بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / چائناسٹڈی سنٹر

چائناسٹڈی سنٹر

چائنا سٹڈی سنٹر یونیورسٹی آف پشاور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور کا شمارنہ صرف جامعہ کے معروف اور تجربہ کار محققین اور نامور ماہرین تعلیم میں ہوتا ہے بلکہ وہ چونکہ خطے بالخصوص پاک چین تعلقات اور وسط ایشیائی ریاستوں کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اسلئے انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متذکرہ بالا امور کے حوالے سے بھی ایک اتھارٹی سمجھا جاتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور نے کولمبیایونیورسٹی امریکہ اورشی ہیزا یونیورسٹی سنکیانگ چین سے چینی امور میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کیساتھ ساتھ جامعہ پشاور کے ایریا سٹڈی سنٹر سے سیاسیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی اور کنفلیکٹ ریزولوشن کے مضمون میں سویڈن اور میڈی ایشن اینڈ ڈیموکریسی کے موضوع پر ہنگری سے پوسٹ گریجویٹ کے ڈپلوموں کے علاوہ سیاسیات ‘انگریزی ‘تاریخ اور فلسفے کے مضامین میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں‘آپکی28 سالہ پیشہ ورانہ علمی وتحقیقی خدمات اور خاص کر چینی علوم میں مہارت کو مدنظر رکھ کرہی جامعہ پشاور میں قائم ہونیوالے اپنی نوعیت کے منفرد تعلیمی اور تحقیقی ادارے چائنا سٹڈی سنٹر کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے یاد رہے کہ چائنا سٹڈی سنٹر‘پاک چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں قائم ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلااور اب تک کا واحد اور منفردعلمی ‘تحقیقی اور ثقافتی ادارہ ہے جس کا مقصد پاک چین تعلقات کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ مقامی طلباء وطالبات کوبڑے پیمانے پر چینی زبان سکھانے کے علاوہ علم وتحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ہے چین میں رائج سیاسی نظام‘ وہاں کی معاشرتی روایات اور ثقافت کے بارے میں مقامی لوگوں میں شعوروآگہی پیدا کرنے کیلئے چائنا سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام مختلف علمی ‘تحقیقی وثقافتی سرگرمیوں کو منظم کیا جائے گا ۔

چائنا سٹڈی سنٹر کے تحت مستقبل قریب میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کا قیام بھی ایک اہم منصوبہ ہے جسکی وساطت سے مقامی طلباء وطالبات کو چین کی تاریخ‘ زبان وثقافت اور اقتصادی وسماجی ترقی کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائیگی نیز مستقبل قریب میں یہاں چینی زبان اور چینی علوم سے متعلق ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ چائنا سٹڈی سنٹر کا قیام ایک کروڑ روپے کے ابتدائی فنڈسے چینی حکومت اور جامعہ پشاور کے درمیان طے پانیوالی مفاہمت کی ایک یاداشت کے تحت عمل میں لایاگیا ہے جس پر پاکستان میں چین کے سفیر اور جامعہ پشاور کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عابد نے دستخط کئے تھے۔ سنٹر کے اخراجات کوشفاف رکھنے کیلئے یونیورسٹی کے فنانس اور پراجیکٹ رولز کو فالو کیا جارہاہے جس کیلئے پراجیکٹ ہیڈ کے تحت سنٹر کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس کے مشترکہ دستخطوں سے الگ اکاؤنٹ کھولا گیا ہے سنٹرکیلئے جامعہ پشاورکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عابد نے نئے اکیڈمک بلاک میں15 کمروں پر مشتمل ایک الگ بلاک فراہم کیاہے جس میں دفاتر،کلاس رومز،لائبریری اور کانفرنس ہال کی تیاری اور تزئین وآرائش کا کام عنقریب شروع کیاجائے گا۔ سنٹر کے تحت اب تک 2قومی کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔

چین کی 7جامعات کیساتھ MOU’s سائن ہوئے ہیں۔ پانچ نئی جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخطوں کا عمل زیر تکمیل ہے جبکہ سنٹر نے حال ہی میں 6افراد کوچینی زبان سیکھنے کے لئے نامزد کیا ہے۔ فیکلٹی کے تین ممبران چین کی مختلف جامعات کا ایک ہفتہ کا مطالعاتی دورہ کر چکے ہیں۔پرو وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد عابداور ڈائریکٹر چائنا سٹڈی سنٹرپروفیسر ڈاکٹرزاہد انور چین کے تاریخی شہر شیان کی تاریخی یونیورسٹی نارتھ ویسٹ یونیورسٹی کے دورے کے علاوہ وہاں مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پرکام کے حوالے سے مفاہمت کی کئی یاداشتوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ چائنا سٹڈی سنٹر مستقبل قریب میں دنیا کی ابھرتی ہوئی سب سے بڑی اقتصادی طاقت کے ساتھ اس خطے کے روابط استوار کرنے اور اس ترقی سے اس خطے کومستفید کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔اس سنٹر کے قیام سے چینی سکالر ز اور محققین کے ساتھ چینی زبان کی ترویج واشاعت اور اقصادی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، چین کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوگااورتجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سی پیک سے خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں کو مستفید کروانے کا کا م ہماری قیادت کا ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ان وسائل کو خطے کی مجموعی ترقی کیلئے کس طرح انصاف اور سماجی ترقی کے تما م تقاضے بروئے کار لاتے ہوئے استعمال کرتی ہے اگر ہماری قیادت نے یہ سنہری موقع ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کو شش کی تو تاریخ اسے کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