بریکنگ نیوز
Home / کالم / کشمیر کی آزادی اور پاکستان

کشمیر کی آزادی اور پاکستان


قوموں کی زندگی میں ستربرس کا عرصہ بہت کچھ کردکھانے کے لئے نہیں بلکہ ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے اہم ہوتا ہے۔ قیام سے جس عالمی مخالفت کا پاکستان کو سامنا رہا اُس میں بھارت پیش پیش ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ داخلی سکون اور امن و امان کا بھی دشمن ہے۔ بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لئے مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مگر پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا رکھنے والے غیور کشمیری عوام سینہ تان کر بھارتی سنگینوں کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے اِس مقصد کی خاطر جانیں نچھاور کرتے ہوئے دنیا کے سامنے بھارتی مظالم اجاگر کررہے ہیں۔ کشمیری عوام نے پاکستان کے سترویں یوم آزادی پر بھی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے اس کے ساتھ الحاق سے متعلق اپنی متعینہ منزل سے دنیا کو آگاہ کیا جبکہ بھارتی فوجوں نے ان کی آواز دبانے کے لئے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ان کے خلاف ریاستی ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن بھارت کے تسلط سے صرف کشمیری ہی نجات نہیں چاہتے بلکہ دیگر ایسی ریاستیں بھی ہیں جو بھارت سے علیحدگی چاہتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کی ستر سالہ تاریخ درحقیقت قومی سلامتی کے خلاف بھارتی گھناؤنی سازشوں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے اور دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل سے بھارت کے مسلسل گریز کی داستانیں بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان کے مرحلہ میں آزاد و خودمختار ریاست کشمیر کا تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دے کربھارتی ہندو رہنماؤں نے خود کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا۔

خود ہی اس تنازعہ کو لے کر بھارتی وزیراعظم نہرو اقوام متحدہ میں گئے اور جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی متعدد قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کا حق خودارادیت تسلیم کیا اور بھارتی حکمرانوں کو وادئ کشمیر میں استصواب کے اہتمام کی ہدایت کی تو بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہی منحرف ہوگیا جس کے بعد اس نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ طور پر اپنی ریاست کا درجہ دے دیا اور پھر اس پر اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی اختیار کرلی۔کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کی بھارتی چالبازیوں اور سازشوں کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے پاکستان اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورموں پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے آواز اٹھانے سے روکنے کے لئے 1972ء میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ شملہ معاہدہ کیا جس کے تحت مسئلہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ تنازعات باہمی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کا لالی پاپ دیا گیا اور پھر بھارت اس معاہدے کی راہ پر آنے سے بھی مکر گیا۔

کشمیری عوام نے بھارتی بدنیتی کو بھانپ کر ہی اپنے حق خودارادیت کے لئے ڈٹ گئے ہیں۔ کیا جو اپنے پیاروں کی لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر بھی اپنے حق خودارادیت کے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں صبر و استقامت کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔ اگر وہ بھارتی مظالم سہہ کر ستربرس سے بھارتی تسلط سے آزادی کی اپنی جدوجہد پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے آزادی کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا تو ان کے جذبوں کے خلاف آئندہ بھی کوئی بھارتی ہتھکنڈہ کارگر نہیں ہو سکے گا اور وہ آزادی کی تڑپ میں آگے بڑھتے ہوئے اپنی منزل حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارتی رہنماؤں سے کشمیری عوام کا حق خودارادیت خوشدلی سے قبول کرنے کا ہی متقاضی ہے جس پر کشمیری عوام ہی نہیں‘ پاکستان کی قوم بھی کسی قسم کی مفاہمت قبول و برداشت نہیں کرے گی۔ خطے کا امن اور بھارت کی سلامتی بھی اسمی میں مضمر ہے کہ وہ کشمیریوں کو طاقت کے زور سے محکوم رکھنے کی بجائے اُن کے حقوق کی ادائیگی کرے اور انہیں آزادی دے‘ جو خود اُس کی بقاء کے لئے بھی سودمند ثابت ہوگی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ذوالقرنین جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)