بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیاسماجی معاہدہ!

نیاسماجی معاہدہ!

سینٹ آف پاکستان نے بے مثال قدم اٹھاتے ہوئے‘ ریاستی اداروں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے بین الادارتی مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کے لئے چیئرمین سینٹ‘ آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ممبران کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے مدعو کرنے کاوہ ارادہ رکھتے ہیں۔ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی پُرخلوص کوششوں اور ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے اور جمہوری عمل کے استحکام کی خواہش پر کسی کو کوئی شک نہیں لیکن جمہوری بحران کو حل کرنے کیلئے یہ بالکل بھی کوئی ٹھوس تجویز نہیں ہے۔ آرمی چیف اور چیف جسٹس کو پارلیمنٹ میں بلا کر سینٹ چیئرمین کیا حاصل کرنے کی توقع کر رہے ہیں؟ کیا وہ یہ سوچتے ہیں کہ اس قسم کے بین الادارتی مذاکرات سے اداروں کے درمیان تناؤ کی اصل جڑ کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اداروں کے درمیان طاقت کا موجودہ عدم توازن درحقیقت طاقت کے نظام میں بگاڑ کی وجہ نہیں بلکہ بگاڑ کی ظاہری علامت ہے۔ ایک انتہائی تجربہ کار پارلیمانی رکن‘ جو ایسے محترم عہدے پر بھی فائز ہیں‘ ان سے ایسے بھولے پن کی توقع تو نہیں تھی۔ جہاں تمام تر گفتگو کا محور آئین کی ایک متنازعہ شق کے تحت نواز شریف کی نااہلی پر ہے‘ وہاں سیاسی نظام اور جمہوری عمل کو ٹھیس پہنچانے والے اصل مسائل مکمل طور پر نظر انداز ہو چکے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ اقدام حقیقی طور پر سویلین بالادستی کے قیام کے لئے ہے بھی یا نہیں۔ بلاشبہ‘ پارلیمنٹ کو ایسی کوئی بھی آئینی شق ختم کر دینی چاہئے جو نامناسب لگتی ہو لیکن صرف ایک شخص کو بچانے کی خاطر نہیں۔جمہوریت کو خطرہ سابق وزیر اعظم کیخلاف فیصلے سے نہیں بلکہ عدلیہ پر بے رحمانہ حملوں سے ہے۔

جج صاحبان پر جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی سازش کے الزامات انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم ہی تھے جنہوں نے تصادم کا راستہ اپنایا ہے۔ تو چیف جسٹس سے اب پارلیمنٹ میں کیا کہنے کی توقع ہے؟ کیا وہ پارلیمنٹ کو یہ یقین دلائیں کہ منتخب رہنما سزا سے مستثنیٰ ہوں گے بھلے ہی وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہوں یا جھوٹ بول رہے ہوں؟بلاشبہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے‘ عدلیہ کا نہیں۔ قانونی برادری سے تعلق ہونے کے ناطے معزز چیئرمین سینٹ کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ عدلیہ ریاست کی ایک الگ شاخ ہے اور یہ انتظامیہ یا پارلیمنٹ کے آگے جوابدہ نہیں ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کی بات درست ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہئے لیکن انہیں اس بات کااحساس بھی ہونا چاہئے کہ تقریباً غیر فعال پارلیمنٹ اور ادارتی فیصلہ سازی کے عمل کی غیر موجودگی کے باعث طاقت کا عدم توازن بڑھا ہے۔جب سیاسی رہنما اپنے ایسے مسائل بھی اعلیٰ عدلیہ لیکر پہنچتے ہیں جو پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں‘ تو ایسے میں عدلیہ پر الزام عائد کرنا انتہائی غیرمناسب ہے۔ پانامہ کیس بھی اس کی ہی ایک مثال ہے۔ چیف جسٹس کو طلب کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کو اپنی کوتاہیاں ختم کرنے پر دھیان مرکوز کرنا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سول ملٹری تعلقات ملک میں جمہوری عمل کو متاثر کرنے والے مسائل کی ایک بڑی وجہ رہے ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ ایک جمہوری نظام میں سویلین بالادستی نہایت ضروری ہے بلاشبہ طاقت کا موجودہ توازن فوج کے حق میں ہونا ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجوہات میں سے ایک ہے لیکن انتظامیہ اور پارلیمنٹ کو مؤثر بنانے کیلئے سیاسی نظام کے اندر چند بنیادی اصلاحات کے بغیر صورتحال کو تبدیل نہیں کیا جاسکتایہ مسئلہ آرمی چیف اور پارلیمنٹ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا افسوس کی بات ہے کہ موجودہ بحران پر اس کے تمام پہلوؤں کیساتھ نظر ثانی کرنے کے بجائے صرف نااہلی سے جڑے معاملات پر دھیان دیا جا رہا ہے۔

کوئی حیرانی نہیں ہوئی جب سبکدوش ہونیوالے وزیر اعظم نے بلاتاخیر سینٹ چیئرمین کے ارادے کا خیر مقدم کیا مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ آیا وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں پائیں گے۔سابق وزیر اعظم یہ بات قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتے کہ صرف انہیں ہی عہدے سے فارغ کیا گیا ہے جبکہ انکی پارٹی اب بھی اقتدار میں ہے اور نئے وزیر اعظم کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ یہ تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پارلیمنٹ اپنے پانچ سال مکمل کریگی۔ آئین پارلیمنٹ کی مدت تو متعین کرتا ہے لیکن وزیر اعظم کی نہیں۔ یہ بھی واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ صرف ذاتی سیاسی بقاء کی خاطر جمہوریت اور سویلین بالادستی کی بات کر رہے ہیں بلاشبہ جمہوری استحکام کیلئے سیاسی نظام میں اصلاحات کی اَشد ضرورت ہے جس کیلئے ہمیں بین الادارتی مذاکرات درکار نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے جو قانون کی بالادستی کی ضمانت دے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)