بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / توہین عدالت ٗنواز شریف اور وفاقی وزراء کو نوٹس جاری

توہین عدالت ٗنواز شریف اور وفاقی وزراء کو نوٹس جاری

لاہور۔لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے نواز شریف اور وفاقی وزار کو درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے۔ درخواست گزار نے سابق وزیراعظم کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگانے کی بھی استدعا کی۔منگل کو لاہورہائیکورٹ میں جسٹس مامو ن رشید نے نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی جس میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیے گئے، جسٹس مامون رشید شیخ نے توہین عدالت کی درخواست پر سابق وزیر میاں نواز شریف سمیت 14 (ن) لیگی رہنماؤں کو پری ایڈمشن نوٹسز جاری کر دیئے۔نجی ٹی وی کے مطابق جن (ن) لیگی رہنماؤں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

ان میں خواجہ محمد آصف، خواجہ محمد سعدرفیق، مشاہد اﷲ خان،پرویز رشید، مریم اورنگزیب ،محمد طلال چوہدری، عابد شیر علی، رانا ثناء اﷲ خان،مائزہ حمید، ڈاکٹر آصف کرمانی،ڈاکٹرطارق فضل چوہدری،دانیال عزیز اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار شامل ہیں۔عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو بھی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ جو سول سوسائٹی ہے جس کی طرف سے درخواست دی گئی ہے کیا وہ سوسائٹی رجسٹرڈ ہے یا نہیں اس حوالے سے دستاویزات عدالت میں پیش کی جائیں، درخواست گزار آمنہ ملک نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے اپنی نا اہلی کو سازش قرار دیا، نواز شریف اور وفاقی وزرا کی تقاریر نہ صرف عدالت کی توہین بلکہ غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ غداری کیسے بنتی ہے؟، اس پر درخواست گزار آمنہ ملک کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ اور فوج پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی لیکن پھر بھی نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے مسلسل دونوں اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا یا۔عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے دلائل دیئے جائیں آیا یہ درخواست قابل سماعت ہے اور درخواست میں اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں اس لیے ان کو دیکھا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم اور وفاقی وزراء عدلیہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں جس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور عوام میں اشتعال پیدا کررہے ہیں کہ عدلیہ نے جو فیصلہ کیا وہ درست نہیں کیا لہٰذا تمام فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔اس موقع پر عدالت نے درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کی ہدایت کی جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقع پر ہی درخواست میں ترمیم کر کے عدالت میں جمع کروا دی جس کے بعد عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزراء سمیت 14 افراد کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 25 اگست تک تحریری وضاحت طلب کر لی ہے۔