بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیب میں شریف خاندان سے تحقیقات کیلئے سوالنامہ تیار

نیب میں شریف خاندان سے تحقیقات کیلئے سوالنامہ تیار


اسلام آباد۔قومی احتساب بیورو(نیب )نے پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سے تفتیش کے لیے سوالنامہ تیار کرکے اسے چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بھجوادیا۔نیب کے اعلی افسران نے مشترکہ ٹیم کا تیار کردہ سوالنامہ معمولی ترمیم کے بعد منظور کرلیا جس کے بعد نیب لاہور ڈویژن اور نیب راولپنڈی ڈویژن کی مشترکہ ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ایک نجی ٹی وی کو حاصل ہونے والے نیب کے سوالنامے کے اہم نکات کے مطابق اس میں زیادہ تر شریف خاندان کے مالی معاملات کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

نیب نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں سے ہل میٹل کمپنی اور العزیزیہ اسٹیل ملز لمیٹڈ کے بارے میں سوالات کرے گا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز کی اراضی، مشینری کی خریداری اور انفرا اسٹرکچر کی تشکیل کے حوالے سے بھی سوالات کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ العزیزیہ اسٹیلز مل کے لیے مشینری دبئی سے منگوانے کے ثبوتوں کے حوالے سے بھی سوال کیے جائیں گے جبکہ اس سوالنامے میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کمپنی سے متعلق بھی سوال شامل ہوں گے۔جیسا کہ ہل میٹل کمپنی کیسے بنی اور اس کو بنانے کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ ہل میٹل کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کون کون شامل ہے؟ اور ہل میٹل کمپنی کے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات کہاں ہیں؟خیال رہے کہ ہل میٹل کمپنی کی تفتیش کے دوران نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے۔اس کے ساتھ ہی نیب حسین نواز کی جانب سے نواز شریف کو تحفے میں دی گی 84 کروڑ کی رقم کے بارے میں بھی تفتیش کرے گی۔یاد رہے کہ اس سے قبل نیب ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ نیب کے لاہور ڈیژن نے دو کیسز پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، ان کیسز میں ایون فیلڈ فلیٹس اور اسحق ڈار کے خلاف تحقیقات شامل تھیں۔

نیب ذرائع کے مطابق ایون فیلڈ فلیٹس انکوائری میں نواز شریف، مریم صفدر، حسن نواز اور حسین نواز ملوث ہیں، جنہیں اگست میں ہی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ادھر اسحق ڈار کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ہارٹ سٹون پراپرٹیز، قیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹن پلیس، کیونٹ سولین لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ، کومبر انکارپوریشن اور کیپیٹل ایف زیڈ ای سمیت 16 اثاثہ جات کی تفتیش کی جائے گی۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں جمعہ (18 اگست) کو طلب کیا تھا، تاہم شریف خاندان نے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔،ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے قریبی ساتھیوں اور قانونی ٹیم سے مشاورت کی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک سپریم کورٹ 28 جولائی کو سنائے جانے والے نااہلی کے فیصلے کے خلاف ان کی دائر کردہ نظرثانی اپیل کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک وہ نیب تحقیقات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

جمعرات کی شب جاری ہونے والے بیان میں حکمراں جماعت کے سینیٹر آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ نہ نواز شریف اور نہ ہی ان کے بیٹے جمعے کے روز نیب لاہور میں پیش ہوں گے۔ن کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے شریف خاندان کو نیب کا کوئی سمن موصول نہیں ہوا۔اس طرح ریفرنسز کے معاملے پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے طلب کیے جانے پر سابق وزیراعظم نواز شریف، حسن نواز، حسین نواز، اسحاق ڈار اور طارق شفیع جمعہ کو نیب لاہور میں پیش نہیں ہوئے۔پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تحت نیب کو 4 ریفرنسز 6 ہفتوں میں یعنی 8 ستمبر تک دائر کرنا ہیں۔نیب نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور انکی فیملی کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں اور جائیداد سے متعلق تفصیلات اکیس اگست تک طلب کی گئی ہیں۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

تحقیقاتی عمل کی نگرانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم راولپنڈی کے ڈائریکٹر رضوان احمد کریں گے جب کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے تحقیقات کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور میجر (ر) شہزاد سلیم کریں گے۔نیب نے ریفرنسز کے معاملے پر شریف فیملی سے جمعہ کو جواب طلب کیا تھا جب کہ طارق شفیع اور اسحاق ڈار کو بھی ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل جواب جمع کرائیں گے،ذرائع کے مطابق نیب لاہور میں جمعہ کوپیشی پر آنے والوں کو بعد کی تاریخ دی گئی اور شریف فیملی کی طلبی کے باعث معمول کے کیسز پر کارروائی بھی روک دی گئی تھی،عزیزیہ سٹیل مل کیس میں شریف خاندان کی جانب سے کوئی بھی فرد عدالت پیش نہیں ہوا ، کیس میں عدالت نے شریف خاندان اور ان کے وکلا کو بحث کیلئے طلب کر رکھا تھا لیکن دونوں میں سے کوئی بھی عدالت میں بیان دینے کیلئے حاضر نہ ہوسکا ۔ شریف خاندان کی پیشی کے پیش نظر سکیورٹی کیلئے عدالت کے باہر بھاری تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا لیکن شریف خاندان اور ان کے وکلا کے نہ آنے پر سکیورٹی اہلکاروں کو بھی واپس بھجوا دیا گیا