بریکنگ نیوز
Home / کالم / اک ذرا چھیڑےئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے

اک ذرا چھیڑےئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے

پشاور کے جانے پہچانے علاقے نشتر آباد کے مرکزی چوک سے چند قدم جنوب کی طرف کی سڑک پر ذرا سے فاصلے پر دو دہی بھلے والی ریڑھیاں کھڑی ہیں میں جب بھی ادھر سے گزرتا ہوں یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ ایک ریڑھی والے کے گرد خریداروں کا ایک ہجوم کھڑا ہوتا ہے جب کہ اسی طرح کی سجی سجائی دوسری ریڑھی کے پاس کوئی بھی نہیں ہوتا ۔ یہ عصر اور شام کے وقت ہی آ کر کھڑی ہوتی ہیں یہ وقت وہ ہوتا ہے جب اکثر لوگ گھروں کا رخ کرتے ہیں دیگر پرانے شہروں کی طرح پشاور کے مکین بھی عصر کی چائے کے ساتھ جہاں سموسے،امریتیاں اور پکوڑے شوق سے کھاتے ہیں وہاں دہی بھلے بھی ان کا من بھاتا کھا جا ہے۔ اس لئے شہر میں جا بجا شام کے وقت دہی بھلے کی ریڑھیاں سج جاتی ہیں لیکن پشاوری خوش خوراک ہیں اس لئے اپنے پسندیدہ کھانوں کے نام پر الم غلم بھی نہیں کھاتے یہی وجہ ہے کہ جہاں اچھا سموسہ،امرتی، پکوڑ ا، کچالو(پیڑا) ، چھولے،گول گپے اور دہی بھلے ملتے ہیں وہیں پہنچتے ہیں اور بھلے سے قطار میں کتنی ہی دیر کھڑا ہونا پڑے اچھی دکان یا ریڑھی سے خریدتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں ایجرٹن روڈ ( محمد علی روڈ) چاہ شہباز کے نکڑ پر ایک ڈرائی فروٹ والے کی دکان تھی نہ جانے وہ کہاں سے مونگ پھلی لاتا تھا کہ اتنی لمبی،موٹی اور چار چار گیریوں (مغز) والی مونگ پھلی کم از کم میں نے شہر کی کسی دکان پر کبھی نہیں دیکھی۔ اس کا علم مجھے ایک دن اس وقت ہوا جب کوچی بازار میں اپنے سسرال میں بیٹھا تھا کسی بچے کو مونگ پھلی کے لئے بھیجا گیا وہ جا کر لے آیا لفافہ کھلتے ہی جیسے سب نے بیک آواز کہا۔یہ تو سرور چاچے کی دکان کی نہیں ہیں ، میں حیران تھا کہ مونگ پھلی پر کیا مہر لگی ہے معلوم ہوا کہ بچے جلدی سے کسی دوسری دکان سے اٹھا لایا تھا،اسے دوبارہ بھیجا گیا اب کے جو مونگ پھلی لایا وہ کھانے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ،لمبی مگرفربہ اور سفید رنگت والی خوش ذائقہ مونگ پھلی بھری ہوئی ایسی کہ کوئی ایک بھی خالی نہ تھی،ویسے تو مونگ پھلی کھاتے ہوئے ۔

