بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئینی ترمیم

آئینی ترمیم


یوں تو یہ شقیں بڑی مدت تک آئین کا حصہ رہیں مگر ان کو لاگو نہیں کیا گیا۔الیکشن کمیشن نے بھی ان شقوں پر کبھی غور نہیں کیا ۔ شاید اس لئے کہ اس میں بیٹھے لوگ بھی اس شق پر پورا نہیں اترتے تھے ۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ اگر اس شق کا اطلاق صحیح معنوں میں کیا جائے تو اسمبلیاں اور سینٹ خالی ہو جائیں اسلئے کہ اس میں موجود شرائط پر ہمارے فارن ریٹرن اور آکسفورڈکے تعلیم یافتہ حضرات تو پورے نہیں اترتے۔ہم نے دیکھا کہ ہمارے سینیٹروں کے پاس ڈگریاں تو بار ایٹ لاء کی ہیں مگر ان کو سورہ اخلاص بھی نہیں آتی۔ تاہم اب جو ایک شخص پر اس کا اطلاق ہوا تو سب سیاستدانوں کو خیال آ گیا کہ ایسی شقیں تو ایک اسلامی ملک کے آئین میں ہونی ہی نہیں چاہئیں ۔ اس لئے کہ ایک ممبر قومی یا صوبائی اسمبلی یا ممبر سینٹ کوجو بار ایٹ لاء ہو اس کو کیا ضرورت ہے کہ وہ قرآن پاک ناظرہ ہی پڑھ سکے اس لئے کہ یہ تو ہم نے غریبوں کے لئے رکھ چھوڑاہے اور جس بھی پڑھے لکھے مسلمان کو قرآن پاک کا بھی علم ہو اسے تو ہم دقیانوس سمجھتے ہیں اور کوئی دقیانوس آکر ہماری اسمبلیوں کی رکنیت کیوں حاصل کرے۔ہم نے جو ایک پڑھے لکھے کا معیار بنا رکھا ہے وہ تو یہی ہے کہ وہ آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہو بلاسے اس میں وہ ساری قباحتیں موجود ہوں جو ایک مسلمان میں نہیں ہونی چاہئیں۔

ہم ایک عالم فاضل کو جو مدرسوں کافارغ التحصیل ہو پڑھا لکھا نہیں سمجھتے۔ ا نکے مقابلے میں ایک سکول کا میٹرک پاس پڑھا لکھا کہلائے گا۔ایک مدرسے کے فارغ التحصیل کو ہم اس وقت ڈگری ہولڈر نہیں کہتے کہ جب تک وہ میٹرک کی انگریزی کا امتحان پاس نہ کر لے۔مگر ہمارے لئے وہ شخص پڑھا لکھا مسلمان ہے کہ جو پی ایچ ڈی ہو مگر اسے اسلام کی الف ب بھی نہ آتی ہو۔ ہمارے آئین کی شق باسٹھ تریسٹھ کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے وقت جانچنے کی ضرورت ہے۔ہماری عدالت عظمیٰ کے ججز اس بات کا تو کہتے ہیں کہ اگر باسٹھ تریسٹھ لاگو کی جائے تو سوائے سراج الحق کے کوئی بھی رکن اسمبلی میں نہیں رہ سکتا مگر پھر یہ شق ایک وزیر اعظم پر لاگو کر کے اسے نا اہل بھی قرار دے دیتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ شق بلا تفریق سارے ممبران اسمبلی پر لاگو کی جائے تا کہ کم از کم ہمارے ایوانوں میں جو لوگ بیٹھے ہوں وہ تو آئین پر پورے اترتے ہوں۔اس لئے کہ جن لوگوں سے آئین کی وفاداری کو حلف لیا جاتاہے وہ خود آئین پر پورا ہی نہیں اترتے تو وہ آئین کی کیا پاسداری کریں گے یا وہ آئین کے مطابق کیا قانون سازی کر سکیں گے۔اب جو سلسلہ چل نکلا ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے اور اسمبلی میں ایسے لوگ آنے چاہئیں کہ جو باسٹھ تریسٹھ کو ختم کرنے کی بات نہ کریں بلکہ اس پر پورا اتر کے بتائیں۔ اب جو ایک شخص کو آئین کی خلاف ورزی پر نکالا گیا ہے ۔

تو سب کو خیال آ گیا ہے کہ یہ شقیں ایک آمر نے آئین میں ڈالی تھیں مگر یہ ایک اسمبلی سے پاس ہو کے آئی تھیں اس لئے ان کو نکالنے کی بجائے اس پر سختی سے عمل ہونا چاہئے اور یہ کام الیکشن کمیشن کا ہو کہ وہ امیدواروں سے صرف دعائے قنوت نہ سنے بلکہ امیدوار کی شخصیت کے سارے پہلوؤں کو دیکھے اسمبلی کے ممبران صرف ایسے حضرات ہوں جو باسٹھ تریسٹھ پر پورے اترتے ہوں۔اگر ایسا ہو تو کوئی بھی اس شق کو نکالنے کی کوشش نہیں کرے گااور ہمیں ایک صاف ستھرے معاشرے کی تشکیل میں آسانی ہو گی۔اس لئے کہ جب اشرافیہ میں ایسے لوگ ہوں گے کہ جن کے کردار پر انگلی نہ اٹھائی جا سکتی ہو تو ہی معاشرے میں بہتری آ سکتی ہے اور یہ بھی کہ اگر الیکشن کمیشن اور ہماری عدالتیں اس پر سختی کریں تو ایسا ممکن ہے۔ مسئلہ یہ ہو جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی شخص کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتا ہے تو عدالت اس کوبحال کر دیتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ آخری اور حتمی ہونا چاہئے جو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہ ہو سکے۔