بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نوجوانوں کو قومی تربیت دینے کیلئے قانون سازی شروع

نوجوانوں کو قومی تربیت دینے کیلئے قانون سازی شروع

پشاور۔ملک میں قدرتی آفات ،دہشتگردی اور بیرونی جارحیت کی صورت میں حالات کا نظم وضبط کے ساتھ سامنا کرنے اور ہنگامی صورت حال سے کامیابی کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لیے 16سال سے 25سال کے درمیان نوجوانوں کو لازمی قومی تربیت دلانے کے لیے قانون سازی کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں اور اس سلسلے میںآئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کردیاگیاہے اراکین قومی اسمبلی کشورزہرہ ،فوزیہ حمید ،محمد سلمان بلوچ اورمحبوب عالم کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل میں بعض آئینی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

جن میں کہاگیاہے کہ قدرتی آفا ت کی تباہی اور دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کوتیار کرنے کی غرض سے نظم وضبط کے تقاضوں کوپورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو ہنگامی حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ برآء ہونے کے لیے لازمی قومی تربیت دینے کی سفارش کی گئی ہے وفاقی حکومت سے کہاگیاہے کہ صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں میں انٹر یا اعلیٰ سطح پر لازمی تربیت کااہتمام کیاجائے سولہ سے پچیس سال تک کے نوجوانوں کو اس تربیت کاپابندبنایاجائے ۔

اور جو اس قانون کے نفاذ کے بعداس تربیت سے محروم ر ہ گئے ہوں ان اٹھارہ سے پچیس سال تک کے جوانو ں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اس تربیت کاانتظام کیاجائے بل کے محرکین کے مطابق ملک میں پے درپے قدرتی آفات ،رونما ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں ہنگامی صورت حال کاکامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے تمام نوجوانوں کو خصوصی تربیت دینے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے 8اگست کو پیش کیے گئے اس بل پر غور قومی اسمبلی کے اگلے سیشن میں متوقع ہے