اگر ایک بھی دانہ گر جائے تو عجیب بے کیفی سی شروع ہو جاتی ہے خصوصاََ جب آپ کسی کے ہاں مہمان ہوں ان سے نظریں چراتے ہوئے کبھی جھولی میں کبھی زمین پر اس ایک دانے کو ڈھونڈتے رہتے ہیں، مگر سرور چاچے کی مونگ پھلی کے گرے ہوئے دانے کے لئے تو بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل بیٹھ کرصوفے کے نیچے سے ڈھونڈ نکالنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتا تھا۔ جانے کہاں گئے وہ د ن۔گویا کھانے کی چیز کوئی بھی ہو اس کی کوالٹی پر اس شہر خوباں کے باسی کوئی سمجھوتا نہیں کرتے ۔ اس لئے ساتھ ساتھ لگی ہوئی دہی بھلے کی ریڑھیوں میں سے ایک ریڑھی جس کے مالک ایک سفید ریش شخص تھے ،پر بہت رش اور دوسری ریڑھی جو ایک نوجوان کی ملکیت تھی اس پرخال خال لوگ جو یقیناََ جلدی میں ہوتے۔ مجھے کبھی لے جانے ہوتے تو میں اس نوجوان سے لے کر جاتا اور کبھی گھر میں کسی نے شکایت بھی نہیں کی کہ یہ ’’ سرور چاچا کی دکان والی نہیں ہے۔ لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ پہلی کی بجائے دوسری ریڑھی جو اکثر خالی رہتی اس پر بھیڑ لگی ہوئی مجھے تو خیر ادھر سے گزرنا تھا حیران ضرور ہوا مگرگزر گیا سوچا شاید اس پہلے والے کے پاس دہی بھلے ختم ہوں اور یار لوگوں نے ادھر کا رخ کر لیا ہو،پھر کچھ دن ادھر سے گزر نہیں ہوا۔تو ایک دن دوستِ عزیز جہاں زیب جہاں کا فون آیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ نشتر آباد کے دہی بھلے والی خالی ریڑھی پر اب خاصی رش ہوتی اور اب دوسری ریڑھی گاہگوں کا انتظار کرتی ہے۔ میں اور جہانزیب جہاں پہلے بھی کئی بار اس پر بات کر تے رہتے کہ آخر دہی بھلوں میں کیا ایسی مشکل اٹکل ہے جو ایک کو معلوم ہے اور دوسرا اس سے محروم ہے۔ میں نے کہا کہ جی ایک آدھ بار دیکھا ہے۔

کہنے لگا اس کی وجہ معلوم ہے میں نے کہا نہیں آپ کو معلوم ہے توآپ بتا دیں کہنے لگا میں ایک دن گیا تو جس ریڑھی پر وہ سفید ریش صاحب کھڑے ہوتے تھے وہ شاید بیمار ہو گئے ہیں اور کچھ روزسے نہیں آئے تھے، اس نوجوان ریڑھی والے نے کیا کیا کہ کہیں سے ایک سفید ریش بابا پکڑ لایا اور اپنی ریڑھی پر کھڑا کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری رش اس نے اپنی طرف کھینچ لی ۔ اب وہ پہلی ریڑھی والا اپنے بیمار والد یا چچا کو زبردستی واپس لے آیا ہے مگر شاید اب بہت دیر ہو گئی ہے، یہ واقعہ بھی کوئی زیادہ پرانا نہیں ہے نشتر آباد میں شاید اب بھی دہی بھلے کی دونوں ریڑھیوں پر شام سمے خریداروں کی بھیڑ ہو تی ہے مگر مجھے تو اس نوجوان کی ذہانت پر رشک آیا۔ اس نے اس دور میں وہ کام کیا جو آج چھوٹی سکرین پر کھلی ہوئی نجی چینلز کی کھڑکیوں کے چھوٹے بڑے اپنی ریٹنگز بڑھانے کے لئے آخری حدوں تک چلے جاتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا طریقۂ واردات ہے۔ سفید ریش بابوں کا واقعہ مجھے اس لئے بھی یاد آیا کہ پچھلے دنوں عائشہ نام کی ایک لڑکی نے اپنی ہی جماعت کے بڑے صاحب پر کچھ جھوٹے سچے الزامات لگائے،جسے فوراً مخالفین نے لاؤڈ کرنا شروع کردیا۔ اس سے پہلے سے تپی ہوئی جنگ میں خاصی تیزی آ گئی۔ چینلز کے مزے ہو گئے اور وہ لڑکی چینل چینل بولنے لگی۔ پہلے تو زبانی کلامی کہا جاتا رہا کہ اسے فلاں مخالف جماعت کی اشیرباد حاصل ہے مگر یہ لڑکی چپ نہ ہوئی تو بالآخر وہ ایک ایسی خاتون کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے جو گزشتہ دس برس سے منظرسے غائب تھی مگر کئی حوالوں سے اس کی ضرورت اس جماعت کو تھی جس پر الزام لگائے گئے تھے پھر مزے کی بات کہ اس لڑکی کانام بھی عائشہ ہی تھا۔گویا وہی سفید ریش بابوں کی کہانی اورپھر وہی ہوا اس نے بھی شکایات کی پوٹلی چینل چینل کھولی اور خوب بولی،شاید اسے سوچ کر غالب نے یہ شعر کہا تھا
پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھئے کیا ہو تا ہے