بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / غیر قانونی مقیم افغانیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع

غیر قانونی مقیم افغانیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع


اسلام آباد۔افغانیوں کی بے دخلی میں ناکامی کے بعدغیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر افغانیوں کوقانونی حیثیت دینے کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیاگیا۔رجسٹریشن کا عمل 31 دسمبر 2017 تک جاری رہے گا۔

قانونی حیثیت حاصل کرنے والے افغان شہریوں کو افغان سٹیزن کارڈ (ACC)جاری کئے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کو پاکستان سے بے دخل کئے جانے کے عمل میں ناکامی کے بعد افغان مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کیلئے رجسٹریشن شروع کر دی ہے ، جس کے بعد افغان شہریوں کو پاکستان میں رہنے کا حق حاصل ہو جائے گا، تاہم پاکستان میں رہائش کے لئے قانونی حیثیت حاصل کرنے کیلئے انہیں وزارت سیفران کی جانب سے ملک بھر میں بنائے گئے 21 مراکز سے اپنا اے سی سی (ACC)کارڈ حاصل کرنا ہو گا۔

ملک بھر میں افغان مہاجرین کی سہولت کیلئے 21 مراکز قائم کر دئیے گئے ہیں جن میں سے خیبر پختونخوا میں 11، بلوچستان میں 5، پنجاب میں 3جبکہ صوبہ سندھ اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ایک ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کا عمل 16اگست سے 31 دسمبر 2017 تک جاری رہے گا۔ وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق وہ افغان مہاجرین جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے ان کی معلومات اور بے دخلی حکومت پاکستان کے لئے ایک مسلہ بن گئی تھی۔

اس لئے غیر قانونی افغان باشندوں کو پاکستان میں رہائش کیلئے قانونی حیثیت دینا ضروری ہو گیا تھا۔ تاہم افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالے جانے کاعمل گزشتہ دسمبر سے روک دیا گیا ہے۔ قانونی حیثیت حاصل کرنے والے افغان شہریوں کو افغان سٹیزن کارڈ (ACC)جاری کئے جا رہے ہیں۔اس سے قبل جن افغان باشندوں کو پاکستان میں قانونی حیثیت حاصل تھی ان کو POR(پروف آف ریذیڈنس)کارڈ ز جاری کئے گئے تھے۔ جبکہ افغانستان واپس جانے والے باشندوں کو 400 ڈالر فی کس دئیے جا رہے تھے اب اس رقم کو کم کرکے 200ڈالر فی کس کر دیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ افغانستان واپس جانے والے ہر فرد کو (خواہ اس کی عمر کتنی ہی کم یا زیادہ کیوں نہ ہو )برابر رقم دی جا ئے گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال 2016 میں پاک ایران بارڈر پر افغان طالبان رہنما ملک منصور کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک افغان شہری تھا اور اس کے پاس پاکستان شناختی کارڈ بھی موجود تھا۔ بعدازاں حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے عمل کو تیز کر دیا تھا۔