بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی تاریخ: نا قابل فراموش واقعات!

سیاسی تاریخ: نا قابل فراموش واقعات!


جمہوریت کا درد رکھنے والے پانچ جولائی کی تاریخ نہیں بھول سکتے کیونکہ سال 1977ء کے اس دن ملک میں ضیاء الحق نے ایک قدآور سیاست دان اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی اور انہیں گرفتار کروایا۔ اسی طرح کی ایک اور کاروائی بارہ اکتوبر 1999ء کو بھی ہوئی تھی لیکن اس بار گرفتار کئے گئے وزیر اعظم‘ نواز شریف کو پھانسی دینے کے بجائے ملک بدر کر دیا گیا۔ جمہوریت کا درد رکھنے والے سترہ اگست کا دن بھی یاد رکھتے ہیں۔ہاں وہ اس تاریخ پر کسی قسم کی تقریبات تو منعقد نہیں کرتے لیکن ان کے نزدیک اس تاریخ کی اہمیت پانچ جولائی سے بھی زیادہ ہے‘ کچھ دل جلوں نے اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے اہم دن قرار دیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ تاریخ ایک پرانے زخم کے سوا اور کچھ بھی نہیں رہی۔اس تاریخ کو 1988ء کے ماہ اگست کی نسبت سے یاد کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے قریب ایک طیارے میں رکھی گئی آموں کی پیٹیاں پھٹ گئیں‘ دھماکے کے بعد اس طیارے نے آگ کے ایک بڑے گولے کی شکل اختیار کی اور آس پاس کے دیہاتیوں کو ایک لمحے کے لئے کچھ بھی سمجھ نہ آیا‘ آس پاس کے دیہات کے لوگ جہاں موجود تھے اٹھ کھڑے ہو گئے‘ انہیں سمجھ نہ آیا کہ آخر ہو کیا رہا ہے‘ اس دور میں نہ ’’ٹی وی‘‘ تھا نہ لال پٹی والے ٹکرز اور نہ ہی بریکنگ نیوز کا وجود تھا۔ خدا نے آج کے میڈیا کی عزت رکھ لی‘ اگر وہ اس وقت ہوتا تو ضیاء الحق کی مدح سرائی میں زمین و آسمان ایک کر دیتا لیکن خیر‘ چند گھنٹوں بعد دنیا کو معلوم ہوا کہ پانچ جولائی کا فاتح ضیاء الحق اپنے دو درجن سے زائد رفقاء سمیت اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ اس وقت کے سینٹ چیئرمین غلام اسحاق خان نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ’’اور طیارہ پھٹ گیا‘‘ کا اعلان کیا اور ملک کے قائم مقام صدر بن گئے۔ ضیاء الحق کی تدفین قومی اعزاز کے ساتھ شاہ فیصل مسجد سے متصل سبزہ زار میں کی گئی۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ ضیاء الحق صرف شاہ فیصل مسجد کے صحن میں مدفون ہیں لیکن انہیں کون سمجھائے کہ وہ تو میری بچی کے درسی کتاب میں موجود ہیں‘ میرے گھر جو اخبار آتا ہے وہ اس کی خبروں اور مضامین کی ترتیب میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے، میری گلی کے نکڑ پر چائے کے ڈھابے پر سیاسی گفتگو کرنیوالے لوگوں کے مباحثوں میں ملتا ہے‘ وہ ویگن میں سفر کرتے ہوئے ہر دوسرے مسافر کے اندر سے باہر نکل آتا ہے‘ وہ نوجوان کنڈکٹر جس نے نہ ضیاء الحق کو دیکھا نہ کبھی سُنا نہ اسے معلوم کہ وہ کیا تھا لیکن وہ بلواسطہ ’فکر ضیاء‘ کا اسیر نظر آتا ہے۔ وہ ملک کی پارلیمان میں بھی اپنی موجودگی کا شدت سے احساس دلاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بھٹو اور ضیاء الحق ایک دوسرے کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں لیکن پہلی بار کی طرح ہر بار پاکستان کی سیاست پر ضیاء الحق غالب آ جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بھٹو ایک سیاسی نظریہ ہے لیکن ضیاء الحق کا نظریہ اس ملک میں اپنی آب و تاب کیساتھ موجود ہے وہ صرف میاں نواز شریف ہی نہیں عمران خان میں بھی کسی نہ کسی طرح موجزن ہیں‘ جماعت اسلامی ہو یا لال حویلی والے شیخ‘ کون ہے جو ان کے نظریئے کا انکاری ہے‘ ہاں نام ہی نہیں لیتا لیکن عمل پورا کرتا ہے حالانکہ اب اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ خود اس نظریئے سے توبہ تائب ہوتی نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود ضیاء الحق کو کوئی شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان میں جولائی اور اگست نے سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ رواں سال اٹھائیس جولائی کو جب اس ملک کی سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے نااہل کیا تو اچانک میاں صاحب کے سامنے تینتیس سال کے سیاسی سفر کے تمام مناظر آ گئے۔ میاں صاحب بتیس سال گیارہ ماہ اُنتیس دن جس شخص کو اپنا اعلانیہ اور غیر اعلانیہ محسن قرار دیتے رہے وہ اسے اچانک کھٹکنے لگا۔ پاکستان کے آئین میں ضیائی باقیات کے وہ سب سے بڑے دشمن دکھائی دیئے۔ انہیں اچانک یاد آیا کہ پاکستان کے آئین میں ان کے محسن نے ایک ایسی شق ڈال دی تھی جو عوامی نمائندوں کے صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے‘ اس کی زد میں اس ملک کے بیس کروڑ عوام آ سکتے ہیں لیکن یہ پھندا جس کے گلے میں فٹ ہو اس کی گردن میں ڈال دیا جاتا ہے۔

میاں صاحب کو اس بات کا احساس اس وقت ہوا جب انکے قدموں تلے زمین نکل گئی ہے‘ اب انہیں ایک بڑے قومی ڈائیلاگ کی بات ذہن میں آئی ہے۔ انہیں اچانک یاد آیا ہے کہ اس ملک کے عوامی ووٹ کی عزت نہیں کی جاتی‘ وہ اس بار سب سے بڑے جمہوریت پسند ہونیکا دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن پانچ جولائی کے متاثرین اب ان کی بات سننے کو تیار نظر نہیں آتے ‘پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمان کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں جا رہے ہیں‘ ہمیں آئین و قانون‘ ذاتی عناد اور مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے سماجی معاشی اور سیاسی مفادات کی خاطر بہتر بنانے ہوں گے۔ پاکستان میں سترہ اگست بار بار آتا رہا اور پانچ جولائی اور بارہ اکتوبر تو آتے رہتے ہیں۔ سترہ اگست تو ایک عارضی جسمانی نجات کا دن تھا لیکن حتمی نجات اس وقت ممکن ہوگی جب ملک کے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے ورنہ سترہ اگست سوائے ایک تاریخ کے کچھ بھی نہیں ہوگا‘ جس کا تعلق کسی واقعے سے ہوسکتا ہے اور واقعات وقت کیساتھ ساتھ مٹتے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اسباق سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹرایاز خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)