بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / پانامہ کیس فیصلے کے بعد

پانامہ کیس فیصلے کے بعد

نواز شریف چلے گئے شریف کی وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد وہ تما م جماعتیں جو نواز شریف کیخلاف پانامہ کیس کو ملک میں کرپشن مافیا کے خاتمے کی ابتداء قرار دے رہی تھیں اور جن کا تسلسل کیساتھ یہ دعویٰ تھا کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعدوہ بدعنوان اشرافیہ کیخلاف ایسی ہی مہم چلائیں گی جیسی انھوں نے میاں نواز شریف کیخلاف چلائی اور نہیں تو کم از کم پانامہ لیکس کے تناظر میں سامنے آنے والے دیگرانکشافات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے بھی سر گرم نظر آتیں ان انکشافات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے سپریم کورٹ میں اسی طرح کی در خواستیں فائل کی جاتیں جس طرح نوازشریف اور انکے اہل خانہ کیخلاف کی گئیں ‘اس کے برعکس کرپشن اور کرپٹ مافیا کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے اس علم کو لیکر پیش قدمی کرنے کے بجائے اپنی اپنی جگہ کھڑے ابھی تک اسی نواز شریف کو تختہ مشق بنانے میں وقت ضائع کرتے دکھائی دے رہے ہیں جسے سپریم کورٹ سے سزا دلوانے کا سہرا وہ بارہا اپنے اپنے سر باندھ چکے‘ اس تناظر میں تحریک انصاف کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن سب سے زیادہ حیرت جماعت اسلامی پر ہوتی ہے، خود کو مختلف حوالوں سے دیگر سیاسی جماعتوں سے ممتازگرداننے والی جماعت اسلامی پانامہ کیس میں اہم مدعی تھی تاہم جماعت اسلامی کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ آئینی پٹیشن کا اصل مقصد محض نواز شریف کو ٹارگٹ کرنا نہیں تھا بلکہ سکینڈل میں سامنے آنے والے انکشافات کی روشنی میں وسیع البنیاد تحقیقات کی راہ ہموار کرنا،ان تحقیقات کے نتیجے میں قومی دولت لوٹنے میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا او ر پھر ان سے دولت کی واپسی کو ممکن بنانا تھانواز شریف کی نااہلی کے بعد جماعت اسلامی ایک اسی فیصلے کا کریڈٹ لینے اور اسے سیاسی طورپر اپنے حق میں استعمال کرنے میں ایسی مصروف ہوئی کہ یوں لگتا ہے جیسے اسے اپنی آئینی پٹیشن کے اصل مقاصد یاد ہی نہیں ر ہے۔

، پانامہ کیس فیصلے کے بعدجماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق اگرچہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اوپر سے احتساب کا آغاز ہو گیا اب کرپٹ مافیا کے دیگر ارکان کی باری ہے لیکن اس جماعت نے تا حال سپریم کورٹ میں کوئی ایسی آئینی پٹیشن دائر نہیں کی جس کے تحت عدالت عظمیٰ کی توجہ جماعت کی اس استدعا کی جانب مبذو ل کرائی جائے جو متعلقہ قومی اداروں کوپانامہ لیکس سکینڈل کی مکمل اور جامع تحقیقات کی ہدایات دینے سے متعلق تھی البتہ یہ ضرور ہے کہ جماعت اسلامی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس امرپر اتفاق رائے ہوا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیاجائیگایہ سوال اہم ہے کہ جماعت اسلامی پانامہ کیس میں سامنے آنیوالی تمام شخصیات کے حوالے سے بلاامتیاز تحقیقات یقینی بنانے کیلئے سپریم کورٹ کے درواز ے پر پھر سے دستک دینے میں تا خیر کیوں کر رہی ہے ؟کرپٹ مافیا کیخلاف ایک نئے جذبے کیساتھ پھر سے سپریم کورٹ کا رخ کر کے قومی دولت لوٹنے والوں کو سزائیں دلوانے کی راہ ہموار کرنے میں سستی کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہاہے ؟

بدعنوانی کیخلاف عوامی مہم چلانے کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن عوامی جلسوں میں بدعنوانی اور بد عنوان عناصر کیخلاف بڑھ چڑھ کر تقاریر کر لینے سے نہ توکسی قومی لٹیرے کو انصاف کے کٹہرے میں لا یا جا سکتا ہے نہ ہی ملک میں بدعنوانی کی جڑیں کاٹنے کیلئے کوئی نظام وضع کیا جا سکتا ہے ‘ہاں یہ ضرور ہے کہ اس قسم کے فیصلوں سے پارٹی کیلئے عوامی حمایت اور سیاسی مقاصد کے حصول کی راہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے پانامہ لیکس میں منظر عام پر آنیوالی دیگر سینکڑوں شخصیات کا احتساب یقینی بنانے سے متعلق جماعت اسلامی کا دعویٰ فوری عملدرآمد کی راہ تک رہا ہے اور جماعت اسلامی کو اس دعوے کی تکمیل کیلئے عملی کردار سامنے لانا ہو گاآخر میں یہ کہتا چلوں کہ ہر وہ جماعت جو احتساب کے نعرے کومخصوص سیاسی مقاصد کے حصول تک محدود رکھے ہوئے ہے جان لے کہ اہل پاکستان کی آنکھیں اور کان کھلے ہیں وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں اور آنیوالے انتخابات میں ہر جماعت کے ہر عمل کا حساب لینے کیلئے پر بھی تول رہے ہیں۔