بریکنگ نیوز
Home / کالم / عجیب ملک انوکھے کام

عجیب ملک انوکھے کام


زرداری صاحب کی اچانک وطن واپسی کے مختلف معنی لئے جارہے ہیں خواجہ سعد رفیق کا یہ بیان کہ ’وہ بڑے ذہن اور فطین سیاستدان ہیں اور وہ اگر اپنے نونہال کو سمجھائیں تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں‘ بھی بڑا معنی خیز ہے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ(ن) لیگ اور پی پی پی میں زرداری کی سطح پر بیک ڈور چینل اب بھی میاں نوازشریف کے ساتھ چل رہا ہے اس وقت ان دونوں شخصیات اور ان کے کئی ساتھیوں کو مکافات عمل کا سامنا ہے اور یہ غم ان کو کھائے جارہا ہے کہ چونکہ دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور دونوں نے بشمول ان کی پارٹیوں کے بعض رہنماؤں کے بہتی گنگا میں اشنان کیا ہے اس لئے وہ قانون کی گرفت میں آکر کہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی نہ چلے جائیں ان کی دانست میں انکا آپس میں گرینڈ الائنس انکو موجودہ گرداب سے نکال سکتا ہے بلاول جب کبھی بھی کوئی ایسی بات کرتا ہے کہ جس پر زرداری کی ذہنی چھاپ نہیں ہوتی تو زرداری صاحب فوراً بیرون ملک سے دوڑ کر پاکستان آجاتے ہیں اور پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں پچھلی دفعہ بھی جب وہ پاکستان آئے تھے تو کیا ہوا تھا؟ یہی ناکہ پی پی پی کے چند سرکردہ رہنما جیسا کہ ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پی پی پی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے باپ بیٹے کی سیاسی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے اور سردست بلاول اس پوزیشن میں نظر نہیں آرہا کہ وہ اپنے والد کی سیاست سے انحراف کرکے اپنے لئے پارٹی کے اندر ایک نئی راہ متعین کرسکے تادم تحریر نیب سست روی کا شکار ہے اس نے ابھی تک فوری طور پر وہ ریفرنسز نہیں کھولے کہ جو اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فوراً کھولنے چاہئے تھے دروغ بر گردن راوی یہ افواہ بھی گشت کررہی ہے کہ نیب کے چیئرمین کو اکتوبر میں فرانس میں پاکستان کا سفیر بنایا جارہا ہے قارئین کی معلومات کیلئے عرض ہے کہ چین میں حکومت نے کرپشن کے خلاف جو سخت گیر مہم چلا رکھی ہے۔

اس میں اب تک سینکڑوں افراد کو پھانسی پر لٹکایا جاچکا ہے کہ جن میں چین کی ریلوے کا وزیر بھی شامل ہے ایک اڑتی اڑتی خبر یہ بھی ہے کہ بعض ٹھیکوں میں بعض پاکستانیوں نے بھی ڈنڈی ماری ہے اور یہ وہ ٹھیکے ہیں کہ جو پاکستان میں چین کی مالی امداد سے جاری ہیں پاکستانیوں کی اس کرپشن کو چینی افسروں نے چین میں پکڑا ہے کہ جہاں بعض چینیوں کو کمیشن میں ان کا حصہ بھجوایا گیا تھاشاہد خاقان عباسی نے بھاری بھر کم وفاقی کابینہ بناکر کوئی اچھا کام نہیں کیا وفاقی دارالحکومت میں آج کل وہ اشتہار زیر بحث ہے کہ یوم پاکستان کے موقع پر اخبارات میں شائع ہوا واقفان حال کے مطابق پہلے تو اس میں قائداعظم‘ فاطمہ جناح اور علامہ اقبال کے فوٹوؤں کیساتھ ساتھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تصویر بھی موجود تھی پر بعد میں پی آئی ڈی والوں نے وزیراعظم کی تصویر اس اشتہار سے نکلوا دی اور وہ اشتہار وزیراعظم کی تصویر کے بغیر شائع ہوا ملک کے سیاسی حلقوں کے مطابق وفاقی وزراء اب بھی جاتی عمرہ سے براہ راست ہدایات لے رہے ہیں اور حال ہی میں وزیراعظم کو مرکزی کابینہ کا دو مرتبہ اسلام آباد میں اجلاس محض اس لئے ملتوی کرنا پڑا کہ ان کی کابینہ کے اکثر وزراء اسوقت لاہور میں میاں نوازشریف کی زیر صدارت ایک اجلاس میں شرکت کررہے تھے اصل صورتحال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم اب بھی پس پردہ حکومت چلا رہے ہیں سول سوسائٹی کے کئی افراد نے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع تو کیا ہے کہ وہ اس بے قاعدگی کا نوٹس لیں انہوں نے عدالتوں سے سوال کیا ہے کہ کیا ایک سیاسی رہنما کہ جسے عدالت عظمیٰ نے نااہل قرار دیاہو وہ سرکاری کاموں میں مداخلت کرسکتا ہے ؟اب دیکھئے عدالتوں کا اس معاملے میں کیا فیصلہ آتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ واقعی عجیب ملک ہے یہ جو عجیب عجیب اور انہونے قسم کے کام ہورہے ہیں یہ صرف وطن عزیز میں ہی ہوسکتے ہیں ۔