بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خطے کا منظرنامہ اور پاکستان کا موقف

خطے کا منظرنامہ اور پاکستان کا موقف

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے اہم امور پر وطن عزیز کی پالیسی اور حکومتی ترجیحات کے عکاس ہیں۔ اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات اور پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق امور کا جائزہ بھی لیاگیا۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی بریفنگ میں سامنے آنے والے نکات پاکستان کے اصولی موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ افغان صدر کو بھی آگاہ کیاجاچکا ہے کہ پاکستان مصالحتی عمل کیلئے پر عزم ہے اور چار فریقی مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کیلئے بھی اہم کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی کابل میں اپنے افغان ہم منصب کیساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق بھی کیاہے اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ خطے میں امن کیلئے افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔ اس موقع پر افغان تنازعے کے سیاسی حل کو ناگزیر بھی قرار دیاگیا۔

دریں اثناء دفتر خارجہ کے ترجمان اپنی بریفنگ میں امریکہ کی جانب سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دئیے جانے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو دہشت گرد قراردینا درست نہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم کا کشمیر کے حوالے سے بیان پاکستان کے موقف کی تائید ہے کہ کشمیر کا حل کشمیریوں پر تشدد اور مظالم سے نہیں ہوگابلکہ یہ پرامن طورپر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت شفاف استصواب رائے سے ممکن ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ایک بار پھر کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہے بھارت سی پیک کی مخالفت بھی کر رہا ہے۔ پاکستان بھارتی مداخلت کے حوالے سے اقوام متحدہ کو ڈوزیئر بھی جمع کراچکا ہے۔ افغانستان اور بھارت سے متعلقہ پاکستان کا موقف شفاف ہے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی سعی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے کوششیں کسی سے چھپی ہوئی نہیں اس سب کا تقاضا تو یہ ہے کہ دونوں ملک خود اس بات کا احساس کریں اور عالمی برادری بھی اپنا رسوخ استعمال کرے۔

مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو

اہم معاملات پر غور کیلئے پلیٹ فارم مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کردی گئی ہے۔ وزرائے اعلیٰ بین الصوبائی رابطوں کے وزیر اور خزانہ کیساتھ صنعت و پیداوار کے وزراء بھی کونسل کے رکن ہوں گے۔ وطن عزیز میں این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ مشترکہ مفادات کونسل میں بھی متعدد اہم معاملات طے ہونے کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم کونسل کی تشکیل نو کے ساتھ اس کا اجلاس بلانے اور حل طلب معاملات فوری طورپر نمٹانے کو بھی یقینی بنائیں۔ ضرورت این ایف سی ایوارڈ کی بھی ہے تو ضروری مرکز اور خیبرپختونخوا کے درمیان بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایاجات کی بروقت ادائیگی کا مسئلہ حل کرنے کی بھی ہے۔ ضرورت تیل اور گیس کی رائلٹی اور صوبے کو گیس سے بجلی پیدا کرنے کے لئے سہولیات دینے کی بھی ہے تاکہ یہاں کی صنعت کو فروغ حاصل ہو اور صوبے کی معیشت بحال کرنے میں مدد ملے۔