بریکنگ نیوز
Home / صحت / بے خوابی کے شکار افراد کو سُلانے والا جادوئی لوشن

بے خوابی کے شکار افراد کو سُلانے والا جادوئی لوشن

لندن: راتوں کو بے خوابی کی تکلیف ان سے پوچھیں جو لاکھ کوشش کے باوجود میٹھی نیند کی نعمت سے محروم رہتے ہیں لیکن اب ایک نئی اور متنازع کریم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور اسے بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ اسے جسم اور ہاتھوں پر ملنے سے پرسکون نیند حاصل ہو سکتی ہے۔

ریڈاِٹ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کریم کے چرچے ہیں جسے ’سلیپی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر درجنوں افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کریم سے ان کی بے خوابی ختم ہو گئی ہے، ان میں سے بعض افراد کئی برس سے بے خوابی کے شکار تھے۔

سلیپی کریم کو لش کمپنی نے بنایا ہے جس کی ویب سائٹ پر 60 سے زائد افراد نے کریم سے بے خوابی دور کرنے کے اپنے تجربات بیان کئے ہیں۔ صارفین کے مطابق وہ کئی برس نیند سے محروم رہے تھے لیکن اب سلیپی کریم سے وہ سونے کے قابل ہو چکے ہیں۔

سلیپی کریم میں کوکو مکھن، دلیے کا باڈی لوشن، سیم کے بیج، لیونڈر آئل اور لنگ لنگ آئل ملایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پہلے اسے محدود تعداد میں تیار کیا گیا تھا لیکن عوام کی بے پناہ فرمائش کے بعد کمپنی نے اسے اپنی مستقل مصنوعات میں شامل کرلیا ہے۔

ایک صارف نے ویب سائٹ پر کہا کہ وہ بے خوابی کی وجہ سے شدید درد اور نفسیاتی عوارض کے شکار تھے لیکن سلیپی نے انہیں دہشتناک بے نیند راتوں سے نجات دلائی ہے۔  ایک اور صارف نے کہا کہ یہ نیند لانے والی ایک مؤثر لوشن ہے۔

کچھ لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ لوشن لگانے سے ان کا ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے اور وہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ وہ تناؤ دور کرنے والی ادویہ گزشتہ 11 برس سے استعمال کررہا ہے لیکن سلیپی کی خوشبو سے ڈپریشن دور ہوتا ہے اور وہ پرسکون انداز میں سوتے ہیں۔

ایک اور صارف نے کہا ہے کہ بدن کے اوپری حصے اور کنپٹیوں پر لگانے سے سکون ملا اور اس کی خوشبو نیند لانے کے لیے نہایت مؤثر ہے جس کے باعث اب راتوں کو گہری نیند حاصل ہورہی ہے۔

سلیپی کریم بچوں کے لیے بھی یکساں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ برطانوی شہر ایسیکس کی ایک خاتون نے کہا کہ ان کا 18 ماہ کا بچہ رات 6 مرتبہ بیدار ہوتا تھا اور جب اسے سلیپی لگائی گئی تب سے وہ روزانہ 14 گھنٹے تک بغیر جاگے سوتا رہتا ہے۔ خاتون نے اس لوشن کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین نے اس کریم کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے اسے انسانوں پر وسیع پیمانے پر آزمانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کریم کے اثرات اب بھی واضح نہیں ہو سکے ہیں۔