بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہم کہاں جائیں؟

ہم کہاں جائیں؟

ستر کی دہائی میں ہم گاؤں میں رہتے تھے ۔کبھی کبھی ہمیں ملکی حالات سننے کے لئے مروڑ پڑا کرتے تھے تو ہمیں بھائی جان نے ایک عدد ٹرانسسٹر لے دیاجب بھی ہم کالج سے واپس آتے تو ٹرانسسٹر پر خبریں اور تبصرے سنا کرتے تھے۔ ویسے ہمیں سیاست سے تو کبھی دلچسپی نہیں رہی مگر بہر حال ایک پڑھے لکھے آد می کی یہ خواہش تو بہر حال رہتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات کو جان سکے‘خیر ہمارے گھر سے باہر رہنے کے دوران یہ ٹرانسسٹر ہمارے گھر والوں کی انٹرٹیمنٹ کا ذریعہ رہتا تھا۔ ہم چونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے تحت رہتے تھے اسلئے یہ ٹرانسسٹر ہمارے سارے گھر کی تواضع کا ذریعہ ہوتا تھا۔ گاؤں میں بجلی بھی نہیں تھی سو ٹرانسسٹر ہی حالات و واقعات او رانٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہوتا تھا۔پھر گاؤں میں بھی بجلی آ گئی اور ٹرانسسٹر کی اہمیت کم سے کم تر ہوتی گئی‘ اب گھر میں ریڈیو کی بادشاہی ہو گئی اور پھر ستر اور اسی کی دہائی میں ریڈیو بھی نمائش کی چیز بن گیا ‘ اب بھی ہمارے گھر میں ٹرانسسٹر اور ریڈیو ہیں مگر وہ نمائش کیلئے یا کسی آلے بچالے میں رکھے ہوتے ہیں اس لئے کہ اب ٹیلیویژن کا زمانہ ہے‘ جب تک ٹی وی سرکاری کنٹرول میں رہا یہ گھر بھر کی تعلیم اور انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ تھا۔ساتھ ہی یہ نو بجے کی خبروں کے ذریعے ہمیں اپنے ملکی حالات سے بھی واقف رکھتا تھا۔ آٹھ بجے کے ڈرامے گھر کے سارے ہی افراد اور پڑوسی بھی بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ہماری بڑی بیٹی جو اُس وقت کوئی تین چار سال کی تھی اُسکا پسندیدہ پروگرام ’’ نیا دن ‘‘ ہوتا تھا جس سے وہ بغیر سکول جائے اردو کی پڑھائی لکھائی سے واقف ہو گئی تھی۔اس طرح مہینے میں ایک دفعہ ایک فلم بھی دکھائی جاتی تھی اور فلم بھی ایسی کہ جسے سارے گھر والے اکٹھے بیٹھ کر دیکھ لیا کرتے تھے۔

گو ہمارے بچپن میں فلم دیکھنا برا سمجھا جاتا تھا خصوصاً بچوں کو تو کسی بھی طرح فلم دیکھنے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی مگر ہم کسی نہ کسی طرح عید کے دوسرے یا تیسرے دن اپنی عیدی سینما گھر کی نذر کر آتے تھے‘وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ وہ چیزیں جو ہمارے لئے شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتی تھیں آہستہ آہستہ نہ صرف عام ہو گئیں بلکہ ہمارے گھروں کی زینت بن گئیں‘جب تک پاکستان ٹیلی ویژن کی حکومت رہی سارا ملک ایک تہذیب کے دائرے میں رہا ‘ اسلئے کہ ریڈیو اورٹی وی کے پروڈیوسرز کوئی ایسی بات جو تہذیب سے گری ہو تی ٹی وی یا ریڈیو سے نشر نہیں ہونے دیتے تھے‘پاکستان ٹی وی کے ڈرامے کی قسط بھی دسیوں دفعہ ریہرسل کے مدارج سے گزرتی ہر قسط میں ڈائیلاگ کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا کہ پاکستانی مسلمانوں کے گھروں میں کوئی بھی تہذیب سے گرا فقرا یا لفظ نہ پہنچ پائے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اتنے مقبول تھے کہ جب اُنکی کوئی قسط نشر ہونی ہوتی تو بازار ساڑھے سات بجے ہی بند ہو جاتے اور لوگ اپنے اپنے یا پڑوسیوں کے ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ جاتے‘ہر ڈرامہ ایک معاشرتی سبق لئے ہوتا اور ڈرامے کے کردار اُس میں ایسی جان ڈالتے کہ ہر گھر کو یہ اپنی ہی کہانی معلوم ہوتی۔ وقت بدلا اور پاکستان کی حکومت نے ٹی وی کو پرائیوئٹ سیکٹر کے حوالے کر دیا‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی ثقافت اور تہذیب کے مطابق ڈراموں اور پروگراموں کوہی نشریات کاحصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو اس طرح پروان چڑھایا جائے کہ ان میں وہ تمام صفات ہوں جو کسی بھی قوم و ملک کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرے ، زبان و کلام میں شائستگی کا معیار وہ نہیں رہا جو ہمارے نشریاتی اداروں کاخاصہ تھا اب تو سیاسی اکھاڑے میں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے دیا گیا اور یہاں پر بھی ایسی فقرے بازی ہورہی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی، ایسے میں میڈیا کواحساس ذمہ داری کو مظاہرہ کرنا ہوگا۔