بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ذکرایک ذمہ داری کا

ذکرایک ذمہ داری کا

یہ تشویش کے ساتھ ساتھ افسوس کا بھی مقام ہے کہ میٹرک امتحانات میں1100میں سے 1000 (90فیصد سے زائد) نمبر حاصل کرنیوالے پشاور کے طلبہ و طالبات من پسند پبلک سیکٹر کالجز (جناح و اسلامیہ کالج برائے خواتین اور اسلامیہ کالج برائے طلبہ ) میں پری میڈیکل میں داخلوں سے محروم رہ گئے ہیں جبکہ یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ91فیصداور اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ و طالبات اوپن میرٹ پر مذکورہ کالجز میں پری میڈیکل ڈسپلن میں داخلے حاصل نہیں کر سکے اور انھیں سیلف فنانس کے تحت داخلہ لینا پڑا ہے، یہ سب کچھ رواں سال نہیں ہوا بلکہ اب یہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے ‘ جس میں کمی کی بجائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔سال اول کے ایڈمشنز کے موقع پر یہ کالجز خیبر پختونخواکے تمام تعلیمی بورڈز سے میٹرک امتحانات میں کامیاب ہونے والوں کیلئے داخلوں کا یکساں موقع فراہم کرتے ہیں‘بات اگر طالبات کی کی جائے تو انکی پہلی ترجیح جناح کالج برائے خواتین پشاور اور اسلامیہ گرلز کالج پشاور ہوتے ہیں، اس کے مقابلے میں پورے صوبے کے کسی دوسرے شہر میں ایسا کوئی پبلک سکیٹر کالج نہیں جسے داخلوں کے معاملے میں اولین ترجیح دی جاتی ہو ،ادھر جناح کالج اور اسلامیہ گرلز کالج پشاور میں ایف ایس سی پری میڈیکل ( اوپن میرٹ) کی نشستیں اس قدر محدود ہیں کہ ان پر بحیثیت مجموعی ڈیڑھ سو سے زائد طالبات کو داخلہ نہیں مل سکتا،ان کالجز میں سیلف فنانس سکیم کے تحت نشستوں کی تعداد اگرچہ کچھ زیادہ ہے لیکن سیلف فنانس کے تحت بھی ان کالجز میں ڈھائی تین سو طالبات ہی ایڈجسٹ ہو سکتی ہیں۔

ایف ایس سی (پری انجینئرنگ ) میں داخلوں کا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ،اسی طرح اگر طلبہ کی بات کی جائے توپور ے صوبے کے طلبہ کی نظریں اسلامیہ کالج پشاور میں داخلے کے حصول پر مرکوز ہوتی ہیں،اس سال اسلامیہ کالج برائے طلبہ کا ایف ایس سی ( پری میڈیکل) اوپن میرٹ 1027اور سیلف فنانس 1006رہا یعنی میٹرک امتحانات میں 1000 سے زائد نمبرز حاصل کرنے والے طلبہ بھی اسلامیہ کالج میں پری میڈیکل ڈسپلن میں داخلہ نہیں لے سکے فیڈرل بورڈ سے میٹرک امتحان پاس کرنے والوں کو خیبر پختونخوا کے کالجز میں داخلے کے موقع پر اضافی 50نمبرز دینے کے حوالے سے بھی تسلسل کیساتھ اعتراض سامنے آرہے ہیں اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہر امیدوار کو پورے 50 اضافی نمبرز دینے کے بجائے اس کے حاصل کردہ نمبرز کے تناسب سے 50میں سے حصہ دیا جائے جناح و اسلامیہ کالجز میں اوپن میرٹ نشستوں کا انتہائی محدود ہونا اور سیلف فنانس کے تحت مختص نشستوں کی تعداد کا ضرورت سے کم ہونا بھی اعتراض و تنقید کی زد میں ہے یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ مذکورہ کالجز کے پشاور میں واقع ہونے کاپشاور سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کو اضافی فائدہ کیوں نہیں ملتااور کیا یہ پشاور کا حق نہیں کہ ان کالجز میں پشاور کے طلبہ و طالبات کیلئے الگ کوٹہ مختص کیا جائے اور دیگر اضلاع کیلئے الگ؟یہاں ایک تجویزکا ذکر بھی کرتا چلوں جو یہ ہے کہ اگر ہر ضلع یا کم ازکم ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں جناح کالج و اسلامیہ کالج اوراسلامیہ کالج برائے طلبہ کی شاخیں کھول دی جاتی ہیں اور ان طلبہ و طالبات کو متعلقہ کیمپسزمیں داخلوں کی سہولت دے دی جاتی ہے تو اس طرح نہ صرف پشاور پر بوجھ کم ہوگابلکہ اضلاع کے طلباء کو گھروں کے قریب داخلوں کی سہولت میسر آئے گی اور اہل پشاور کا شکوہ بھی دور ہو سکے گا۔