بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 6 مرتبہ سزائے موت کی سزا عمر قید میں تبدیل

6 مرتبہ سزائے موت کی سزا عمر قید میں تبدیل


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے حقیقی چچاکوپورے خاندان سمیت قتل کرنے والے مجرم کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کی 6 مرتبہ سزائے موت کو چھ مرتبہ عمر قید میں تبدیل کر دیاجبکہ مقدمہ میں ناقص تفتیش پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ کے نئے نظام پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہونے باوجود کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی جبکہ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دو وزرائے اعظم قتل کر دیئے گئے اور دونوں وزرائے اعظم کے قتل اب تک معمہ بنے ہوئے ہیں،جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے مجرم غلام مصطفی کی جانب سے صدیق بلوچ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر اپیل کی سماعت کی۔اس دوران جسٹس دوست محمدخان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے اس ملک پر عذاب اسی لئے نازل ہوتا ہے کیونکہ قتل کے مقدمات میں قرآن پر حلف لیکر جھوٹ بولاجاتا ہے اور وعدہ خلافی کی جاتی ہے ۔

اس مقدمہ میں دو معصوم بچوں، دو خواتین سمیت چھ افراد کو قتل کیا گیا اور چھ کی چھ لاشیں ایک جگہ پر پڑی تھیں یہ ایک ملزم کا کام نہیں ہے ،میرے خیال سے ناقص تفتیش پر تفتیشی افسر جیل میں ہونا چاہیے، جسٹس دوست محمدکا کہنا تھا کہ کسی بڑے شخص کے قتل کا مقدمہ ہوتا تو تفتیش کسی اور طریقے سے ہوتی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ پولیس افسران دفاتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، ذمہ داری کا احساس نہیں لیکن ٹرائل کورٹ اورہائی کورٹ نے بھی چھ افراد کے قتل پر معاملے کو اہمیت نہیں دی۔

اس نظام کا حصہ ہونے پر افسوس ہے جس میں فوٹوگرافس کواہمیت نہیں دی جاتی اور یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ 84سال قبل بنائے گئے پولیس قواعد میں کہاگیا ہے کہ فوٹو گرافس سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن پراسیکیوشن اس بات سے لاعلم ہے۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاکہ قانون شہادت کے مطابق عدالت اگر مواد میں موجود حقائق سے مطمئن ہوجائے تو فوجداری مقدمات میں حقائق کے مطابق فیصلہ کرسکتی ہے۔

ملزم کے وکیل صدیق بلوچ کا کہنا تھا تھا کہ ان کے موکل کے ٹرائل کے دوران عمر کا تعین بھی نہیں کیا گیا جبکہ کوئی چشم دید گوواہ موجود نہیں تھا صرف گھر سے دور موجودایک گواہ نے کہاکہ اس نے ملزم کو کلہاڑی کے ساتھ گھر کی دیوار پھلانگ کر جاتے دیکھا۔ جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ کروڑوں روپے خرچ کرکے استغاثہ کا نظام بنایا گیالیکن نئے نظام سے بہتری کے بجائے خرابی پیدا ہوئی تمام صوبے استغاثہ کے نظام پر سلالانہ کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن نتیجہ کوئی نہیں اس سے تو پہلا نظام بہتر تھا۔

انہوں نے کہاکہ باہر کی دنیا میں اگر پراسیکیوٹرایک لفظ لکھ دے تو اس کے اثرات وزیراعظم تک جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ان حالات میں عدالتیں کیا کریں جب کوئی ٹھوس شہادت ہی سامنے نہ ہو، پرانے زمانے میں ایک ایس ایچ او علاقے کو بہترین انداز مین کنٹرول کرتا تھا اس کے مخبرہر اطلاع اس تک پہنچاتے تھے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمی نے قرار دیا کہ ملزم واردات کے وقت کم عمر لگتا ہے، ٹرائل کورٹ نے عمر کا تعین کیوں نہیں کیا جبکہ مقدمہ بناتے وقت ڈکیتی کا ذکر کیا گیالیکن اصل بات کچھ اور لگتی ہے، اور قتل کی وجہ تاحال ایک معمہ ہے جو حل نہ ہوسکا واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ بھی نہیں ہے اس لئے محتاط رہتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔

واضح رہے کہ مجرم غلام مصطفی پر پاک پتن میں اپنے چچا کے گھر میں 12دسمبر2006کوگھرکے اندرچھ افراد کو قتل کیا تھا ، ٹرائل کورٹ نے ملزم کو چھ مرتبہ سزائے موت اور جرمانے کی سزاسنائی تھی جسے ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔دریں اثناء عدالت نے سرگودھا میں مبینہ طور پر قمر حسنین کو قتل کرنے والے ملزم ناصر محمود کو شک کا فائدہ دیکر بری کردیا ، ملزم نے 2007میں جھگڑے کے دوران قتل کردیا تھا ،ملزم کے وکیل صدیق بلوچ نے کہاکہ کہ اس مقدمہ کے تمام شریک ملزمان بری ہوچکے ہیں جبکہ وقوعہ کے وقت کوئی گواہ موجود نہیں تھا ۔

عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کی اپیل منظور کرلی اور ملزم کو ماتحت عدالتوں سے سنائی گئی تمام سزائیں کالعد قرار دے دیں اور فوری طور پر بری کرنے کا حکم دے دیا ۔ تیسرے مقدمہ میں عدالت نے دو معصوم بھتیجوں4سالہ منور احمد، 6سالہ مظہر احمدکو قتل اور سکندر احمد کو زخمی کرنے والے ملزم مختیار حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ، مجرم پر 2008میں ڈیرہ غازی خان سے بھتیجوں کو اغواکرکے قتل کرنے کا الزام تھا ملزم کو ٹرائل کورٹ نے2مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جبکہ ہائیکورٹ نے یہ سزا بحال رکھی تھی تاہم سپریم کورٹ نے شک کا فائدہ دیکر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

ڈپٹی پراسیکوٹر پنجاب محمد جعفر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی بیوی کو بچوں کی ماں نے دارالامان بھجوا دیا تھا اور طلاق دلواناچاہتی تھی جس پر غصہ میں آکر ملزم نے انتہائی قدم اٹھایاجبکہ دارالامان بھجوائی گئی لڑکی نے وہاں خودکشی کرلی تھی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایسے معاشرے کسی صورت قائم نہیں رہ سکتے جہان سچ نہ بولا جائے ،قتل کے مقدمات میں بہت کچھ بولاجاتا ہے لیکن صرف سچ نہیں بولاجاتا پھر صحیح فیصلہ کیسے کیا جائے ملزمان بر ی ہونے پر کہا جاتا ہے کہ عدالت نے چھوڑدیا ہے ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی پر پورامحلہ کھڑا ہوجاتا ہے لیکن ناجائز تعلقات پر صرف روکاجاتا ہے ، ناجائز تعلق برداشت ہوتا ہے لیکن جائز تعلق کی بات پر قتل ہوتے ہیں ۔ لگتا ہے سب نے قسم اٹھائی ہے کہ ایسی صورتحال میں کسی نے سچ نہیں بولناعدالتوں کا کام حقائق تلاش کرنا نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں میجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک حقائق ڈھونڈے جاتے ہیں۔ عدالت نے مری میں قتل ہونے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے مقدمی میں بری ہونے والے ایک ملزم مجاہد اسلام کی بریت کے خلاف دائر کی گئی ایک اپیل بھی ناکافی شواہد کی بنا پر خارج کردی ہے ۔