بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / توقعات کا خون!

توقعات کا خون!

نواز شریف کا سیاسی مستقبل مخدوش ہے لیکن متعلقہ مسلم لیگی حلقے اس حقیقت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ شریف خاندان پر آنیوالی آفت سے شہباز شریف کتنے محفوظ رہ پائیں گے جبکہ این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخاب کے لئے نامزد اُمیدوار بیگم کلثوم الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل عازم برطانیہ ہو چکی ہیں! کسی انتخابی امیدوار کا الیکشن کمیشن کو خاطر میں نہ لانے کا ایسا پہلا واقعہ ہے جس سے عیاں ہے کہ لیگی قیادت کو اِس حقیقت کا ادراک ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا کہ قومی اداروں کو اپنا وجود ثابت کرنا ہے اور وہ ماضی کی طرح مزید احتراماً غلامی نہیں کر سکیں گے۔ نواز لیگ کو پانامہ کیس فیصلے کے بعد آنے والے دنوں میں نیب کے جن مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا‘ وہ بھی قطعی آسان ثابت نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں اٹھائیس جولائی کے پانامہ فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کردی گئی ہے جس کا متوقع حاصل یہ ہوگا کہ وہ فیصلہ جو عدالت نے عوامی اور ذرائع ابلاغ کے دباؤ میں عجلت میں تحریر کیا اور اسی وجہ سے ان تفصیلات کا احاطہ نہیں کیا گیا‘ جس نے ابہام پیدا کردیا لیکن نظرثانی میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا جس سے فیصلہ تبدیل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سپریم کورٹ میں نظرثانی سے بھی نوازلیگ کو ماسوائے مزید مایوسی اور ناامیدی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور رہی سہی سیاسی ساکھ بھی جانے کا امکان زیادہ ہے!

دوسری طرف عدالت عظمی کے ججوں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ’پانامہ کیس فیصلے‘ کی تفصیلات بیان نہیں کرسکتے جیسا کہ اِس پر اعتراض کرنے والے کھلم کھلا سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پانامہ کیس فیصلے کا دفاع کرنے میں تحریک انصاف اور ہم خیال جماعتیں میدان میں ہیں لیکن چونکہ ہر سیاسی جماعت کی کچھ نہ کچھ اَپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں‘ اِس لئے اُنہیں (سوفیصد) آزاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔قابل فہم ہے کہ سیاسی جماعتوں کا ہر معاملے کی طرح اس صورتحال میں بھی الگ الگ مؤقف ہے لیکن ذرائع ابلاغ جس انداز میں جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں اسکی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کی شدت میں اضافہ اور عوام میں غیر یقینی بڑھی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے توقعات تھیں کہ وہ کابینہ کے حجم کو چھوٹا رکھیں گے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین کی ضرورت انہیں پیش نہیں آئے گی لیکن یہ توقع بھی پوری نہیں ہوسکی اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور کیا ہوگا کہ ایک ایسا وزیراعظم جو ’ائربلیو‘ نامی نجی ہوائی جہاز راں ادارے کا بانی اور چیئرمین رہا ہو اور جسے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن کے سربراہ ہونے کا بھی تجربہ ہو‘ لیکن اسے شہری ہوابازی کے لئے مشیر کی ضرورت پڑ گئی ہے جسے کسی وفاقی وزیر کے مساوی مراعات دی جائیں گی!قومی وسائل کی بندربانٹ اور شاہانہ انتظامی اخراجات کی ایسی مثال شاید ہی کسی ترقی پذیر‘ غریب اور قرضدار ملک کو زیب دیتی ہو۔ وزیراعظم شاہد خاقان نے بظاہر یہ تاثر دیا ہے کہ وہ خودمختار ہیں اور اپنے معاملات میں مداخلت پسند نہیں کرتے جسکا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے پہلے ہی ہفتے اسحاق ڈار کو مختلف کمیٹیوں سے الگ کرکے دیاتاہم اسحاق ڈار کو الگ کرنے کا فیصلہ رائے ونڈ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں جو کسی بھی ایسے کردار کو پسندیدگی سے نگاہ سے نہیں دیکھتا جو ’پر پُرزے‘ نکال رہا ہو۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں زیادہ دلچسپ اور تہلکہ خیز واقعات کی دوسری قسط پیپلزپارٹی کے احتساب سے شروع ہوگی‘ جس کے لئے راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پہلے ہی آصف علی زرداری کے خلاف زیر التوا آخری کرپشن ریفرنس کی یومیہ بنیادوں پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کو نااہل قرار دینے کیلئے ایک مقدمہ بھی کافی ہوتا ہے۔ اگرچہ زرداری کے خلاف دیگر مقدمات پہلے ہی نمٹائے جا چکے ہیں لیکن اگر نیب ایک ہی مقدمے کی سماعت غیرجانبداری سے کرتی ہے تو یہ ایک بھی کافی ہوسکتا ہے! سردست نیب کی عدالت سابق صدر کیخلاف روزانہ کی بنیاد پر مبینہ طور پر پاکستان اور بیرون ملک غیر قانونی اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کرے گی یہ ریفرنس زرداری اور ان کی مرحوم اہلیہ بے نظیر بھٹو پر غیر قانونی ذرائع سے جائیداد بنانے کے الزام پر سال 2001ء میں دائر کیا گیا تھا‘ جسے بعد ازاں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت بند کردیا گیا۔

دسمبر دوہزارنو میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دیا اور اس آرڈیننس کے تحت نمٹائے جانے والے تمام کیسز دوبارہ کھولنے کا حکم صادر کیا لیکن دوہزار نو سے دوہزار سترہ تک نیب ان مقدمات کو دبائے رہی۔ آصف علی زرداری نے ایک موقع پر مقدمات سے بچنے کیلئے آئین کا سہارا بھی لیا اور بطور صدرآئین کے آرٹیکل 248 کے تحت حاصل استثنیٰ سے لطف اندوز ہوتے رہے! تاہم نیب اپریل دوہزارپندرہ سے مقدمات کھولے ہوئے ہے‘ جن پر سست روی سے کاروائی جاری تھی اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ یومیہ بنیادوں پر اس کیس کی سماعت ہوگی تاہم وکیل دفاع اور وکیل استغاثہ دونوں ہی اس کیس کی پوری قوت کیساتھ مزید پیروی کرنے کے خواہشمند دکھائی نہیں دے رہے۔ گرمجوشی ہے تو صرف اور صرف عوام میں جو چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل کی لوٹ مار کرنے والے ہر سیاسی و غیرسیاسی کردار کا بلاامتیاز اور بے رحم احتساب ہو۔