کے ثمرات پردرس دیتے ہوئے اپنے ماضی کو چھپانے کی کوشش نہ کرسکے اس ملک میں انقلاب اور جمہوریت پرسے لوگوں کے اعتقادکو کمزور کرنے میں بدقسمتی سے سب سے زیادہ ہاتھ خود سیاستدانوں کا رہاہے اور اب وقت آگیاہے کہ سیاسی قوتیں کھل پر اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کانہ صرف اعتراف کریں بلکہ اس پر قوم سے معافی بھی مانگیں اور اس کے بعد نئے سرے سے ایک میثاق جمہوریت لاکر اس پر اتفاق رائے کرکے آگے بڑھیں بصورت دیگر غیر جمہوری قوتو ں پر الزامات تھوپنے سے قوم کو کسی بھی صورت مطمئن نہیں کیاجاسکے گا رہانعرہ انقلاب تو اس پر کسی اورکالم میں کھل کر بات ہوگی کم ازکم اس مرحلہ پر میاں نوازشریف کو اس نعرے سے اسلئے اجتناب کرنا چاہئے کہ ایک تو ملک پر انہی کی جماعت کی حکومت قائم ہے دوسر ی طرف اسی موجودہ نظام کے تحت ہونے والے ضمنی الیکشن میں نہ صرف انکی جماعت بلکہ خودانکی اہلیہ بھی حصہ لے رہی ہیں ۔