بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سیاسی جوڑ توڑ

سیاسی جوڑ توڑ


قومی وطن پارٹی کی علیحدگی کے بعد صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے خطرات کو ڈیفوز کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کامیاب سیاسی حکمت عملی اپناتے ہوئے اگر ایک جانب ان سے ناراض دو صوبائی وزراء شہرام خان ترکئی اور عاطف خان کو رام کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے قومی وطن پارٹی کے تین ارکان اسمبلی کو جس پر اسرار انداز میں اپنا ہمنوا بنایا ہے اس سے بھی وہ تمام خدشات ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں جو ان کی حکومت کو لاحق خطرات کے تناظر میں بڑی شد ومدسے بیان کئے جا رہے تھے۔ سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ پرویز خٹک کی حالیہ جارحانہ سٹریٹیجی کے پیچھے اصل محرک انکے اعصاب پر اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھ اور صوبائی حکومت کے خلاف متوقع عدم اعتماد کی قرارداد کا بوجھ تھا اور انھوں نے اس دباؤ کو کم کرنے کیلئے ہی جار حانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے جہاں خود کو جوڑ توڑ کا ماہر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہاں وہ یہ بات ثابت کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں کہ ان کا اپوزیشن کی کئی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں سمیت کئی منتخب ممبران اسمبلی کے ساتھ قریبی گہرے روابط اور مراسم ہیں اور آنے والے کسی بھی کڑے امتحان کی صورت میں یہ ممبران انکے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں گے ۔ پرویز خٹک چونکہ منجھے ہوئے تجربہ کار سیاستدان ہیں اسلئے انھوں نے اب تک نہ صرف قومی وطن پارٹی کی قیادت کے ساتھ اپنے رابطوں کو بحال رکھاہواہے بلکہ اپوزیشن کی کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کی روک تھام کیلئے وہ اپوزیشن کی تقریباًً تمام جماعتوں میں ہم خیال ممبران کوترقیاتی فنڈز سے نوازنے میں بھی سخاوت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں ۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نمبرز گیم میں ممکنہ رو وبدل کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی تعداد کے متعلق اب تک متضاد آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ شروع میں پی ٹی آئی کے حلقے نہ صرف پارٹی میں بغاوت کی اطلاعات کو رد کرتے رہے ہیں بلکہ وہ ناراض ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعدادصرف دو بیان کرتے رہے ہیں حالانکہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کم از کم دس اور پندرہ ممبران کے درمیان ہے جس میں حالات کے پلٹا کھاتے ہی مزید اضافہ کے امکانات بھی ظاہر کئے جاتے رہے ہیں ۔

دوسری جانب اس تمام صورتحال میں اگر کسی جماعت کو بادشاہ گر کا مقام حاصل ہے تو وہ پی ٹی آئی کی شروع دن سے اتحاد ی چلی آنے والی جماعت اسلامی ہے جسکے وزراء اور ممبران اسمبلی پر گزشتہ چار سالوں کے دوران نہ تو کرپشن کا کوئی الزام عائد کیا جا سکا ہے اور نہ ہی انکی کارکردگی اور پی ٹی آئی کے ساتھ انکی رفاقت کے حوالے سے کوئی سوال اٹھا یاگیا ہے ۔ صوبائی اسمبلی میں سات ممبران کے ساتھ اسے اگر ایک طرف حکومتی اتحادی کی حیثیت حاصل ہے تو دوسری جانب چونکہ جماعت اسلامی کا عوامی تاثر ایک اصولی جماعت کے طور پر مشہور ہے اور ماضی میں اسکے ممبران اسمبلی نے جوڑ توڑ اور فلور کراسنگ نیز غیر جمہوری اور غیر اخلاقی طور پر حکومتیں بنانے اور گرانے کے عمل سے ہمیشہ اپنے دامن کو بچاکر رکھا ہے اسلئے موجودہ صورتحال میں جہاں حکمران پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کی جانب سے کسی دباؤ اور بلیک میلنگ کا سامنا نہیں ہے وہاں اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ جماعت اسلامی محض ان کی خواہش کی تکمیل اور صوبے میں نوے کی دہائی کی لوٹ مار اور چانگامانگا کی سیاست کی واپسی کا حصہ بننے پر ہر گزآمادہ نہیں ہوگی۔

یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پی ٹی آئی نمبرز گیم کی تبدیلی کے عمل کو اگر روکنے میں ناکام رہی اور وزیراعلیٰ ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ نہ کر سکے تو ایسی صورت میں صوبے کا سیاسی نقشہ کیا بنے گا اور آیا ایسی کسی ممکنہ صورتحال میں اپوزیشن جواب تک کسی بھی اہم ایشو پر حکمران اتحاد کو کوئی خاص ٹف ٹائم دینے میں ناکام رہی ہے کیونکر اپنا اتحاد بر قرار کھ سکے گی اور کیا ایسی صورتحال میں اپوزیشن کی وہ جماعتیں جو اگلے عام انتخابات میں ابھی سے سولوفلائٹ کے اعلانات کر کے کسی دوسر ی جماعت کوکوئی اہمیت دینے کے لیئے تیار نہیں ہیں وہ ایسے وقت میں کیونکر اپناایک ایسا اتحاد بر قرار رکھ سکیں گی جسے اگر محبت کی شادی کی بجائے مجبوری کا بندھن قرار دیا جائے تو شاید بے جانہیں ہوگا۔