بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / جوش نہیں دانشمندی کی ضرورت

جوش نہیں دانشمندی کی ضرورت


صدر مملکت ممنون حسین قومی معاملات کو جوش کی بجائے دانشمندی سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں پرچم کشائی کی تقریب سے اپنے خطاب میں صدر مملکت کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں کسی نئی منزل کا مسافر بننے کی بجائے تجربے سے استفادہ کرنا چاہئے صدر مملکت کہتے ہیں کہ قانون کے احترام اور اصول پسندی کے ساتھ کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جاسکتے ہیں وہ اعتدال اور معقولیت پر زور دیتے ہیں ٗ صدر مملکت جوش کی بجائے دانشمندی کی ضرورت پر زور ایک ایسے وقت میں دے رہے ہیں جب ملک کی سیاسی فضاء تناؤ کے ساتھ انتہائی گرما گرمی کا شکار ہے سابق وزیر اعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ وہ ووٹ کا تقدس بحال کرانے کی خاطر جان لڑادیں گے ان کا کہنا ہے کہ 70سال سے جاری تماشہ بند نہ ہوا تو ملک حادثے سے دو چار ہو سکتا ہے ٗ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ نوازشریف کا انقلاب لانے سے متعلق دعویٰ بھونڈا مذاق ہے۔

ٗپیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ آئین کو کسی صورت کچلنے نہ دینے کا عزم کر رہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری آئین میں ترمیم کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی کشیدگی مناسب نہیں ٗوطن عزیز کو درپیش مشکلات سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے‘ معیشت کو مستحکم بنانے ٗچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے ثمرات سمیٹنے کے لئے منصوبہ بندی اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے دانشمندی کی ہی متقاضی ہیں اس وقت پاکستان کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبا ہے ملک کا عام شہری مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ٗ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور بے روزگاری چیلنج بن چکی ہے ٗ یہ سب فوری توجہ کے متقاضی کام ہیں ٗسیاسی اختلافات جمہوری عمل کاحصہ ضرور ہیں تاہم ہمارے ہاں ضرورت اہم امور پر ڈائیلاگ کی ہے سیاسی ڈائیلاگ ہمارے ہاں ماضی میں بھی ہوتے رہے جن کو عوامی سطح پر ہمیشہ سراہا گیایہی دانشمندی کا بہتر راستہ ہے تاکہ مسائل کو سلجھایاجاسکے۔

نظام کی درستگی

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ نوجوانوں نے نظام ٹھیک کرنے کیلئے تبدیلی کا ساتھ دیا ہے ‘ یوم آزادی کے موقع پر تقریب اور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کے وژن کے مطابق اپنے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور اَب مستقبل درخشاں نظر آرہا ہے ‘ وزیراعلیٰ کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ نوجوانوں نے تبدیلی کا ساتھ دیا‘ اُن کا یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ صوبے کی حکومت عمران خان کے وژن کی روشنی میں اہداف کے حصول میں کوشاں ہے تاہم اس سب کے ساتھ اس تلخ حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ عام شہری اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلی کا کوئی خوشگوار احساس نہیں پا رہا ‘ اس شہری کو تبدیلی اس صورت نظر آئے گی جب گھر سے نکلنے پر اسے میونسپل سروسز مل جائیں جب ٹریفک رواں ہو بیماری کی صورت میں ہسپتال جانے پر خدمات کا معیار درست ہو‘ مارکیٹ کنٹرول میں ہو ‘ بچوں کے لئے تعلیم کا بندوبست معیاری ہو اسے ہیلتھ اور ایجوکیشن میں ریفارمز سے متعلق اعداد وشمار سے دلچسپی نہیں نہ ہی تعلیم کے بجٹ کا حجم اس کی دلچسپی کا مرکز ہے اسے برسرزمین نتائج سے ہی تبدیلی کا احساس ہو گا‘ اس مقصد کے لئے حکومتی احکامات اور ان پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ باقاعدگی سے طلب کرکے اسے عوام کے سامنے لانا بھی ناگزیر ہے جس کیلئے وزیر اعلیٰ کو خصوصی احکامات جاری کرنا ہوں گے۔