بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ووٹ کی توہین

ووٹ کی توہین

عام اِنتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے اِیوان کے اَکثریتی اَراکین وفاق اُور صوبوں میں حکومتیں بناتے ہیں لیکن خرابی کا آغاز ایسی حکومت کے قیام سے ہوتا ہے جو کسی ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ مختلف النظریات سیاسی جماعتیں اکٹھا ہوکرمصنوعی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بنا لیتی ہیں۔ عوام کے ووٹ کی پہلی توہین یہی ہوتی ہے کہ ’عددی اکثریت‘ نہ ہونے کے باوجودکچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پرسودا بازی سے ایک ایسے جمہوری دور کا آغاز ہوتا ہے جس میں عوام سے زیادہ حکمران اور حکمران جماعت کے اتحادی اپنے سیاسی و انفرادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں ترجیح عوام لیکن بناء اکثریت حکومت سازی کرنیوالے اس انتخابی سیاست کی بقاء و تحفظ کیلئے زیادہ فکرمند رہتے ہیں‘ جس میں انہیں بلاشرکت غیرے حکمرانی کا حق ملنا یقینی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات میں دھونس اُور دھاندلی یعنی بہرصورت کامیابی ہونے کے لئے ہر حربہ جائز سمجھا جاتا ہے۔ جہاں خاندانی‘ نسلی‘ لسانی اور گروہی وابستگیوں سے کام نہ چلے وہاں ووٹ خرید لئے جاتے ہیں تاکہ حکمرانی برقرار رہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں سیاست و حکمرانی چند گھرانوں کی غلام بنی دکھائی دیتی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سیاسی نظریات کی بنیاد پر عوام تقسیم در تقسیم ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے قائدین میں اختلافات زبانی کلامی یعنی بیانات کی حد تک ہی نظر نہیں آتا اور درپردہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت ہی کے خلاف نہیں بلکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلزپارٹی کی صفوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے‘ جنہیں معلوم ہے کہ سیاستدانوں کی آئینی نااہلی کا سلسلہ اِس مقام پر نہیں رُکے گا اُور پھر بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی! سیاستدانوں کی پہلے دن سے کوشش رہتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا دفاع کریں۔ اختلاف کا موقع ہی آنے نہ دیں اور آپسی اختلافات مل بیٹھ کر حل کرلیں۔

کوئی بھی تنازعہ عدالت تک نہ پہنچنے دیا جائے لیکن چونکہ پانامہ لیکس کے ذریعے معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ وہ آئین سے ان شقوں کو نکال دے‘ جو دیگر سیاستدانوں کی ممکنہ نااہلی کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ جس ’جواز‘ پر نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا‘ اس پیمانے پر بہت سے دیگر سیاستدان بھی پورا نہیں اُترتے۔ تاحیات سیاسی نااہلی کا سامنا کرنے والے نوازشریف عوام کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت ان کے مینڈیٹ کی توہین ہے اور نوازلیگ سے تعلق رکھنے والوں ہر رکن اسمبلی یہی مؤقف دہراتا نظر آتا ہے کہ ’عوام کے منتخب وزیراعظم کو ’نااہل‘ قرار دینا (دراصل) ووٹ کی توہین ہے۔کوشش یہ ہے کہ عدالتی فیصلے سے متعلق غلط فہمیاں عام کی جائیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا آئین ہر شے سے مقدم ہے کیا دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا جمہوری ملک موجود ہے جہاں کے منتخب عوامی نمائندوں کو بدعنوانی‘ دروغ گوئی اُور قومی اِداروں کے قواعدوضوابط پامال کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہو؟ کیا دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا سیاسی حکمران ہے جسکا احتساب قانون اور آئین کا اطلاق ممکن بنانے والے قومی اداروں کی بجائے صرف اور صرف ایک انتخابی حلقے کے چند ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کے ذریعے کیا جاتا ہو؟ کیا دنیا میں کوئی بھی جمہوری ملک ایسا ہے جس کے قومی ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہوں لیکن اس کے سیاسی فیصلہ سازوں کا شمار ان کامیاب ترین افراد میں ہوتا ہو‘ جن کے ذاتی کاروبار اِس حد تک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہوں کہ نابالغ اُولادیں بھی ارب پتی بن جائیں؟ کیا کسی جمہوری ملک کے ایسے حکمران صادق و امین کہلانے کے حقدار ہو سکتے ہیں‘۔

جن کی ذاتی مالی حیثیت‘ ذرائع آمدن اور اثاثوں سے متعلق اگر سوال پوچھا جائے تو حسابات دینے کی بجائے وہ احتساب کے عمل کو ’’ووٹ کی توہین‘‘ قرار دیتے ہوں؟ کیا دنیا میں کوئی ایک بھی جمہوری ملک ایسا ہے جس کی عوام غریب لیکن اُس پر حکومت کرنے والے سیاست دان سرمایہ دار ہوں؟جمہوریت مقدس گائے نہیں۔ ووٹ کی توہین صرف یہی ہوتی ہے کہ منتخب جمہوری حکومت کو اُس کی آئینی مدت کی تکمیل سے قبل گھر بھیج دیا جائے لیکن اگر منتخب نمائندے اپنے ’وعدے‘ پورے نہ کریں‘ سیاسی جماعتیں اپنے ’انتخابی منشور‘ کی پابند نہ رہیں‘ موروثی سیاست کا گڑھ بن جائیں‘ قومی وسائل پر اختیارات سے ناجائز فائدے اٹھائیں تو یہ سب امور ’ووٹ کی توہین‘ کے زمرے میں شمار نہیں ہونے چاہئیں!؟